صحيح البخاري
كتاب الدعوات— کتاب: دعاؤں کے بیان میں
بَابُ رَفْعِ الأَيْدِي فِي الدُّعَاءِ: باب: دعا میں ہاتھوں کا اٹھانا۔
حدیث نمبر: 6341
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : وَقَالَ الْأُوَيْسِيُّ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، وَشَرِيكٍ ، سَمِعَا أَنَسًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ .مولانا داود راز
´ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے کہا مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید اور شریک بن ابی نمر نے ، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اتنے اٹھائے کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الدعوات / حدیث: 6341
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
6341. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اس قدر بلند کیے کہ میں نے آپ کی دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6341]
حدیث حاشیہ: حضرت خالد نے ایک غزوہ میں بنو خزیمہ کے لوگوں کو مار ڈالا تھا۔
حالانکہ وہ ''صبانا صبانا'' کہہ کر اسلام قبول کر رہے تھے۔
مگر حضرت خالد نہ سمجھ سکے اور ان کو قتل کر دیا جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت خفگی کا اظہار فرمایا اور اللہ کے ساتھ اس سے بیزاری ظاہر فرمائی جو یہاں مذکور ہے۔
حالانکہ وہ ''صبانا صبانا'' کہہ کر اسلام قبول کر رہے تھے۔
مگر حضرت خالد نہ سمجھ سکے اور ان کو قتل کر دیا جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت خفگی کا اظہار فرمایا اور اللہ کے ساتھ اس سے بیزاری ظاہر فرمائی جو یہاں مذکور ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6341 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6341. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اس قدر بلند کیے کہ میں نے آپ کی دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6341]
حدیث حاشیہ:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے وقت ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے، البتہ دعائے استسقاء میں اس قدر ہاتھ اٹھاتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی۔
(صحیح البخاري، الاستسقاء، حدیث: 1031)
اس حدیث سے بعض اہل علم نے یہ مسئلہ کشید کیا ہے کہ استسقاء کی دعا کے علاوہ کسی موقع پر ہاتھ نہیں اٹھانے چاہئیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے ان کی تردید میں یہ عنوان اور مذکورہ حدیث پیش کی ہے کہ دعائے استسقاء میں ہاتھوں کی ایک خاص کیفیت ہوتی ہے کہ ہاتھوں کی پشت آسمان کی طرف اور اندرونی حصہ زمین کی طرف ہوتا ہے۔
اس کیفیت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں کو مبالغے کی حد تک اوپر اٹھاتے تھے حتی کہ انہیں اپنے منہ کے برابر کر لیتے۔
اس سے مراد مطلق طور پر ہاتھ اٹھانے کی نفی نہیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ایسی متعدد احادیث کا حوالہ دیا ہے جن میں دعا کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اٹھانے کا ذکر ہے۔
(فتح الباري: 171/11)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے وقت ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے، البتہ دعائے استسقاء میں اس قدر ہاتھ اٹھاتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی۔
(صحیح البخاري، الاستسقاء، حدیث: 1031)
اس حدیث سے بعض اہل علم نے یہ مسئلہ کشید کیا ہے کہ استسقاء کی دعا کے علاوہ کسی موقع پر ہاتھ نہیں اٹھانے چاہئیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے ان کی تردید میں یہ عنوان اور مذکورہ حدیث پیش کی ہے کہ دعائے استسقاء میں ہاتھوں کی ایک خاص کیفیت ہوتی ہے کہ ہاتھوں کی پشت آسمان کی طرف اور اندرونی حصہ زمین کی طرف ہوتا ہے۔
اس کیفیت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں کو مبالغے کی حد تک اوپر اٹھاتے تھے حتی کہ انہیں اپنے منہ کے برابر کر لیتے۔
اس سے مراد مطلق طور پر ہاتھ اٹھانے کی نفی نہیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ایسی متعدد احادیث کا حوالہ دیا ہے جن میں دعا کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اٹھانے کا ذکر ہے۔
(فتح الباري: 171/11)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6341 سے ماخوذ ہے۔