حدیث نمبر: 6241
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : حَفِظْتُهُ كَمَا أَنَّكَ هَا هُنَا ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : اطَّلَعَ رَجُلٌ مِنْ جُحْرٍ فِي حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُ ، لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ ، إِنَّمَا جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے ، ان سے زہری نے بیان کیا ( سفیان نے کہا کہ ) میں نے یہ حدیث زہری سے سن کر اس طرح یاد کی ہے کہ جیسے تو اس وقت یہاں موجود ہو اور ان سے سہل بن سعد نے کہ` ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حجرہ میں سوراخ سے دیکھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت ایک کنگھا تھا جس سے آپ سر مبارک کھجا رہے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم جھانک رہے ہو تو یہ کنگھا تمہاری آنکھ میں چبھو دیتا ( اندر داخل ہونے سے پہلے ) اجازت مانگنا تو ہے ہی اس لیے کہ ( اندر کی کوئی ذاتی چیز ) نہ دیکھی جائے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الاستئذان / حدیث: 6241
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5924 | صحيح البخاري: 6901 | صحيح مسلم: 2156 | سنن ترمذي: 2709 | سنن نسائي: 4863 | مسند الحميدي: 953

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6241. حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے نبی ﷺ کے حجرہ مبارکہ میں سوراخ سے دیکھا۔ نبی ﷺ کے ہاتھ مبارک میں ایک کنگھا تھا جس سے آپ سر مبارک کھجلا رہے تھے آپ نے فرمایا: اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم جھانک رہے ہو تو میں تمہاری آنکھ میں اسے چبھو دیتا نظر بازی کی روک تھام کے لیے تو اجازت طلبی کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6241]
حدیث حاشیہ:
(1)
کسی کے گھر یا اس کی مجلس میں آنے کے لیے اجازت لینا ضروری ہے۔
اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے سلام کرے، پھر اجازت طلب کرے، اس کے بغیر اچانک کسی کے گھر میں جانے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ معلوم نہیں وہ اس وقت کسی حالت میں ہو اور کس کام میں مصروف ہو۔
ممکن ہے کہ اس وقت اس سے ملاقات ناگواری کا باعث ہو۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ایک شخص تحائف لے کر اجازت کے بغیر چلا آیا تو آپ نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا: ’’واپس جاؤ اور السلام علیکم کہنے کے بعد اندر آنے کی اجازت طلب کرو، جب اجازت ملے تو اندر آ جاؤ۔
‘‘ (جامع الترمذي، الاستئيذان، حدیث: 2710)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت طلب کرنے کا طریقہ صرف زبانی بتا دینے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس پر عمل کرایا ہے۔
ظاہر ہے جو شخص اس طرح سبق یاد کرتا ہے وہ اسے بھول نہیں پاتا۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6241 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5924 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5924. حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے گھر دروازے کے سوراخ سے جھانکا جبکہ نبی ﷺ اس وقت آلہ خارش سے اپنا سر کھجلا رہے تھے آپ نے فرمایا: اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو جھانک رہا ہے تو میں تیری آنکھ پھوڑ دیتا۔ اجازت طلب کرنا صرف اس لیے ہے کہ آدمی کی نظر سے محفوظ رہاجا سکے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5924]
حدیث حاشیہ: جب بغیر اجازت دیکھ لیا تو پھر اذن کی کیا ضرورت رہی۔
اس حدیث سے یہ نکلا کہ اگر کوئی شخص کسی کے گھر میں جھانکے اور گھر والا کچھ پھینک کر اس کی آنکھ پھوڑ دے تو گھر والے کو کچھ تاوان نہ دینا ہوگا مگر یہ دور اسلامی کی باتیں ہیں انفرادی طور پر کسی کا ایسا کرنا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5924 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5924 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5924. حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے گھر دروازے کے سوراخ سے جھانکا جبکہ نبی ﷺ اس وقت آلہ خارش سے اپنا سر کھجلا رہے تھے آپ نے فرمایا: اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو جھانک رہا ہے تو میں تیری آنکھ پھوڑ دیتا۔ اجازت طلب کرنا صرف اس لیے ہے کہ آدمی کی نظر سے محفوظ رہاجا سکے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5924]
حدیث حاشیہ:
مدری، لکڑی کا ایک آلہ جس سے بالوں کی اصلاح اور جسم پر خارش کی جاتی ہے۔
یہ کنگھی کی طرح ہوتا ہے اور بعض اوقات اس سے کنگھی کا کام لیا جاتا ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے کنگھی کرنے کے عمل کو ثابت کیا ہے۔
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے بال رکھے تو چاہیے کہ انہیں بنا سنوار کر رکھے۔
‘‘ (سنن أبي داود، الترجل، حدیث: 4163)
اس کا مطلب یہ ہے کہ بال رکھے ہوں تو انہیں سنوار کر رکھنا ضروری ہے مگر باقاعدہ اہتمام کے ساتھ دھونا اور ہر روز کنگھی پٹی کرنا ممنوع ہے۔
(فتح الباري: 450/10)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5924 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6901 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6901. حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے حجرے کے دروازے کے ایک سوراخ سے اندر جھانکنے لگا جبکہ اس وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس سر کھجلانے کا ایک آلہ تھا جس سے اپنا سر کھجلا رہے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا تو فرمایا: اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو مجھے جھانک رہا ہے تو میں اس کے ساتھ تیری آنکھ پھوڑ دیتا۔ پھر آپ نے فرمایا: کسی کے گھر آنے کے لیے اجازت لینے کا حکم اس لیے مشروع ہے کہ نظر نہ پڑے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6901]
حدیث حاشیہ: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بغیر اجازت کے کسی کے گھر میں جھانکنا اور داخل ہونا منع ہے اگر اجازت ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔
سلام کر کے اپنے گھر میں یا غیر کے گھر میں داخل ہونا چاہئے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6901 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2156 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے روزن (جھری) سے جھانکا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھرکھرا تھا، جس سے اپنے سر کو کھجلا رہے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا: ’’اگر مجھے معلوم ہو جاتا کہ تم مجھے دیکھ رہو ہو تو میں اس سے تیری آنکھ کا نشانہ لیتا۔‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نظر سے بچنے کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اجازت کا حکم... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5638]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
جحر: گول سوراخ۔
(2)
مدری: بال سنوارنے کی لوہے کی کنگھی۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دروازہ پر کھڑے ہو کر اندر جھانکنا جائز نہیں ہے اور یہ اجازت طلب کرنے کی حکمت کے منافی ہے اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کی رو سے ایسے آدمی کی آنکھ پھوڑنا جائز ہے، لیکن یہ اس صورت میں ہے، جب اس کے بغیر چارہ نہ ہو اور دیدہ بازی کرنے والا اس کے بغیر باز نہ آتا ہو۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2156 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2709 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´کسی کے گھر میں بغیر اجازت جھانکنا کیسا ہے؟`
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے میں ایک سوراخ سے جھانکا (اس وقت) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ اپنا سر کھجا رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے (پہلے سے) معلوم ہوتا کہ تو جھانک رہا ہے تو میں اسے تیری آنکھ میں کونچ دیتا (تجھے پتا نہیں) اجازت مانگنے کا حکم تو دیکھنے کے سبب ہی سے ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب/حدیث: 2709]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ اجازت مانگنے سے پہلے کسی کے گھر میں جھانکنا اور ادھر ادھر نظر دوڑانا منع ہے، یہاں تک کہ اپنے ماں باپ کے گھر میں بھی اجازت طلب کئے بغیر داخل ہونا منع ہے، اگر اجازت طلب کرنا ضروری نہ ہوتا تو بہت سوں کی پردہ دری ہوتی اور نامحرم عورتوں پر بھی نظر پڑتی، یہی وہ قباحتیں ہیں جن کی وجہ سے اجازت طلب کرنا ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2709 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 953 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
953- سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حجرۂ مبارک کے اندر جھانک کر دیکھنے کی کوشش کی اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کنگھی کے ذریعے اپنے سر کو کھجارہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر مجھے پتہ چل جاتا کہ تم یوں دیکھ رہے ہو، تو میں یہ تمہاری آنکھوں میں چبھو دیتا۔ اجازت لینے کا حکم اسی لیے مقر کیا گیا ہے، تاکہ (گھر والوں پر) نظر نہ پڑسکے۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:953]
فائدہ:
اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ آدمی کو کسی کے گھر کے دروازے سے اندر نہیں جھانکنا اس چاہیے، کیونکہ دروازے کا مقصد پردہ ہے، اگر کوئی انسان دروازے یا دیوار سے کسی سوراخ سے اندر جھانکے، اور گھر والوں کو اس کا علم ہو جائے اور وہ آگے سے کوئی چیز مارکر آنکھ پھوڑ دیں تو ان کو اس پر کوئی جرمانہ نہیں ہوگا۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 953 سے ماخوذ ہے۔