حدیث نمبر: 6198
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : " وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ ، فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ ، وَدَفَعَهُ إِلَيَّ وَكَانَ أَكْبَرَ وَلَدِ أَبِي مُوسَى " .
مولانا داود راز

´ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے ، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میرے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا تو میں اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور ایک کھجور اپنے دہان مبارک میں نرم کر کے اس کے منہ میں ڈالی اور اس کے لیے برکت کی دعا کی پھر اسے مجھے دے دیا ۔ یہ ابوموسیٰ کی بڑی اولاد تھی ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأدب / حدیث: 6198
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5467 | صحيح مسلم: 2145

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5467 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5467. سیدنا ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو میں اسے لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور کھجور کو چبا کر اس کو گھٹی دی نیز اس کے لیے خیر و برکت کی دعا فرمائی پھر وہ مجھے دے دیا یہ سیدنا ابو موسیٰ ؓ کے سب سے بڑے لڑکے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5467]
حدیث حاشیہ: پیدائش کے بعد ہی بچہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تھا۔
اسی سے باب کا مطلب ثابت ہوا۔
امام ابن حبان نے ان کا نام بھی صحابہ میں شمار کیا ہے کیونکہ اس نے آنحضرت کو دیکھا مگر آپ سے روایت نہیں کی۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابن أبي عدي، عن ابن عون، عن محمد، عن أنس، وساق الحديث،‏‏ ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عدی نے بیان کیا، انہوں نے ابن عون سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اس حدیث کو (مثل سابق)
پورے طور پر بیان کیا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5467 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5467 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5467. سیدنا ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو میں اسے لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور کھجور کو چبا کر اس کو گھٹی دی نیز اس کے لیے خیر و برکت کی دعا فرمائی پھر وہ مجھے دے دیا یہ سیدنا ابو موسیٰ ؓ کے سب سے بڑے لڑکے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5467]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں پیدائش کے دن ہی نومولود کا نام رکھنے اور اسے گھٹی دینے کا ذکر ہے، اگرچہ اس حدیث سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نومولود کا نام رکھنے اور اسے گھٹی دینے میں جلدی کرنی چاہیے لیکن دیگر صحیح احادیث میں ہے کہ ساتویں روز نام رکھا جائے جیسا کہ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر بچہ اپنے عقیقے کے عوض گروی ہوتا ہے۔
پیدائش کے ساتویں روز اس کا عقیقہ کیا جائے، اس کا نام رکھا جائے اور سر کے بال صاف کرائے جائیں۔
‘‘ (سنن أبي داود، الضحایا، حدیث: 2839) (2)
امام بخاری رحمہ اللہ کا موقف یہ ہے کہ اگر عقیقہ کرنے کا پروگرام نہ ہو تو نام وغیرہ رکھنے کو ساتویں دن تک مؤخر نہیں کرنا چاہیے بلکہ پیدائش کے دن ہی نام رکھ دیا جائے اور گھٹی بھی دے دی جائے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5467 سے ماخوذ ہے۔