صحيح البخاري
كتاب الاستئذان— کتاب: اجازت لینے کے بیان میں
بَابُ تَسْلِيمِ الرِّجَالِ عَلَى النِّسَاءِ، وَالنِّسَاءِ عَلَى الرِّجَالِ: باب: مردوں کا عورتوں کو سلام کرنا اور عورتوں کا مردوں کو۔
حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلاَمَ». قَالَتْ قُلْتُ وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، تَرَى مَا لاَ نَرَى. تُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. تَابَعَهُ شُعَيْبٌ. وَقَالَ يُونُسُ وَالنُّعْمَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَبَرَكَاتُهُ.´ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی انہیں زہری نے انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اے عائشہ ! یہ جبرائیل ہیں تمہیں سلام کہتے ہیں بیان کیا کہ میں نے عرض کیا «وعليه السلام ورحمة الله» آپ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے ام المؤمنین کا اشارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا ۔ معمر کے ساتھ اس حدیث کو شعیب اور یونس اور نعمان نے بھی زہری سے روایت کیا ہے یونس اور نعمان کی روایتوں میں «وبركاته.» کا لفظ زیادہ ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
حضرت جبریل علیہ السلام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی صورت میں آیا کرتے تھے، اس اعتبار سے ان کا حکم مردوں کا ہے۔
معلوم ہوا کہ مرد،عورت کو اور عورت، مرد کو سلام کر سکتی ہے، خواہ وہ اجنبی ہی کیوں نہ ہو لیکن پردے کے احکام اپنی جگہ پر ہیں جن کا بجالانا ضروری ہے۔
(2)
بہرحال جب عورتوں سے بوقت ضرورت گفتگو جائز ہے تو سلام کہنے میں کیا حرج ہے جبکہ سلام کہنا تو ایک شرعی حق ہے۔
مزعومہ فتنے کی بنیاد پر اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اگر مجلس میں مرد اور عورتیں دونوں ہوں تو بالا تفاق سلام کہنا جائز ہے۔
(فتح الباري: 43/11)
واللہ أعلم
1۔
حضرت جبریل ؑ نے حضرت مریم ؑ سے خطاب کیا تھا جبکہ سلام کہتے وقت حضرت عائشہ ؓ کو براہ راست خطاب نہیں کیا کیونکہ حضرت مریم ؑ کا شوہر نہیں تھا، اس لیے ان سے براہ راست خطاب کیا، لیکن رسول اللہ ﷺ کے باعث حضرت جبریل ؑ نے حضرت عائشہ ؓ کا احترام کیا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے جنت میں حضرت عمر ؓ کا محل دیکھ کرحضرت عمر ؓ کا احترام کیا تاکہ انھیں غیرت نہ آئے۔
2۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اجنبی عورت کو سلام کہنا جائز ہے بشرط یہ کہ فتنے میں پڑنے کا اندیشہ نہ ہو۔
اس پر فتن دور میں اس سے بچنا ہی چاہیے۔
3۔
اس حدیث میں حضرت جبرئیل ؑ کے سلام کہنے کا ذکر ہے، اسی سے امام بخاری ؒ نے قائم کردہ عنوان ثابت کیا ہے۔
اس سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت بھی ثابت ہوئی۔
جس کو حضرت جبریل علیہ السلام بھی سلام پیش کرتے ہیں۔
اللہ پاک ایسی پاک خاتون پر ہماری طرف سے بھی بہت سے سلام پہنچائے اور حشر میں ان کی دعائیں ہم کو نصیب کرے آمین۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانے 63سال کی عمر طویل پائی اور 17رمضان 57ھ میں مدینہ منورہ میں انتقال فرمایا۔
رضي اللہ عنها و أرضاہ آمین۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غائبانہ سلام متعلقہ آدمی تک پہنچانا چاہیے اور جسے سلام پہنچایا جائے وہ اس کا فوراً جواب دے، پھر غائبانہ سلام کا جواب دو طرح سے دیا جا سکتا ہے: ٭صرف سلام کہنے والے کو دعا میں شامل کیا جائے جیسا کہ اس حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما نے سلامتی کی دعا میں صرف حضرت جبریل علیہ السلام ہی کو شامل کیا ہے۔
٭سلام کہنے والے کے ساتھ پہنچانے والے کو بھی شامل کیا جائے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہما کو حضرت جبریل علیہ السلام کا سلام پہنچایا تو انھوں نے جواب دیتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوبھی سلامتی کی دعامیں شامل کیا۔
(المعجم الکبیر للطبراني: 23/15)
حضرت جبریل ؑ نے اپنی طرف سے انھیں سلام کہا جب کہ حضرت خدیجہ ؓ کے متعلق ہے کہ حضرت جبریل ؑ نے اپنے رب کی طرف سے سلام پہنچایا اور اپنی طرف سے بھی سلام کہا۔
(صحیح البخاري، المناقب، حدیث: 3820)
اس سے بعض حضرات نے حضرت عائشہ ؓ پرحضرت خدیجہ ؓ کی فضیلت کو ثابت کیاہے۔
اس کے متعلق ہم آئندہ بحث کریں گے۔
بہرحال اس حدیث سے سیدہ عائشہ ؓ کی فضیلت اور منقبت کا پتہ چلتا ہے۔
یہی باب سے وجہ مطابقت ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ” جبرائیل تمہیں سلام کہتے ہیں، تو انہوں نے جواب میں کہا: وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب/حدیث: 2693]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غائبانہ سلام کسی شخص کے واسطہ سے پہنچے یا کسی خط میں لکھ کر آئے تو اس کا جواب فوری طورپر دینا چاہیے۔
اوراسی طرح دینا چاہئے جیسے اُوپر ذکر ہوا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عائشہ! یہ جبرائیل ہیں، تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، میں نے عرض کیا: اور انہیں بھی میری طرف سے سلام اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں، آپ وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ پاتے “ (جیسے جبرائیل کو) ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3881]
وضاحت:
1؎:
اس میں عائشہ کے لیے انتہائی شرف کی بات ہے، (رضی اللہ عنہا) اس حدیث سے بعض لوگوں نے یہ استدلال بھی کیا ہے کہ خدیجہ ؓ، عائشہ ؓ سے افضل ہیں، کیونکہ خدیجہ ؓ آپﷺ کو جبرئیل اللہ کی طرف سے سلام کر رہے ہیں، جبکہ عائشہ ؓ کے لیے جبرئیل ؑ نے اپنی طرف سے سلام پہنچایا۔
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جبرائیل تجھے سلام کہتے ہیں، تو انہوں نے کہا: «وعليه السلام ورحمة الله» ” ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5232]
1۔
کسی غائب کو سلام بھیجنا مستحب ہے۔
2: اور اس کا جواب بھی دیناچاہیے۔
پہلے سلام لانے والے اور پھر بھیجنے والے کو دعا دے۔
یعنی یوں کہے (علیك و علیه السلام ورحمة اللہ) یا صر ف (وعلیه السلام ورحمة اللہ) پر بھی کفایت کرے تو جائز ہے۔
(صحیح البخاري، الاستئذان‘حدیث:6253)
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ” جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں “، انہوں نے کہا: «وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ» (جبرائیل کو عائشہ نے سلام کا جواب دیا اور کہا:) آپ تو وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھتے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3405]
(2) اجنبی مرد اجنبی صالحہ عورت کو سلام بھیج سکتا ہے جبکہ کسی مفسدے کا اندیشہ نہ ہو۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے باب باندھ کر اس مسئلے کو ثابت کیا ہے: [بَابُ تَسْلِیمِ الرِّجَالِ عَلیَ النِّسَاء وَالنِّسَاء عَلیٰ الرِّجَالِ ] حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ ہم عورتوں کے پاس سے گزرے تو ہمیں سلام کیا۔ (سنن أبي داود‘ الأدب‘ حدیث: 5204) اس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے۔ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میں نبی اکرمﷺ کے پاس آئی۔ آپ اس وقت غسل فرما رہے تھے۔ میں نے آپ کو سلام کہا۔ (صحیح البخاري‘ الصلاة‘ حدیث:357)
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عائشہ! یہ جبرائیل ہیں، تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔ اور آگے ویسے ہی ہے جیسے اوپر گزرا۔“ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ روایت ٹھیک ہے، پہلی والی غلط ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3406]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ” جبرائیل علیہ السلام تمہیں سلام کہتے ہیں “ (یہ سن کر) انہوں نے جواب میں کہا: «وعليه السلام ورحمة الله» (اور ان پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3696]
فوائد و مسائل:
(1)
ام المومنین سیدہ عا ئشہ صدیقہ ؓ کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ انہیں جبرئیل علیہ السلام نے سلام کہا۔
یہ شرف دوسرے صحابہ ؓ کو حاصل نہیں ہوا۔
(2)
ام المومنین ؓ فرشتوں کو نہیں دیکھتی تھیں، نہ ان کی آواز سنتی تھیں، اس لیے جواب میں (وعليك السلام)
کی بجائے (وعليه السلام)
فرمایا۔
(3)
جب کسی کو کسی کا سلام پہنچایا جائے تو اس کا جواب اسی انداز سے دینا چاہیے۔