صحيح البخاري
كتاب الدعوات— کتاب: دعاؤں کے بیان میں
بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ غَلَبَةِ الرِّجَالِ: باب: دشمنوں کے غالب آنے سے اللہ کی پناہ مانگنا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ : " الْتَمِسْ لَنَا غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي " ، فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ يُرْدِفُنِي وَرَاءَهُ ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا نَزَلَ ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ ، وَالْحَزَنِ ، وَالْعَجْزِ ، وَالْكَسَلِ ، وَالْبُخْلِ ، وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ " ، فَلَمْ أَزَلْ أَخْدُمُهُ حَتَّى أَقْبَلْنَا مِنْ خَيْبَرَ ، وَأَقْبَلَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَدْ حَازَهَا ، فَكُنْتُ أَرَاهُ يُحَوِّي وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ أَوْ كِسَاءٍ ، ثُمَّ يُرْدِفُهَا وَرَاءَهُ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَدَعَوْتُ رِجَالًا ، فَأَكَلُوا وَكَانَ ذَلِكَ بِنَاءَهُ بِهَا ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا بَدَا لَهُ أُحُدٌ قَالَ : " هَذَا جُبَيْلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا ، مِثْلَ مَا حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ " .´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن ابی عمرو ، مطلب بن عبداللہ بن حنطب کے غلام نے بیان کیا ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اپنے یہاں کے لڑکوں میں سے کوئی بچہ تلاش کرو جو میرا کام کر دیا کرے ۔ چنانچہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنی سواری پر پیچھے بیٹھا کر لے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی گھر ہوتے تو میں آپ کی خدمت کیا کرتا تھا ۔ میں نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا اکثر پڑھا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن ، والعجز والكسل ، والبخل والجبن ، وضلع الدين ، وغلبة الرجال» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم و الم سے ، عاجزی و کمزوری سے اور بخل سے اور بزدلی سے اور قرض کے بوجھ سے اور انسانوں کے غلبہ سے ۔ “ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا رہا ۔ پھر ہم خیبر سے واپس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ واپس ہوئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے منتخب کیا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے عبا یا چادر سے پردہ کیا اور انہیں اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا ۔ جب ہم مقام صہبا پہنچے تو آپ نے ایک چرمی دستر خوان پر کچھ مالیدہ تیار کرا کے رکھوایا پھر مجھے بھیجا اور میں کچھ صحابہ کو بلا لایا اور سب نے اسے کھایا ، یہ آپ کی دعوت ولیمہ تھی ۔ اس کے بعد آپ آگے بڑھے اور احد پہاڑ دکھائی دیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۔ آپ جب مدینہ منورہ پہنچے تو فرمایا ” اے اللہ ! میں اس شہر کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی علاقہ کو اس طرح حرمت والا قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا تھا ۔ اے اللہ ! یہاں والوں کے مد میں اور ان کے صاع میں برکت عطا فرما ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
جس ناپسندیدہ شے کا اندیشہ ہو تو وہ هم اور مکروہ کام واقع ہو چکا ہو تو وہ حزن ہے۔
جابر و ظالم لوگوں کا کمزوروں پر غلبہ پا لینا غلبۃ الرجال ہے۔
یہ دعا بہت جامع ہے کیونکہ اس میں تمام رذیل اشیاء سے پناہ مانگی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام رذیل چیزوں سے محفوظ رکھے۔
آمین
اسی لڑائی میں حضرت صفیہ ؓ آپﷺ کے حرم میں داخل ہوئیں جو ایک خاندانی خاتون تھیں اس رشتہ سے اہل سلام کو بہت سے علمی فوائد حاصل ہوئے۔
روایت ہذا میں ایک دعائے مسنونہ بھی مذکور ہوئی ہے جو بہت سے فوائد پر مشتمل ہے جس کا یاد کرنا اور دعاؤں میں اسے پڑھتے رہنا بہت سے امور دینی اور دنیاوی کے لئے مفید ثابت ہوگا۔
حضرت صفیہ ؓکے تفصیلی حالات پیچھے مذکور ہوچکے ہیں اسی حدیث سے مدینہ منورہ کا بھی مثل مکہ شریف حرم ثابت ہوا۔
حضرت انس ؓ پہلے ہی سے آپ کی خدمت میں تھے مگر سفر میں ان کا پہلا موقع تھا کہ خدمت میں رہنے کا شرف حاصل ہوا۔
دعاء مسنونہ میں لفظ ھم اور حزن ہم معنی ہی ہیں۔
فرق یہ ہے کہ ھم وہ فکر جو واقع نہیں ہوا لیکن وقوع کا خطرہ ہے‘ حزن وہ غم و فکر جو واقع ہوچکا ہے۔
حضرت انس ؓ خدمت نبوی میں پہلے ہی تھے مگر اس موقع پر بھی ان کو ہمراہ لیا گیا ان کی مدت خدمت نو سال ہے‘ احد پہاڑ کے لیے جو آپﷺ نے فرمایا وہ حقیقت پر مبنی ہے ﴿اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَئ قَدِیْرٌ﴾ (البقرة: 20)
اس حدیث سے معلوم ہواکہ جہادی سفر اور غزوات میں بچوں کو خدمت کے لیے ساتھ لے جانا جائز ہے۔
امام بخاری ؒ کا یہی مقصد ہے،نیز بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت انس ؓنے رسول اللہ ﷺ کی خدمت کا آغاز غزوہ خیبر سے کیا۔
اس طرح انھوں نے صرف چار برس تک آپ کی خدمت کی،حالانکہ حضرت انس ؓ کا بیان ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ کی نو یا دس برس خدمت کی تھی۔
دراصل آپ نے عمومی خدمت کا آغاز تو مدینہ طیبہ میں آتے ہی کردیا تھا، البتہ غزوہ خیبر کے وقت خصوصی خدمت کا اہتمام فرمایا،یعنی حضرت ابوطلحہ ؓنے اس جہادی سفر میں خدمت کے لیے آپ کاتعین فرمایاتھا، عمومی خدمات تو پہلے ہی بجالاتے تھے۔
اس حدیث میں کئی ایک واقعات ہیں جن کی موقع ومحل کے مطابق تشریح ہوگی۔
بإذن اللہ تعالیٰ۔
مدینہ کی آب وہوا معتدل ہے اور وہاں کا پانی شیریں اور وہاں کی غذا بہترین اثرات رکھتی ہے۔
مدینہ بھی مکہ کی طرح حرم ہے جو لوگ مدینہ کی حرمت کا انکار کرتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں۔
اس بارے میں اہلحدیث ہی کا مسلک صحیح ہے کہ مدینہ بھی مثل مکہ حرم ہے۔
زادھا اللہ شرفا و تعظیما۔
حضرت صفیہ بنت حیی بن اخطب بن شعبہ سبط حضرت ہارون علیہ السلام سے ہیں۔
ان کی ماں کا نام برہ بنت سموال تھا۔
یہ جنگ خیبر میں سبایا میں تھیں۔
حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے درخواست کی مگر لوگوں نے کہا کہ یہ بنوقریظہ اور بنونضیر کی سیدہ ہیں۔
اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حرم میں داخل فرما لیں تو بہتر ہے۔
چنانچہ ان کو آزاد کر کے آپ نے ان سے نکاح کر لیا۔
ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا رو رہی ہیں۔
آپ نے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ مجھ کو حقیر سمجھتی ہیں اور اپنے لیے بطور فخر کہتی ہیں کہ میرا نسب نامہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے کیوں نہ کہہ دیا کہ تم مجھ سے کیوں کر بہتر ہو سکتی ہو۔
میرے باپ حضرت ہارون علیہ السلام اورمیرے چچا موسیٰ علیہ السلام اور میرے شوہر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
ایک دفعہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی نے حضرت فاروق رضی اللہ عنہ سے آ کر شکایت کی کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ سبت کی عزت کرتی ہیں اوریہود کوعطیات دیتی ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ا ن سے دریافت کر بھیجا۔
انہوں نے کہا کہ جب سے اللہ نے ہم کو جمعہ عطا فرمایا ہے میں نے سبت کبھی پسند نہیں کیا۔
رہے یہود ان سے میری قرابت کے تعلقات ہیں میں ان کو ضرور دیتی رہتی ہوں۔
پھر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ نے اس لونڈی سے پوچھا کہ اس شکایت کی وجہ کیا ہے؟ لونڈی نے کہا کہ مجھے شیطان نے بہکا دیا تھا۔
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے ان کو راہ اللہ آزاد کر دیا۔
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کا انتقال رمضان سنہ 50 ھ میں ہوا۔
ان سے دس احادیث مردی ہیں۔
ان کے ماموں رفاعہ بن سموال صحابی تھے۔
ان کی حدیث مؤطا امام مالک میں ہے۔
(رحمۃ للعالمین، جلد: دوم،222)
(1)
اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اور مدینہ طیبہ کو مکے کی طرح خیر و برکات سے مالا مال کر دیا۔
مدینہ طیبہ کی آب و ہوا بڑی معتدل، وہاں کا پانی میٹھا اور غذا بہترین اثرات رکھتی ہے۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس طویل حدیث سے یہ ثابت کیا ہے کہ کھجور، گھی اور پنیر سے حیس تیار کر کے بوقت ضرورت ولیمے میں کھلایا جا سکتا ہے۔
ولیمے میں گوشت کا ہونا ضروری نہیں۔
موقع و محل کے مطابق جو کچھ میسر ہو اسے پیش کر دیا جائے۔
واللہ أعلم
جس میں آدمی بوڑھا ہو کر بالکل بے عقل ہو جاتا ہے، ہر آدمی کی قوت اور طاقت پر منحصر ہے۔
کوئی خاص میعاد مقرر نہیں کی جا سکتی۔
زندگی کا فتنہ یہ ہے کہ دنیا میں ایسا مشغول ہو جائے کہ اللہ کی یاد بھول جائے فرائض اور احکام شریعت کو ادا نہ کرے، موت کا فتنہ سکرات کے وقت شروع ہوتا ہے۔
اس وقت شیطان آدمی کا ایمان بگاڑنا چاہتا ہے۔
دوسری حدیث میں دعا آئی ہے أعوذُ بِكَ من أن یتخبطنيَ الشیطانُ عندَ الموتِ۔
یعنی اے اللہ! تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ موت کے وقت مجھ کو شیطان گمراہ کردے۔
نکمی عمر سے مراد زندگی کا وہ حصہ ہے جس میں انسان بوڑھا ہو کر بے عقل ہو جاتا ہے، اس کے لیے کوئی خاص میعاد مقرر نہیں بلکہ ہر آدمی کی طاقت اور قوت پر منحصر ہے۔
ہوش و حواس اور عقل و شعور غائب ہو جاتے ہیں ایسی عمر میں پہنچنے سے بھی پناہ مانگنی چاہئے‘ ایسے ہی عاجزی ‘ کاہلی‘ بزدلی‘ زندگی اور موت کے فتنے اور قبر کا عذاب یہ سب ایسی ہیں کہ ہر مسلمان کو ان سے پناہ مانگنی ضروری ہے۔
1۔
اس حدیث کے مطابق انسان کو بزدلی سے پناہ مانگنی چاہیے کیونکہ بسا اوقات اس کے باعث وہ فتنہ ارتداد کا شکار ہوجاتا ہے۔
2۔
رذیل عمر یہ ہے کہ انسان بڑھاپے کے باعث بچپن کی سی عادات کی طرف لوٹ جاتا ہےاس کا جسم کمزور اور عقل ماؤف ہو جاتی ہے نیز بڑھاپےکی وجہ سے فرائض کی ادائیگی میں بھی کوتاہی آجاتی ہے حتی کہ انسان اپنی ذات کی خدمت سے بھی عاجز ہوجاتا ہے اور گھروالوں پر بوجھ بن جاتا ہے پھر گھر والے اس کے مرنے کی خواہش کرنے لگتے ہیں اگر گھر والے نہ ہوں تو فتنے اور آزمائش میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔
(1)
کم ہمتی، سستی اور بزدلی ایسی کمزوریاں ہیں جن کی وجہ سے آدمی وہ جراءت مندانہ اقدامات اور محنت و قربانی والے اعمال نہیں کر سکتا جن کے بغیر نہ دنیا میں کامرانی حاصل کی جا سکتی ہے اور نہ آخرت میں فوزوفلاح اور کامیابی سے ہمکنار ہو سکتا ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب چیزوں سے اللہ کی پناہ چاہتے تھے اور اپنے عمل سے امت کو بھی تلقین فرمایا کرتے تھے۔
(2)
موت و حیات کا فتنہ بھی بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔
زندگی کا فتنہ یہ ہے کہ انسان زندگی بھر مختلف امتحانوں کا شکار ہو جائے اور دنیا کا مال و متاع اور شہوات کا فتنہ اس قدر سخت ہے کہ اس سے بہت کم لوگ ہی محفوظ رہتے ہیں۔
زندگی کا سب سے بڑا فتنہ یہ ہے کہ انسان کا خاتمہ خراب ہو جائے۔
اسے موت کا فتنہ بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ یہ موت کے قریب واقع ہوتا ہے اور موت کے فتنے سے مراد عذاب قبر ہے۔
(فتح الباري: 412/2)
(1)
بزدلی اور سستی کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے کیونکہ سستی سے بزدلی جنم لیتی ہے، جبکہ سستی کا تعلق جسم سے ہے اور بزدلی دل سے تعلق رکھتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بزدلی سے پناہ مانگتے تھے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے بچوں کو ایسی دعائیں سکھانے کا بہت اہتمام کرتے تھے جن میں بزدلی اور سستی سے پناہ کا ذکر ہوتا۔
(صحیح البخاري، الجھاد والسیر، حدیث: 2822) (2)
بزدلی کی ضد شجاعت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر تھے جیسا کہ ایک حدیث میں اس کی صراحت ہے۔
(صحیح البخاري، الجھاد والسیر، حدیث: 2820)
بلکہ ایک موقع پر آپ نے فرمایا تھا: ’’تم مجھے کسی وقت بھی بخیل، جھوٹا یا بزدل نہیں پاؤ گے۔
‘‘ (صحیح البخاري، فرض الخمس، حدیث: 3148)
اس حدیث میں اگرچہ أرذل العمر کے الفاظ ہیں، لیکن الهرم سے مراد ارذل العمر ہی ہے، جس میں انسان بالکل ناکارہ ہو جاتا ہے۔
اس میں انسان کا حافظہ کمزور اور بعض دفعہ عقل بھی ماؤف ہو جاتی ہے۔
قرآن کریم میں ہے: ’’تم میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو بدترین عمر کی طرف لوٹا دیے جاتے ہیں۔
‘‘ (النحل: 170)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث کی بعض روایات میں الهرم کے بجائے أرذل العمر کے الفاظ ہیں۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4707)
عمر کی اس حد تک درازی کہ ہوش و حواس قائم رہیں اور آخرت کی کمائی کا سلسلہ جاری رہے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے لیکن ایسا بڑھاپا جو انسان کو بالکل ہی بے کار کر دے ایسی ہی چیز ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ مانگی ہے۔
حدیث میں هرم (بڑھاپے)
کا یہی درجہ مراد ہے۔
واللہ أعلم
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر و بیشتر ان الفاظ سے دعا مانگتے سنتا تھا: «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والبخل وضلع الدين وغلبة الرجال» " اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں فکرو غم سے، عاجزی سے اور کاہلی سے اور بخیلی سے اور قرض کے غلبہ سے اور لوگوں کے قہر و ظلم و زیادتی سے۔" [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3484]
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں فکر وغم سے، عاجزی سے اور کاہلی سے اور بخیلی سے اور قرض کے غلبہ سے اور لوگوں کے قہر وظلم وزیادتی سے۔
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والجبن والبخل وفتنة المسيح وعذاب القبر» " اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سستی و کاہلی سے، اور انتہائی بڑھاپے سے (جس میں آدمی ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے) بزدلی و بخالت سے اور مسیح (دجال) کے فتنہ سے اور عذاب قبر سے۔" [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3485]
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سستی و کاہلی سے، اور انتہائی بڑھاپے سے (جس میں آدمی ہوش وحواس کھو بیٹھتا ہے) بزدلی وبخالت سے اور مسیح (دجال) کے فتنہ سے اور عذاب قبر سے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من العجز، والكسل، والجبن، والبخل، والهرم، وأعوذ بك من عذاب القبر، وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» " اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی سے، سستی سے، بزدلی سے، بخل اور کنجوسی سے اور انتہائی بڑھاپے سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں عذاب قبر سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنوں سے ۱؎۔" [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1540]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخیلی اور بڑھاپے سے ۱؎۔" [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3972]
1) قرآن مجید میں وارد اور وہ لوگوں کو بخیلی کی تلقین کرتے ہیں۔
میں لفظ (بخل) با کے پیش اور خا کے سکون اور دونوں کے پیش کے ساتھ بھی پڑھا جاتاہے۔
2) (ھرم) عاجز کر دینے والا بڑھاپا کہ انسان ازحد عاجز ہوجائے۔
عقل وشعوراور صحت ساتھ چھوڑ جائے اور دوسروں کے لئے بھی بوجھ بن جائے۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرماتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والجبن والبخل وفتنة الدجال وعذاب القبر» " اے اللہ! میں کاہلی سے، بڑھاپے سے، بزدلی سے، کنجوسی سے، دجال کے فتنے سے، اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔" [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5453]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ دعائیں تھیں جنہیں آپ (پڑھنا) نہیں چھوڑتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والبخل والجبن والدين وغلبة الرجال» " اے اللہ! میں فکر و سوچ اور پریشانی سے، عاجزی و کاہلی سے، کنجوسی و بزدلی سے، قرض سے اور لوگوں کے غالب آنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔" ابوعبدالرحمٰن (نسائی) نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے اور ابن فضیل کی حدیث میں غلطی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5452]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من الفقر وأعوذ بك من القلة والذلة وأعوذ بك أن أظلم أو أظلم» " اے اللہ! میں فقر و غربت سے تیری پناہ مانگتا ہوں، کمی اور ذلت سے پناہ مانگتا ہوں، ظلم کرنے اور ظلم کیے جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔" (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں) اوزاعی نے حماد کی مخالفت کی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5462]
(1) سنن ابوداؤد مترجم‘ مطبوعہ دارالسلام‘ حدیث:1544 کے فائدے میں ابو عمار عمر فاروق سعیدی حفظہ اللہ رقم طراز ہیں کہ فقر دو طرح سے ہوتا ہے: مال کا یا دل کا۔ انسان کے پاس مال نہ ہو مگر دل کا غنی اور سیر چشم ہو تو یہ ممدوح ہے مگر اس کے بر عکس انسان "حرص" کا مریض ہو تو یہ بہت ہی قبیح خصلت ہے‘ نیز فقیری اور غریبی کی کیفیت کہ انسان ضروریات زندگی کے حصول سے محروم اور عاجز ہو کر لازمی واجبات کی ادا نہ کر سکے‘ اس سے رسول اللہ ﷺ نے پناہ مانگی ہے۔ قلت سے مراد اعمال خیر اور ان کے اسباب کی قلت ہے اور ذلت یہ کہ انسان عصیان (اللہ تعالی ٰ نافرمانی) کا مرتکب ہو کر اللہ کے سامنے رسوا ہو جائے یا لوگوں کی نظروں میں اس کا وقار نہ رہے کہ اس کی دعوت ہی نہ سنی جائے۔اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ اسی طرح انسان کا اپنے معاشرے میں ظالم بن جانا یا مظلوم بن جانا‘ کوئی بھی صورت ممدوح نہیں۔
(2) فقر سے مراد وہ فقر بھی ہو سکتا ہے جس سے کفر اور گمراہی کا خطرہ ہو کیونکہ عوام الناس کے لیے فقر گمراہی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کے لیے مالی فقر ایک نعمت ہے۔ آپ کی دعائیں دراصل امت کے لیے تعلیم ہیں۔ یا فقر سے مراد جسے انسان برداشت نہ کر سکے اور دست سوال دراز کرنے پر مجبور ہو جاۓ۔ فقر سے فقرقلب بھی مراد ہو سکتا ہے جیسا کہ گزشتہ سطور میں ذکر ہوا۔
(3) قلت سے مراد افراد بھی ہو سکتی ہے اور قلت مال بھی جسے اوپر فقر کہا گیا ہے ورنہ کثرت مال تو بسا اوقات گمراہی کا سبب بن جاتی ہے۔ ذلت سے مراد لوگوں کا غلبہ ہے کہ آدمی اپنا حق بھی حاصل نہ کر سکے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے ‘حدیث:5451۔
(4) اس حدیث میں ہر بعد والا لفظ پہلے کا نتیجہ ہے۔ فقر سے قلت پیدا ہوتی ہے‘ قلت ذلت کو جنم دیتی ہے اور ذلت انسان کو مظلوم بنا دیتی ہے۔ یا وہ تنگ آمد بجنگ آمد کے اصول پر ظالم ڈاکو بن جاتا ہے۔ نعوذ بالله من ذلك
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کرتے تو فرماتے: «اللہم إني أعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والبخل والجبن وضلع الدين وغلبة الرجال» " اللہ! میں حزن و ملال، رنج و غم، عاجزی و کاہلی، کنجوسی و بزدلی، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔" ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: سعید بن سلمہ ضعیف ہیں ۱؎۔ ہم نے ان کی روایت اس لیے بیان کی ہے کہ اس کی سند (ایک را [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5455]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: " میری خدمت کے لیے اپنے لڑکوں میں سے ایک لڑکا تلاش کرو "، تو ابوطلحہ مجھے اپنے پیچھے بٹھائے ہوئے لے کر نکلے۔ چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، جب جب آپ قیام کرتے میں اکثر آپ کو کہتے ہوئے سنتا: «اللہم إني أعوذ بك من الهرم والحزن والعجز والكسل والبخل والجبن وضلع الدين وغلبة الرجال» " اے اللہ! میں بڑھاپے سے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5505]
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں تمہیں وہی سکھاتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سکھاتے تھے، آپ فرماتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من العجز والكسل والبخل والجبن والهرم وعذاب القبر اللہم آت نفسي تقواها وزكها أنت خير من زكاها أنت وليها ومولاها اللہم إني أعوذ بك من قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع وعلم لا ينفع ودعوة لا يستجاب لها» " اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں، عاجزی و مجبوری اور بے بسی سے، کاہلی سے، بخیلی و کنجوسی سے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5460]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ دعائیں تھیں جنہیں آپ (پڑھنا) نہیں چھوڑتے تھے: آپ فرماتے: «اللہم إني أعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والبخل والجبن وغلبة الرجال» " اے اللہ! میں فکر و سوچ اور پریشانی سے، عاجزی و سستی سے، کنجوسی و بزدلی سے اور لوگوں کے غالب آنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔" [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5451]
(2) لوگوں کے غلبے سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص لوگوں کے لیے اضحوکہ اور کھلونا بن جائے یا لوگوں کے ستم کے لیے تختہ مشق بن جائے کہ جو شخص چاہے‘ اسے ذلیل کرنے لگ جائے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من عذاب القبر وفتنة النار وفتنة القبر وعذاب القبر وشر فتنة المسيح الدجال وشر فتنة الغنى وشر فتنة الفقر اللہم اغسل خطاياى بماء الثلج والبرد ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس اللہم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والمغرم والمأثم» " اے اللہ! میں قبر کے عذاب، جہنم کے فتنے، قبر کے فتنے، قبر کے عذاب، مسیح دجال کے فتنے ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5479]