صحيح البخاري
كتاب الاستئذان— کتاب: اجازت لینے کے بیان میں
بَابُ الاِسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ: باب: اذن لینے کا اس لیے حکم دیا گیا کہ نظر نہ پڑے۔
حدیث نمبر: 6242
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ أَوْ بِمَشَاقِصَ ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَخْتِلُ الرَّجُلَ لِيَطْعُنَهُ " .مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ بن ابی بکر نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ` ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حجرہ میں جھانک کر دیکھنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف تیر کا پھل یا بہت سے پھل لے کر بڑھے ، گویا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں ان صاحب کی طرف اس طرح چپکے چپکے تشریف لائے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
6242. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے کسی گھر میں جھانکا تو نبی ﷺ ایک لمبے نیزے کا پھل لیے ہوئے اس کی طرف اٹھے۔ گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ اس کی طرف چپکے چپکے تشریف لے گئے تاکہ بے خبری میں اسے مار دیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6242]
حدیث حاشیہ: گویا آپ وہ پھل انہیں چبھو دیں گے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6242 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6242. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے کسی گھر میں جھانکا تو نبی ﷺ ایک لمبے نیزے کا پھل لیے ہوئے اس کی طرف اٹھے۔ گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ اس کی طرف چپکے چپکے تشریف لے گئے تاکہ بے خبری میں اسے مار دیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6242]
حدیث حاشیہ:
(1)
کسی کے گھر میں اجازت کے بغیر جھانکنا حرام اور انتہائی بری حرکت ہے کیونکہ اجازت لینے کا حکم نظر ہی کی وجہ سے ہوتا ہے، اگر بلا اجازت تاک جھانک کرنا ہے تو اجازت لینے کے کیا معنی؟ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جب نظر اندر چلی گئی تو پھر اجازت کیسی۔
‘‘ (سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 5173)
یہی وجہ ہے کہ انسان کسی کے دروازے پر دستک دے تو ایک جانب کھڑا ہو کر دے جیسا کہ ایک حدیث میں اس کی صراحت ہے۔
(سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 5174) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی کسی کے گھر میں جھانکتا ہے تو گھر والا اسے سزا دے سکتا ہے جیسا کہ ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے کسی کے گھر میں اجازت کے بغیر جھانکا، اہل خانہ نے اس کی آنکھ پھوڑ دی تو اس کا کوئی تاوان نہیں بلکہ یہ ضائع ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الأدب، حدیث: 5642(2158)
(1)
کسی کے گھر میں اجازت کے بغیر جھانکنا حرام اور انتہائی بری حرکت ہے کیونکہ اجازت لینے کا حکم نظر ہی کی وجہ سے ہوتا ہے، اگر بلا اجازت تاک جھانک کرنا ہے تو اجازت لینے کے کیا معنی؟ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جب نظر اندر چلی گئی تو پھر اجازت کیسی۔
‘‘ (سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 5173)
یہی وجہ ہے کہ انسان کسی کے دروازے پر دستک دے تو ایک جانب کھڑا ہو کر دے جیسا کہ ایک حدیث میں اس کی صراحت ہے۔
(سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 5174) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی کسی کے گھر میں جھانکتا ہے تو گھر والا اسے سزا دے سکتا ہے جیسا کہ ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے کسی کے گھر میں اجازت کے بغیر جھانکا، اہل خانہ نے اس کی آنکھ پھوڑ دی تو اس کا کوئی تاوان نہیں بلکہ یہ ضائع ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الأدب، حدیث: 5642(2158)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6242 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6889 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6889. ایک روایت کے مطابق ایک آدمی نبی ﷺ کے گھر جھانک رہا تھا تو آپ ﷺ نے اس کی طرف تیر کا پھل سیدھا کیا۔ (یحییٰ نےکہا:) میں نے(حمید سے) پوچھا: یہ حدیث تم سےکس نے بیان کی ہے؟ تو انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک ؓ نے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6889]
حدیث حاشیہ:
(1)
حقوق کی دو قسمیں ہیں: ٭مالی حقوق۔
٭بدنی حقوق۔
مالی حقوق کے متعلق اجازت ہے کہ انسان انھیں حاکم وقت کے نوٹس میں لائے بغیر وصول کر سکتا ہے لیکن بدنی حقوق قصاص وغیرہ کا از خود نوٹس نہیں لینا چاہیے کیونکہ یہ حکومت کا کام ہے، البتہ شریعت نے اس قدر اجازت دی ہے کہ اگر کوئی انسان کسی کے گھر میں اجازت کے بغیر جھانکتا ہے تو اگر گھر کا مالک اس کی آنکھ پھوڑ دے تو اس پر کوئی تاوان نہیں ہوگا جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’اگر کوئی آدمی کسی دوسرے کے گھر میں اجازت کے بغیر جھانکتا ہے اور گھر والا اس کی آنکھ پھوڑ دیتا ہے تو اس پر کوئی قصاص یا دیت نہیں ہے۔
‘‘ (سنن النسائي، القسامة، حدیث: 4864)
اس سے زیادہ کی شرعاً اجازت نہیں۔
(2)
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ جائز تھا کسی امتی کے لیے ایسا کرنا درست نہیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال واقوال ہر امتی کے لیے اس وقت تک حجت ہیں جب تک شرعی دلیل سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تخصیص ثابت نہ ہو۔
کسی شرعی دلیل سے یہ امر ثابت نہیں کہ مذکورہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے۔
بہرحال مالی حقوق از خود وصول کیے جا سکتے ہیں لیکن حدود و قصاص کے سلسلے میں حکومت کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔
واللہ أعلم
(1)
حقوق کی دو قسمیں ہیں: ٭مالی حقوق۔
٭بدنی حقوق۔
مالی حقوق کے متعلق اجازت ہے کہ انسان انھیں حاکم وقت کے نوٹس میں لائے بغیر وصول کر سکتا ہے لیکن بدنی حقوق قصاص وغیرہ کا از خود نوٹس نہیں لینا چاہیے کیونکہ یہ حکومت کا کام ہے، البتہ شریعت نے اس قدر اجازت دی ہے کہ اگر کوئی انسان کسی کے گھر میں اجازت کے بغیر جھانکتا ہے تو اگر گھر کا مالک اس کی آنکھ پھوڑ دے تو اس پر کوئی تاوان نہیں ہوگا جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’اگر کوئی آدمی کسی دوسرے کے گھر میں اجازت کے بغیر جھانکتا ہے اور گھر والا اس کی آنکھ پھوڑ دیتا ہے تو اس پر کوئی قصاص یا دیت نہیں ہے۔
‘‘ (سنن النسائي، القسامة، حدیث: 4864)
اس سے زیادہ کی شرعاً اجازت نہیں۔
(2)
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ جائز تھا کسی امتی کے لیے ایسا کرنا درست نہیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال واقوال ہر امتی کے لیے اس وقت تک حجت ہیں جب تک شرعی دلیل سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تخصیص ثابت نہ ہو۔
کسی شرعی دلیل سے یہ امر ثابت نہیں کہ مذکورہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے۔
بہرحال مالی حقوق از خود وصول کیے جا سکتے ہیں لیکن حدود و قصاص کے سلسلے میں حکومت کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6889 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2157 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کمرہ کے اندر سے جھانکا تو آپ اسی کی طرف تیر لے کر لپکے، گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو تیر مارنے کے لیے حیلہ یا تدبیر کر رہے ہیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5641]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
مشقص ج مشاقص: چوڑا تیر۔
(2)
يختل: حیلہ اور چارہ کرنا، جستجو کرنا کہ اس کی غفلت سے فائدہ اٹھا کراس کو نشانہ بنایا جائے۔
(1)
مشقص ج مشاقص: چوڑا تیر۔
(2)
يختل: حیلہ اور چارہ کرنا، جستجو کرنا کہ اس کی غفلت سے فائدہ اٹھا کراس کو نشانہ بنایا جائے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2157 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5171 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ایک کمرے سے جھانکا تو آپ تیر کا ایک یا کئی پھل لے کر اس کی طرف بڑھے، گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کی آپ اس کی طرف اس طرح بڑھ رہے ہیں کہ وہ جان نہ پائے تاکہ اسے گھونپ دیں۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5171]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ایک کمرے سے جھانکا تو آپ تیر کا ایک یا کئی پھل لے کر اس کی طرف بڑھے، گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کی آپ اس کی طرف اس طرح بڑھ رہے ہیں کہ وہ جان نہ پائے تاکہ اسے گھونپ دیں۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5171]
فوائد ومسائل:
کسی کے گھر میں بغیر اجازت کے جھانکنا حرام اور انتہائی بد اخلاقی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انسان کسی کے دروازے پر دستک دے تو اس کا ادب یہ ہے کہ ایک جانب کھڑا ہوجیسے کہ اگلی حدیث 5174 میں آرہا ہے۔
کسی کے گھر میں بغیر اجازت کے جھانکنا حرام اور انتہائی بد اخلاقی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انسان کسی کے دروازے پر دستک دے تو اس کا ادب یہ ہے کہ ایک جانب کھڑا ہوجیسے کہ اگلی حدیث 5174 میں آرہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5171 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4862 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´دیت کے سلسلے میں عمرو بن حزم کی حدیث کا ذکر اور اس کے راویوں کے اختلاف کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر آیا تو دراز میں آنکھ لگا کر جھانکنے لگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ دیکھا تو لوہا یا لکڑی لے کر اس کی آنکھ پھوڑنے کا ارادہ کیا، جب اس کی نظر پڑی تو اس نے اپنی آنکھ ہٹا لی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ” اگر تم اپنی آنکھ یہیں رکھتے تو میں تمہاری آنکھ پھوڑ دیتا “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4862]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر آیا تو دراز میں آنکھ لگا کر جھانکنے لگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ دیکھا تو لوہا یا لکڑی لے کر اس کی آنکھ پھوڑنے کا ارادہ کیا، جب اس کی نظر پڑی تو اس نے اپنی آنکھ ہٹا لی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ” اگر تم اپنی آنکھ یہیں رکھتے تو میں تمہاری آنکھ پھوڑ دیتا “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4862]
اردو حاشہ: (1) ”پھوڑ دیتا“ اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ اگر کوئی اس طرح چھپ کر کسی کے گھر دیکھے تو حاکم وقت کو اطلاع کیے بغیر ہی اس کی آنکھ پھوڑی جا سکتی ہے۔ کوئی دیت یا تاوان واجب الاداء نہیں ہو گا۔ امام شافعی اور امام احمد رحہم اللہ کا یہی خیال ہے مگر امام مالک اور امام ابوحنیفہ رحہم اللہ اس کے قائل نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ آپ نے یہ کلمات زجراً فرمائے تھے۔ آپ کی نیت اس کی آنکھ پھوڑنے کی نہیں تھی۔ راجح یہی ہے کہ ایسے شخص کی آنکھ پھوڑنا جائز ہے اور پھوڑنے والے پر کوئی تاوان بھی نہیں ہوگا کیونکہ حدیث سے اسی موقف کی تائید ہوتی ہے۔ بے جا تاویلات سے گریز کرنا چاہیے۔
(2) یہ حدیث اور آئندہ حدیث سابقہ باب سے اس طرح متعلق ہیں کہ ایسی حالت میں اگر آنکھ پھوڑ دی جائے تو کوئی دیت نہیں دینا پڑے گی۔ یا پھر امام صاحب نیا باب قائم کرنا بھول گئے ہیں یا یہ دونوں احادیث آئندہ باب سے متعلق ہیں جیسا کہ سنن نسائی میں کئی مقامات پر ہوا ہے۔ واللہ أعلم
(2) یہ حدیث اور آئندہ حدیث سابقہ باب سے اس طرح متعلق ہیں کہ ایسی حالت میں اگر آنکھ پھوڑ دی جائے تو کوئی دیت نہیں دینا پڑے گی۔ یا پھر امام صاحب نیا باب قائم کرنا بھول گئے ہیں یا یہ دونوں احادیث آئندہ باب سے متعلق ہیں جیسا کہ سنن نسائی میں کئی مقامات پر ہوا ہے۔ واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4862 سے ماخوذ ہے۔