صحيح البخاري
كتاب الاستئذان— کتاب: اجازت لینے کے بیان میں
بَابُ الْخِتَانِ بَعْدَ الْكِبَرِ وَنَتْفِ الإِبْطِ: باب: بوڑھا ہونے پر ختنہ کرنا اور بغل کے بال نوچنا۔
حدیث نمبر: 6298
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ بَعْدَ ثَمَانِينَ سَنَةً ، وَاخْتَتَنَ بِالْقَدُومِ مُخَفَّفَةً " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، وَقَالَ : بِالْقَدُّومِ وَهُوَ مَوْضِعٌ مُشَدَّدٌ .مولانا داود راز
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ابراہیم علیہ السلام نے اسی ( 80 ) سال کی عمر میں ختنہ کرایا اور آپ نے «قدوم".» ( تخفیف کے ساتھ ) ( کلہاڑی ) سے ختنہ کیا ۔ “ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے مغیرہ نے بیان کیا اور ان سے ابوالزناد نے «بالقدوم.» ( تشدید کے ساتھ بیان کیا ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6298. حضرت ابو ہریرہ ؓ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حضرت ابراہیم ؑ نے اَسّی سال کی عمر میں اپنا ختنہ کیا اور تیشے سے کیا ایک روایت میں قدوم دال مشدد کے ساتھ مروی ہے۔ اس کے معنیٰ ہیں کہ انہوں نے قدّوم جگہ میں اپنا ختنہ کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6298]
حدیث حاشیہ:
امام بخاری رحمہ اللہ کے عنوان سے معلوم ہوتا ہے کہ ختنہ کرنا واجب ہے کیونکہ عمر کے اعتبار سے بڑا ہونے کے بعد بھی یہ حکم ساقط نہیں ہوتا، چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسّی (80)
سال کی عمر میں ختنہ کیا، حالانکہ اس عمر میں ختنہ کرنے سے تکلیف ہوتی ہے۔
اگرچہ یہ واجب نہ ہوتا تو عمر کے اسے حصے میں وہ ختنے کی تکلیف گوارا نہ کرتے، اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور اسلام قبول کیا، آپ نے اسے فرمایا: ’’کفر کے بال اتار پھینکو اور اپنا ختنہ کراؤ۔
‘‘ (سنن أبي داود، الطھارة، حدیث: 356)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اس کے وجوب کو بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 106/11)
امام بخاری رحمہ اللہ کے عنوان سے معلوم ہوتا ہے کہ ختنہ کرنا واجب ہے کیونکہ عمر کے اعتبار سے بڑا ہونے کے بعد بھی یہ حکم ساقط نہیں ہوتا، چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسّی (80)
سال کی عمر میں ختنہ کیا، حالانکہ اس عمر میں ختنہ کرنے سے تکلیف ہوتی ہے۔
اگرچہ یہ واجب نہ ہوتا تو عمر کے اسے حصے میں وہ ختنے کی تکلیف گوارا نہ کرتے، اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور اسلام قبول کیا، آپ نے اسے فرمایا: ’’کفر کے بال اتار پھینکو اور اپنا ختنہ کراؤ۔
‘‘ (سنن أبي داود، الطھارة، حدیث: 356)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اس کے وجوب کو بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 106/11)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6298 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3356 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3356. حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیم ؑ نے اپنا ختنہ خود ایک بسولے سے کیا تھا جبکہ آپ اسی(80) برس کے تھے۔‘‘ ایک روایت میں قدوم کا لفظ دال کی تخفیف کے ساتھ آیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3356]
حدیث حاشیہ: اسی عمر میں ان کو ختنے کاحکم آیا، استرہ پاس نہ تھا اس لیے حکم الٰہی کی تعمیل میں خود ہی بسولے سے ختنہ کرلیا۔
ابویعلیٰ کی روایت میں اتنی صراحت ہے۔
بعض منکرین حدیث نے اس حدیث پر بھی اعتراض کیا ہے جو ان کی حماقت کی دلیل ہے۔
جب ایک انسان خود کشی کرسکتا ہے۔
خود اپنے ہاتھ سے اپنی گردن کاٹ سکتا ہے تو حضرت ابراہیم کا خود بسولے سے ختنہ کرلینا کون سا موجب تعجب ہے۔
اور اسی سال کی عمر میں ختنے پر اعتراض کرنا بھی حماقت ہے جب حکم الٰہی ہوا، اس کی تعمیل کی گئی۔
منکرین حدیث محض عقل سے کورے ہیں۔
تشریح: حضرت ابراہیم ؑ کو اسی عمر میں ختنے کا حکم آیا، اس وقت استرہ ان کے پاس نہ تھا۔
تاخیر مناسب نہیں سمجھی اور اسی صورت میں حکم الٰہی ادا کیا، ابویعلیٰ کی روایت میں اس کی صراحت موجو دہے۔
عبدالرحمن بن اسحاق کی روایت کو مسدد نے اپنی مسند میں اور عجلان کی روایت کو امام احمد نے اور محمد بن عمرو کی روایت کو ابویعلیٰ نے وصل کیا ہے۔
ابویعلیٰ کی روایت میں اتنی صراحت ہے۔
بعض منکرین حدیث نے اس حدیث پر بھی اعتراض کیا ہے جو ان کی حماقت کی دلیل ہے۔
جب ایک انسان خود کشی کرسکتا ہے۔
خود اپنے ہاتھ سے اپنی گردن کاٹ سکتا ہے تو حضرت ابراہیم کا خود بسولے سے ختنہ کرلینا کون سا موجب تعجب ہے۔
اور اسی سال کی عمر میں ختنے پر اعتراض کرنا بھی حماقت ہے جب حکم الٰہی ہوا، اس کی تعمیل کی گئی۔
منکرین حدیث محض عقل سے کورے ہیں۔
تشریح: حضرت ابراہیم ؑ کو اسی عمر میں ختنے کا حکم آیا، اس وقت استرہ ان کے پاس نہ تھا۔
تاخیر مناسب نہیں سمجھی اور اسی صورت میں حکم الٰہی ادا کیا، ابویعلیٰ کی روایت میں اس کی صراحت موجو دہے۔
عبدالرحمن بن اسحاق کی روایت کو مسدد نے اپنی مسند میں اور عجلان کی روایت کو امام احمد نے اور محمد بن عمرو کی روایت کو ابویعلیٰ نے وصل کیا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3356 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3356 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3356. حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیم ؑ نے اپنا ختنہ خود ایک بسولے سے کیا تھا جبکہ آپ اسی(80) برس کے تھے۔‘‘ ایک روایت میں قدوم کا لفظ دال کی تخفیف کے ساتھ آیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3356]
حدیث حاشیہ:
1۔
امام بخاری ؒنے خود وضاحت کی ہے کہ قدوم دال کی تشدید کے ساتھ ایک جگہ کا نام ہے۔
(صحیح البخاري، الاستئذان، حدیث: 6298)
البتہ صحیح مسلم کی تمام روایات میں یہ لفظ تخفیف کے ساتھ مروی ہے۔
(صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 6141(2370)
جس کے معنی ہیں: بسولا۔
ان دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ ممکن ہے حضرت ابراہیم ؑ اس حکم کے وقت مقام قدوم میں ہوں اور وہیں آپ نے بسولے کے ساتھ تعمیل حکم کی ہو۔
2۔
مقام غور ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اسی برس کے ہیں، اوراپنے گھر میں نہیں بلکہ کسی دوسرے مقام پر اپنا ختنہ کرنے کا انھیں حکم ملتا ہے، پھر ختنہ کے لیے وہاں کوئی استرا وغیرہ موجود نہیں، تعمیل حکم کے لیے بسولے کے ساتھ خود ہی نازک عضو کے کچھ حصے کو کاٹ دیتے ہیں جس کی ٹیس دیر تک محسوس ہوتی رہتی ہے۔
لیکن منکرین حدیث اس کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟ جب انسان خود کشی کرسکتا ہے خود اپنے ہاتھ سے اپنی گردن کاٹ سکتا ہے تو حضرت ابراہیم ؑ نے اگر اس عمر میں ختنہ کرلیا تو کون سی عزیمت ہے؟ بہرحال حضرت ابراہیم ؑ کے اس عمل کو خود کشی سے تشبیہ دینا حماقت سے کم نہیں۔
ایک روایت میں ہے: ختنہ کرنے سے جب حضرت ابراہیم ؑ کو تکلیف ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ آپ نے جلدی کی ہے۔
عرض کی: الٰہی! تیرے حکم میں تاخیر کرنا مجھے گوارا نہ تھا، اس لیے تعمیل حکم میں جلدی کی ہے۔
(السنن الکبری للبیهقي: 326/8)
1۔
امام بخاری ؒنے خود وضاحت کی ہے کہ قدوم دال کی تشدید کے ساتھ ایک جگہ کا نام ہے۔
(صحیح البخاري، الاستئذان، حدیث: 6298)
البتہ صحیح مسلم کی تمام روایات میں یہ لفظ تخفیف کے ساتھ مروی ہے۔
(صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 6141(2370)
جس کے معنی ہیں: بسولا۔
ان دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ ممکن ہے حضرت ابراہیم ؑ اس حکم کے وقت مقام قدوم میں ہوں اور وہیں آپ نے بسولے کے ساتھ تعمیل حکم کی ہو۔
2۔
مقام غور ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اسی برس کے ہیں، اوراپنے گھر میں نہیں بلکہ کسی دوسرے مقام پر اپنا ختنہ کرنے کا انھیں حکم ملتا ہے، پھر ختنہ کے لیے وہاں کوئی استرا وغیرہ موجود نہیں، تعمیل حکم کے لیے بسولے کے ساتھ خود ہی نازک عضو کے کچھ حصے کو کاٹ دیتے ہیں جس کی ٹیس دیر تک محسوس ہوتی رہتی ہے۔
لیکن منکرین حدیث اس کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟ جب انسان خود کشی کرسکتا ہے خود اپنے ہاتھ سے اپنی گردن کاٹ سکتا ہے تو حضرت ابراہیم ؑ نے اگر اس عمر میں ختنہ کرلیا تو کون سی عزیمت ہے؟ بہرحال حضرت ابراہیم ؑ کے اس عمل کو خود کشی سے تشبیہ دینا حماقت سے کم نہیں۔
ایک روایت میں ہے: ختنہ کرنے سے جب حضرت ابراہیم ؑ کو تکلیف ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ آپ نے جلدی کی ہے۔
عرض کی: الٰہی! تیرے حکم میں تاخیر کرنا مجھے گوارا نہ تھا، اس لیے تعمیل حکم میں جلدی کی ہے۔
(السنن الکبری للبیهقي: 326/8)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3356 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2370 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی (80) سال کی عمر میں تیشہ سے اپنے ختنے کیے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6141]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، اگر انسان کسی سبب یا نادانی کی بنا پر، بچپن میں ختنے نہ کروا سکے تو پھر اسے جب بھی موقعہ ملے تو ختنے کروا لینے چاہئیں، الا یہ کہ کوئی شرعی یا طبعی روکاوٹ ہو اور بہتر یہ ہے کہ ساتویں دن بچے کے ختنے کر دئیے جائیں، دوسرا معنی اس حدیث کا یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے قدوم نامی جگہ پر اپنے ختنے کیے تھے۔
(قاموس)
(قاموس)
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2370 سے ماخوذ ہے۔