صحيح البخاري
كتاب الاستئذان— کتاب: اجازت لینے کے بیان میں
بَابُ آيَةِ الْحِجَابِ: باب: پردہ کی آیت کے بارے میں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنَّهُ كَانَ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ مَقْدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، فَخَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرًا حَيَاتَهُ ، وَكُنْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَابِ حِينَ أُنْزِلَ ، وَقَدْ كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ ، وَكَانَ أَوَّلَ مَا نَزَلَ فِي مُبْتَنَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ أَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا عَرُوسًا ، فَدَعَا الْقَوْمَ ، فَأَصَابُوا مِنَ الطَّعَامِ ، ثُمَّ خَرَجُوا وَبَقِيَ مِنْهُمْ رَهْطٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَطَالُوا الْمُكْثَ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ كَيْ يَخْرُجُوا ، فَمَشَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى جَاءَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ، ثُمَّ ظَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ خَرَجُوا ، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ ، فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ لَمْ يَتَفَرَّقُوا ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَجَعْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ، فَظَنَّ أَنْ قَدْ خَرَجُوا ، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ ، فَإِذَا هُمْ قَدْ خَرَجُوا ، فَأُنْزِلَ آيَةُ الْحِجَابِ ، فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سِتْرًا " .´ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا ، کہا مجھ کو یونس نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے کہا کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ( ہجرت کر کے ) تشریف لائے تو ان کی عمر دس سال تھی ۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے باقی دس سالوں میں آپ کی خدمت کی اور میں پردہ کے حکم کے متعلق سب سے زیادہ جانتا ہوں کہ کب نازل ہوا تھا ۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مجھ سے اس کے بارے میں پوچھا کرتے تھے ۔ پردہ کے حکم کا نزول سب سے پہلے اس رات ہوا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد ان کے ساتھ پہلی خلوت کی تھی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے دولہا تھے اور آپ نے صحابہ کو دعوت ولیمہ پر بلایا تھا ۔ کھانے سے فارغ ہو کر سب لوگ چلے گئے لیکن چند آدمی آپ کے پاس بیٹھے رہ گئے اور بہت دیر تک وہیں ٹھہرے رہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر باہر تشریف لے گئے اور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا گیا تاکہ وہ لوگ بھی چلے جائیں ۔ نبی کریم چلتے رہے اور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا رہا اور سمجھا کہ وہ لوگ اب چلے گئے ہیں ۔ اس لیے واپس تشریف لائے اور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس آیا لیکن آپ جب زینب رضی اللہ عنہا کے حجرے میں داخل ہوئے تو وہ لوگ ابھی بیٹھے ہوئے تھے اور ابھی تک واپس نہیں گئے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ وہاں سے لوٹ گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ لوٹ گیا ۔ جب آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کی چوکھٹ تک پہنچے تو آپ نے سمجھا کہ وہ لوگ نکل چکے ہوں گے ۔ پھر آپ لوٹ کر آئے اور میں بھی آپ کے ساتھ لوٹ آیا تو واقعی وہ لوگ جا چکے تھے ۔ پھر پردہ کی آیت نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا لیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
قال أبو عبد اللہ فیه من الفقه أنه لم یستأذنهم حین قام و خرج و فیه أنه تھیا للقیام وھو یرید أن یقوموا۔
حضرت امام بخاری نے کہا اس حدیث سے یہ مسئلہ نکلا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے اور چلے ان سے اجازت نہیں لی اور یہ بھی نکلا کہ آپ نے ان کے سامنے اٹھنے کی تیاری کی۔
آپ کا مطلب یہ تھا کہ وہ بھی اٹھ جائیں تو معلوم ہوا کہ جب لوگ بیکار بیٹھے رہیں اور صاحب خانہ تنگ ہو جائے تو ان کی بغیر اجازت اٹھ کر چلے جانا یا ان کو اٹھانے کے لئے اٹھنے کی تیاری کرنا درست ہے۔
(1)
اس حدیث میں آیت حجاب کا سبب نزول بیان ہوا ہے۔
اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن کو مخاطب کر کے کہا گیا تھا کہ تمہارا اصل مقام گھر کی چار دیواری ہے۔
تمہیں بلا ضرورت گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہیے۔
یہ حکم ان کے باہر نکلنے پر پابندی تک موقوف تھا لیکن لوگ سب گھروں میں بلا روک ٹوک آتے جاتے تھے۔
اس آیت کریمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں بلا اجازت داخل ہونے پر پابندی لگا دی گئی، پھر سورۂ نور کی آیت: 27 کی رو سے یہ حکم تمام مسلم گھرانوں پر نافذ کر دیا گیا کہ کوئی شخص بھی کسی دوسرے کے گھر میں بلا اجازت داخل نہ ہوا کرے۔
(2)
بہرحال ان آیات کے نازل ہونے کے بعد تمام ازواج مطہرات کے گھروں کے باہر پردہ لٹکا دیا گیا، پھر دوسرے مسلمانوں نے بھی اپنے گھروں کے سامنے پردے لٹکا لیے حتی کہ یہ دستور اسلامی طرز معاشرت کا ایک حصہ بن گیا۔
(3)
مردوں اور عورتوں کے آزادانہ میل جول اور فحاشی کی روک تھام کے لیے یہ ایک مؤثر اقدام ہے کہ کوئی غیر مرد کسی اجنبی عورت کو نہ دیکھے اور نہ کسی کے دل میں کوئی برا خیال یا وسوسہ ہی پیدا ہو، گویا معاشرے سے بے حیائی اور فحاشی کے خاتمے کے لیے پردہ نہایت ضروری چیز ہے۔
اب جو لوگ کہتے ہیں کہ اصل پردہ تو دل کا پردہ ہے کیونکہ شرم و حیا اور برے خیالات کا تعلق دل سے ہے، ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام کا مذاق اڑاتے ہیں۔
(4)
حدیث کے آخر میں امام بخاری رحمہ اللہ کا ایک قول نقل ہوا ہے جو صحیح بخاری کے تمام نسخوں میں نہیں ہے، اس کی یہاں کوئی خاص ضرورت نہیں کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس سلسلے میں خود ایک باب ان الفاظ میں قائم کیا ہے: (باب من قام من مجلسه أو بيته ولم يستأذن أصحابه، أو تهيا للقيام ليقوم الناس)
’’جو شخص اپنے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر مجلس یا گھر سے اٹھ کر چلا جائے یا کھڑا ہونے کی تیاری کر لے تاکہ دوسرے لوگ بھی اٹھ کر چلے جائیں۔
‘‘ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اس قول کے متعلق اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
(فتح الباري: 29/11)
ختنہ کی دعوت، سلامتی کے ساتھ زچگی پر دعوت کرنا، مسافر کی خیریت سے واپسی پر دعوت کرنا، مکان کی تیاری یا سکونت پر، غمی پر کھانا کھلانا، دعوت احباب جو بلا سبب ہو، بچے کے ہوشیار ہونے پر، تسمیہ خوانی کی دعوت، عشیرہ ماہ رجب کی دعوت، یہ جملہ دعوات وہ ہیں جن میں شرکت ضروری نہیں ہے نہ ان کا کرنا ضروری ہے۔
ایسی دعوت صرف ولیمہ کی دعوت ہے جو کرنی بھی ضروری اور اس میں شرکت بھی ضروری ہے۔
ولیمہ کی دعوت انسان کو حسب توفیق کرنا چاہئے۔
شہرت اور ناموری کے لئے پانچ چھ روز تک کھلانا بھی ٹھیک نہیں ہے یا بعض زیادہ کھانا پکواتے ہیں اور دعوت کم لوگوں کی کرتے ہیں جس کی وجہ سے کھانا خراب ہو جاتا ہے یا کھانا کم پکاتے ہیں اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ مدعو کرتے ہیں محض دکھاوے کے لئے تو ایسا کرنا بھی درست نہیں بلکہ حسب حال کرنا بہتر ہے غمی پر کھانا کرنا بطور رسم نہ ہو ورنہ الٹا گناہ ہو جائے گا۔
(1)
ولیمہ مشروع اور ثابت ہے۔
اس میں کھانے کے متعلق کمی بیشی کی کوئی قید نہیں بلکہ حسب ضرورت اور حسب توفیق ولیمے کا کھانا تیار کیا جا سکتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے ولیمے میں کھجور اور ستو کا اہتمام کیا تھا۔
(جامع الترمذي، النکاح، حدیث: 1095)
لیکن ولیمے کا کھانا تناول کرنا ضروری نہیں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’اگر چاہے تو کھائے اگر چاہے تو چھوڑ دے۔
‘‘ (صحیح مسلم، النکاح، حدیث: 3518 (1430) (2)
دعوت ولیمہ میں غیر شرعی کام ہو رہے ہوں تو اس میں شرکت سے بچنا چاہیے۔
والله أعلم
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ولیمہ کی دعوت میں کھجور اور گھی اور پنیر کھلایا تھا۔
شادی سے پہلے کھلانا شریعت سے ثابت نہیں ہے، حضرت امام بخاری رحمہ اللہ اس حدیث کو اس لئے لائے کہ اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زرد خوشبو لگائی تو معلوم ہوا کہ دولہا کو زرد خوشبو لگانا ضروری نہیں ہے۔
یہ عنوان پہلے باب کا تمتہ اور تکملہ ہے۔
پہلے میں دلہے کے لیے زرد رنگ کے استعمال کا جواز ثابت کیا تھا لیکن اس عنوان کا مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ دلہے کے لیے اس قسم کے رنگ کا استعمال ضروری نہیں کیونکہ حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے نکاح کے موقع پر زرد رنگ کے استعمال کا کوئی ذکر روایات میں نہیں ہوا۔
معلوم ہوا کہ دلہے کے لیے جائز تو ہے لیکن ضروری نہیں۔
(فتح الباري: 276/9)
والله اعلم
حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کو یہاں اس غرض سے لائے ہیں کہ اس میں نقل کردہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے کھانے کا ادب بیان فرمایا کہ جب کھانے سے فارغ ہوں تو اٹھ چلا جانا چاہیئے، وہیں جمے رہنا اور صاحب خانہ کو ایذا دینا گناہ ہے۔
(فتح الباری)
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے کھانے کے آداب میں سے ایک ادب بیان کیا ہے کہ کھانے سے فراغت کے بعد اٹھ کر چلے جانا چاہیے، وہاں باتوں میں مصروف رہنا، اہل خانہ کو تکلیف دینے کے مترادف ہے۔
اگر وہ خود روکنا چاہیں تو اور بات ہے۔
(1)
خانگی ضروریات کے پیش نظر آداب کا تقاضا یہی ہے کہ دعوت سے فارغ ہونے کے بعد فوراً وہاں سے رخصت ہو جانا چاہیے۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصود یہ ہے کہ مجلس سے اگر کوئی جانا چاہتا ہے تو اسے اجازت لینی چاہیے لیکن اگر کوئی ہنگامی ضرورت کے پیش نظر اہل مجلس سے اجازت نہیں لیتا اور چلا جاتا ہے یا جانے کی تیاری کرتا ہے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں، چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے الادب امفرد میں ایک عنوان ان الفاظ میں قائم کیا ہے: "جب کوئی آدمی کسی کے پاس جاتا ہے تو اٹھنے والے کو اجازت لینی چاہیے۔
پھر ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا تو انھوں نے اسے فرمایا: تو اس وقت آیا ہے جب ہم مجلس ختم کرنا چاہتے ہیں۔
اس نے کہا: جیسے آپ کی مرضی ہو، چنانچہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اجازت لینے کے بعد کھڑے ہوئے اور جانے کی تیاری کرنے لگے۔
(الأدب المفرد، ص: 428، حدیث: 1173)
1۔
آیت حجاب کے بعد سورہ نور کی آیات نازل ہوئیں تو آیت 27۔
کی روسے حجاب سے متعلق یہ حکم تمام مسلم گھرانوں میں نافذ کردیا گیا کہ کوئی شخص بھی کسی دوسرے کے گھر بلا اجازت داخل نہ ہوا کرے۔
2۔
آیت حجاب میں ضمناً کھانے کے متعلق کچھ ہدایات دی گئیں ایک یہ کہ صاحب خانہ جب کھانے پر بلائے تو تمھیں اس کے ہاں جانا چاہیے اس کا بلانا ہی اجازت ہے دوسری یہ کہ جس وقت بلایا جائے۔
اسی وقت آؤ پہلے آنے کی زحمت نہ کرو۔
ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ پہلے آکر دھرنا مار کر بیٹھ جاؤ اور کھانا پکنے کا انتظار کرتے رہو۔
یہ بات بھی صاحب خانہ کے لیے پریشانی کا باعث بن جاتی ہے تیسری ہدایت یہ ہے کہ جب کھانے سے فارغ ہو جاؤں تو گپیں نہ لگاؤ کیونکہ دعوت کے بعد صاحب خانہ کو بھی کئی طرح کے کام ہوتے ہیں اسے وہ کام کرنے کا موقع دو۔
3۔
بہر حال معاشرے سے بے حیائی اور فحاشی کے خاتمے کے لیے پردہ نہایت ضروری چیز ہے۔
اب جو لوگ مسلمان ہونے کے باوجود یہ کہتے ہیں کہ اصل پردہ تو دل کا پردہ ہے کیونکہ شرم و حیا اور برے خیالات کا تعلق دل سے ہے یہ ظاہری پردہ کچھ ضروری نہیں وہ دراصل اللہ تعالیٰ کے احکام کا مذاق اڑاتے ہیں۔
واللہ المستعان۔
ہر نکاح پر یکساں دعوت ولیمہ کرنا ضروری نہیں ہے موقع محل اور حالات کے مطابق جو چاہے کھلا سکتا ہے۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا اور اپنی بیوی (زینب بنت جحش رضی الله عنہا) کے پاس تشریف لے گئے، اس موقع پر میری ماں ام سلیم رضی الله عنہا نے حیس ۱؎ تیار کیا، اسے ایک چھوٹے برتن میں رکھا، پھر (مجھ سے) کہا: (بیٹے) انس! اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ سے کہو: اسے میری امی جان نے آپ کے پاس بھیجا ہے اور انہوں نے آپ کو سلام عرض کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تھوڑا سا ہدیہ میری طرف سے آپ کی خدمت میں پیش ہے، اللہ کے رسول! میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، میں نے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3218]
وضاحت:
1؎:
حیس ایک قسم کا کھانا ہے جو کھجور، گھی اور ستو سے تیار کیا جاتا ہے۔
2؎:
اے ایمان والو! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو کھانے کے لیے ایسے وقت میں کہ اس کے پکنے کا انتظارکرتے رہو، بلکہ جب بلایا جائے تب جاؤ اور جب کھا چکو نکل کھڑے ہو، وہیں باتوں میں مشغول نہ ہو جایا کرو، نبی کو تمہاری اس بات سے تکلیف ہوتی ہے (الأحزاب: 53)
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ اپنی ایک بیوی کے کمرے کے دروازہ پر تشریف لائے جن کے ساتھ آپ کو رات گزارنی تھی، وہاں کچھ لوگوں کو موجود پایا تو آپ وہاں سے چلے گئے، اور اپنا کچھ کام کاج کیا اور کچھ دیر رکے رہے، پھر آپ دوبارہ لوٹ کر آئے تو لوگ وہاں سے جا چکے تھے، انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: پھر آپ اندر چلے گئے اور ہمارے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا (لٹکا دیا) میں نے اس بات کا ذکر ابوطلحہ سے کیا: تو انہوں نے کہا اگر بات ایسی ہی ہے جیسا تم کہتے ہو تو اس بارے میں کوئی نہ کوئی حکم ضرور نازل ہو گا، پھر آیت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3217]
وضاحت:
1؎:
آیت حجاب سے مراد یہ آیت ہے ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلاَّ أَن يُؤْذَنَ لَكُمْ﴾ إلى ﴿إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِندَ اللَّهِ عَظِيمًا﴾ (الأحزاب: 53) (یعنی اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، الاّ یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے اجازت دی جائے، لیکن تم پہلے ہی اس کے پکنے کا انتظار نہ کرو، بلکہ جب بلایا جائے تو داخل ہو جاؤ اور جب کھا چکو تو فوراً منتشر ہو جاؤ، ...اورجب تم امہات المومنین سے کوئی سامان مانگو تو پردے کی اوٹ سے مانگو ...)
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں میں سے ایک بیوی کے ساتھ شادی والی رات گزاری، پھر آپ نے مجھے کچھ لوگوں کو کھانے پر بلانے کے لیے بھیجا۔ جب لوگ کھا پی کر چلے گئے، تو آپ اٹھے، عائشہ رضی الله عنہا کے گھر کا رخ کیا پھر آپ کی نظر دو بیٹھے ہوئے آدمیوں پر پڑی۔ تو آپ (فوراً) پلٹ پڑے (انہیں اس کا احساس ہو گیا) وہ دونوں اٹھے اور وہاں سے نکل گئے۔ اسی موقع پر اللہ عزوجل نے آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم إلى طعام غير ناظرين إناه» نازل فرمائی، اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3219]
وضاحت:
1؎:
یہ قصہ پچھلی حدیث میں گزرا۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن میں سے کسی کا اتنا بڑا ولیمہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا جتنا بڑا آپ نے اپنی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ولیمہ میں ایک بکری ذبح کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1908]
فوائد و مسائل:
(1)
ام المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔
ان کی والدہ حضرت امیمہ بنت عبدالمطلب تھیں۔
رسول اللہ ﷺ نے ان کا نکاح اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ سے کیا تھا لیکن نباہ نہ ہو سکا اور طلاق ہو گئی۔
عدت گزرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے خود ان کا نکاح رسول اللہ ﷺ سے وحی کے ذریعے سے کردیا۔
(2)
صحابی نے ولیمہ کے موقع پر ایک بکری ذبح کرنے کو پرتکلف اور شان دار ولیمہ قرار دیا ہے حالانکہ عرب گوشت کھانے کے عادی تھے۔
وہ بیک وقت کئی کئی اونٹ ذبح کر کے کھاتے اور کھلاتے تھے۔
اور اس ماحول میں ایک بکری بہت معمولی چیز تھی لیکن رسول اللہ ﷺ نے نکاح کو آسان بنانے کے لیے تکلفات سے پرہیز فرمایا اور عام طور پر ولیمہ گوشت کے بغیر ہی کردیا گیا۔
(3)
ولیمے کے لیے قرض لینا اور خواہ مخواہ زیر بار ہونا درست نہیں۔
آسانی سے جس قدر اہتمام ہو سکے کرلیا جائے۔
(4)
نکاح کے موقع پر لڑکی والوں کے ہاں جمع ہو کر دعوتیں اڑانا کسی حدیث میں مذکور نہیں۔
یہ محض ایک رسم ہے جس کا دین و شریعت سے کوئی تعلق نہیں۔