حدیث نمبر: 6274
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، مِثْلَهُ ، وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ ، فَقَالَ : " أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ " ، فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا : لَيْتَهُ سَكَتَ .
مولانا داود راز

´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے اسی طرح مثال بیان کیا ، ( اور یہ بھی بیان کیا کہ )` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا ” ہاں اور جھوٹی بات بھی ۔ “ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اتنی مرتبہ باربار دہراتے رہے کہ ہم نے کہا ، کاش آپ خاموش ہو جاتے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الاستئذان / حدیث: 6274
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
6274. دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ اس وقت ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا: ہاں اور جھوٹی بات بھی یہ بات آپ بار بار دہراتے رہے حتیٰ کہ ہم نے کہا: کاش! آپ خاموش ہو جائیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6274]
حدیث حاشیہ: یہ حدیث کتاب الادب میں گزرچکی ہے اور دوسری احادیث میں بھی آپ کا تکیہ لگا کر بیٹھنا منقول ہے جیسے ضمام بن ثعلبہ اور سمرہ کی احادیث میں ہے۔
جھوٹی بات کے لئے آپ کا یہ باربار فرمانا اس کی برائی کو واضح کرنے کے لئے تھا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6274 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6274. دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ اس وقت ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا: ہاں اور جھوٹی بات بھی یہ بات آپ بار بار دہراتے رہے حتیٰ کہ ہم نے کہا: کاش! آپ خاموش ہو جائیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6274]
حدیث حاشیہ:
(1)
جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی کی سنگینی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار اس لیے دہرایا تاکہ اس کی برائی اور قباحت واضح ہو جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ٹیک لگا کر بیٹھنا دیگر احادیث میں بھی بیان ہوا ہے جیسا کہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تکیے پر ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے دیکھا تھا۔
(جامع الترمذي، الأدب، حدیث: 2771) (2)
بعض اطباء نے اسے جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے، اس لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے ان کی تردید فرماتے ہوئے اس کا جواز ثابت کیا ہے کہ شرعاً ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(فتح الباري: 80/11)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6274 سے ماخوذ ہے۔