صحيح البخاري
كتاب الأدب— کتاب: اخلاق کے بیان میں
بَابُ أَبْغَضِ الأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ: باب: اللہ کو جو نام بہت ہی زیادہ ناپسند ہیں ان کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رِوَايَةً قَالَ : " أَخْنَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ ، وَقَالَ سُفْيَانُ غَيْرَ مَرَّةٍ : أَخْنَعُ الْأَسْمَاءِ عِنْدَ اللَّهِ رَجُلٌ تَسَمَّى بِمَلِكِ الْأَمْلَاكِ ، قَالَ سُفْيَانُ : يَقُولُ غَيْرُهُ تَفْسِيرُهُ شَاهَانْ شَاهْ " .´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے ابوالزناد نے ، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ` اللہ کے نزدیک سب سے بدترین نام ۔ اور کبھی سفیان نے ایک سے زیادہ مرتبہ یہ روایت اس طرح بیان کیا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بدترین ناموں ( جمع کے صیغے کے ساتھ ) میں اس کا نام ہو گا جو ” ملک الاملاک “ اپنا نام رکھے گا ۔ سفیان نے بیان کیا کہ ابوالزناد کے غیر نے کہا کہ اس کا مفہوم ہے ” شاہان شاہ “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اللہ نے سب کو نابود کر دیا۔
آج سب ایک سطح پر ہیں مگر آج کل ان کی جگہ ممبران پارلیمنٹ واسمبلی نے لے رکھی ہے۔
إلا ما شاءاللہ۔
(1)
اصل ملک الاملاک، یعنی شاہان شاہ اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی ہے اور جو لوگ خود کو شہنشاہ کہلاتے ہیں وہ اللہ کے نزدیک انتہائی حقیر ہیں۔
اسی طرح اس نام کا ہم معنی نام بھی حرام ہے جیسے کسی کا نام احکم الحاکمین، سلطان السلاطین یا امیر الامراء رکھ دیا جائے۔
(2)
علمائے کرام نے مندرجہ بالا ترکیب کے اعتبار سے ''قاضی القضاۃ'' کہنے کہلانے کو بھی ناجائز کہا ہے اگرچہ کچھ اہل علم اس کے متعلق نرم گوشہ رکھتے ہیں۔
واللہ أعلم