صحيح البخاري
كتاب الاستئذان— کتاب: اجازت لینے کے بیان میں
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَّكَّرُونَ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فِيهَا أَحَدًا فَلاَ تَدْخُلُوهَا حَتَّى يُؤْذَنَ لَكُمْ وَإِنْ قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ أَزْكَى لَكُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ مَسْكُونَةٍ فِيهَا مَتَاعٌ لَكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ} : باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان اللہ تعالیٰ کا فرمان ”اے ایمان والو! تم اپنے (خاص) گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں مت داخل ہو جب تک کہ اجازت نہ حاصل کر لو اور ان کے رہنے والوں کو سلام کر لو۔ تمہارے حق میں یہی بہتر ہے تاکہ تم خیال رکھو۔ پھر اگر ان میں تمہیں کوئی (آدمی) نہ معلوم ہو تو بھی ان میں نہ داخل ہو جب تک کہ تم کو اجازت نہ مل جائے اور اگر تم سے کہہ دیا جائے کہ لوٹ جاؤ تو (بلاخفتگی) واپس لوٹ آیا کرو۔ یہی تمہارے حق میں زیادہ صفائی کی بات ہے اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے۔ تم پر کوئی گناہ اس میں نہیں ہے کہ تم ان مکانات میں داخل ہو جاؤ (جن میں) کوئی رہتا نہ ہو اور ان میں تمہارا کچھ مال ہو اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو“۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِيهَا ، فَقَالَ : " إِذْ أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ ، فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ " ، قَالُوا : وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " غَضُّ الْبَصَرِ ، وَكَفُّ الْأَذَى ، وَرَدُّ السَّلَامِ ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ " .´ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو ابوعامر نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ، ان سے زید بن اسلم نے بیان کیا ، ان سے عطاء بن یسار نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” راستوں پر بیٹھنے سے بچو ! صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہماری یہ مجالس تو بہت ضروری ہیں ، ہم وہیں روزمرہ گفتگو کیا کرتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا جب تم ان مجلسوں میں بیٹھنا ہی چاہتے ہو تو راستے کا حق ادا کیا کرو یعنی راستے کو اس کا حق دو ۔ صحابہ نے عرض کیا : راستے کا حق کیا ہے یا رسول اللہ ! فرمایا ( غیر محرم عورتوں کو دیکھنے سے ) نظر نیچی رکھنا ، راہ گیروں کو نہ ستانا ، سلام کا جواب دینا ، بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
انسان کی یہ فطرت ہے کہ جب وہ کھانے پینے کی پسندیدہ چیز دیکھتا ہے تو اسے کھانے کی اس میں خواہش پیدا ہوتی ہے، اسی طرح یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی غیر محرم عورت کو دیکھنے سے شہوانی تقاضا پیدا ہو جاتا ہے یا کم از کم انسان اس وقت بے چینی میں ضرور مبتلا ہو جاتا ہے، اس لیے ایسے حالات میں بندۂ مسلم کو نگاہ بچا کر رکھنے کا حکم ہے۔
قرآن مجید میں عورتوں اور مردوں کو الگ الگ نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اگر کسی کی اچانک نظر پڑ جائے تو نگاہیں دوسری جانب پھیر لینے کا حکم ہے، چنانچہ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک نظر پڑ جانے کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ''مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ادھر سے نگاہیں دوسری طرف پھیر لوں۔
'' (مسند أحمد: 4/358)
کسی کے گھر میں تاک جھانک کرنا اتنا شدید جرم ہے کہ اگر صاحب خانہ اس جرم کی پاداش میں کسی بھی چیز سے نظر باز کی آنکھ پھوڑ دے تو اس پر کوئی تاوان نہیں ہے۔
(مسند أحمد: 181/5) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے دیگر روایات کے پیش نظر چودہ امور کی نشاندہی کی ہے جو راستے کے حقوق سے متعلق ہیں، ان کی تفصیل حسب ذیل ہے: ٭ نگاہیں نیچی رکھنا۔
٭ دوسروں کو تکلیف دینے سے باز رہنا۔
٭ سلام کا جواب دینا۔
٭ بھلے کاموں کا حکم دینا۔
٭ برے کاموں سے روکنا۔
٭ پریشان حال لوگوں کی مدد کرنا۔
٭ بھٹکے مسافر کو راستہ بتانا۔
٭ چھینک کا جواب دینا۔
٭ مظلوم کی مدد کرنا۔
٭ سلام کو عام کرنا۔
٭ بوجھ اٹھانے والے کا ہاتھ بٹانا۔
٭ اچھی گفتگو کرنا۔
٭ بکثرت ذکر الٰہی میں مصروف رہنا۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ان امور کو تین عربی ابیات میں جمع کیا ہے۔
(فتح الباري: 16/11)
(1)
ایک روایت کے مطابق نابینے شخص کو راستے پر لگانا، چھینک کا جواب دینا اور کمزور ناتواں کی مدد کرنا بھی راستے کے حقوق میں شامل ہے۔
(سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 4817،4816)
معلوم ہوا کہ گھروں سے باہر چوپال میں بیٹھنا حرام نہیں، ممانعت صرف اس لیے ہے کہ عوام کو اس سے تکلیف ہوتی ہے۔
(2)
اس سے برائی کی راہ کا سدِباب مقصود ہے، اس بنا پر لوگوں کو بیٹھنے کے لیے ایسی مجالس اختیار کرنی چاہئیں جہاں مکروہ اور ناپسندیدہ امور نہ دیکھیں اور ایسی باتیں نہ سنیں جن کا سننا شرعاً ممنوع ہے۔
دوکانوں کے سامنے ٹی وی دیکھنے، گانے سنے کے لیے بیٹھنا حرام ہے۔
شرعی حدود میں رہتے ہوئے ان دوکانوں سے فائدہ لیا جا سکتا ہے لیکن اگر عوام کو نقصان ہو یا غیر شرعی امور سے واسطہ پڑتا ہو تو وہاں بیٹھنا جائز نہیں۔
واللہ أعلم
افش السلام، احسن فی الكلام، وشمت عاطسا، سلاما رد احسانا فی الحمل عاون، ومظلوما أعِن واغِث، لهفان، اِهدِ سبيلا، واهد جيرانابالعرف مُر، وانه عن نكر وكفِ اذی، وغضِ طرفا، واكثر ذكر مولانا سلام کو عام کر، اچھی گفتگو کر، چھینکنے والے کو دعا دے اور سلام کا بہتر طور پر جواب دے۔
بوجھ اٹھانے میں مدد کر، مظلوم کا تعاون کر، محتاج و ضرورت مند کی فریاد رسی کر، راستہ بتا اور ساتھیوں کو تحفہ دےنیکی کی تلقین کر، برائی سے روک، تکلیف دینے سے باز رہ، نظر نیچی رکھ اور اللہ تعالیٰ کو خوب یاد کر امام نووی، تکلیف دینے سے باز رہے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں، غیبت، بدظنی، گزرنے والوں میں سے کسی کو حقیر سمجھنا، راستہ کو تنگ کرنا، اس میں داخل ہے، اس طرح اگر بیٹھنے والوں سے گزرنے والے مرعوب ہوتے ہیں، یا ان سے خوف زدہ ہوں اور اپنے کام کاج کے لیے خوف کی وجہ سے گزر نہ سکتے ہوں، حالانکہ گزرگاہ یہی ہے تو یہ بھی تکلیف دہ بات ہے۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ راستوں (اور گلی کوچوں) میں بیٹھنے سے بچو۔ ‘‘ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا، راستوں پر بیٹھے بغیر ہمارا گزارہ نہیں کیونکہ ہم وہاں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ پس اگر تم نہیں مانتے تو راستہ کا حق ادا کرو۔ ‘‘ انہوں نے عرض کیا اس کا حق کیا ہے؟ فرمایا ’’ آنکھوں کو نیچے رکھنا۔ اذیت رسانی نہ کرنا اور سلام کا جواب دینا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا۔ ‘‘ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1316»
«أخرجه البخاري، الاستئذان، باب قول الله تعالي: "يأيها الذين آمنوا لا تدخلوا..."، حديث:6229، ومسلم، الباس والزينة، باب النهي عن الجلوس في الطرقات...،حديث:2121.»
تشریح: 1. اس حدیث سے راستوں میں‘ جہاں سے لوگ گزرتے ہوں‘ بیٹھنے اور قصہ گوئی کرنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔
2.گلی کوچوں میں بیٹھنا اور راہ چلنے والوں کے لیے راستہ تنگ کرنا کون سی شرافت ہے۔
راستوں پر خواتین کا آنا جانا بھی رہتا ہے۔
لامحالہ ان کے لیے مشکل پیدا ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ ٹریفک کے مسائل ہیں۔
اگر راستے پر بیٹھنا مجبوری ہو تو پھر اس کے حقوق کی ادائیگی ضروری ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے۔