صحيح البخاري
كتاب الأدب— کتاب: اخلاق کے بیان میں
بَابُ تَحْوِيلِ الاِسْمِ إِلَى اسْمٍ أَحْسَنَ مِنْهُ: باب: کسی برے نام کو بدل کر اچھا نام رکھنا۔
حدیث نمبر: 6192
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ زَيْنَبَ كَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ ، فَقِيلَ : تُزَكِّي نَفْسَهَا ، فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ " .مولانا داود راز
´ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ، انہیں شعبہ نے ، انہیں عطاء بن ابی میمونہ نے ، انہیں ابورافع نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا کا نام برہ تھا ، کہا جانے لگا کہ وہ اپنی پاکی ظاہر کرتی ہیں ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام زینب رکھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
6192. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا نام برہ تھا۔ کہا گیا کہ وہ اپنی پاکی ظاہر کرتی ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام زینب رکھ دیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6192]
حدیث حاشیہ: بعض لوگوں نے کہا کہ یہ زینب بنت جحش ام المؤمنین کا نام رکھا گیا تھا۔
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے ادب المفرد میں نکالا کہ جویریہ کا بھی پہلے نام برہ رکھا گیا تھا تب آپ نے بدل کر جویریہ رکھ دیا۔
لفظ برہ بہت نیکو کار کے معنی میں ہے۔
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہیں آیا کیونکہ اس میں خود پسندی کی جھلک آتی تھی۔
لفظ زینب کے معنی موٹے جسم والی عورت۔
حضرت زینب اسم با مسمیٰ تھیں رضی اللہ عنہا۔
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے ادب المفرد میں نکالا کہ جویریہ کا بھی پہلے نام برہ رکھا گیا تھا تب آپ نے بدل کر جویریہ رکھ دیا۔
لفظ برہ بہت نیکو کار کے معنی میں ہے۔
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہیں آیا کیونکہ اس میں خود پسندی کی جھلک آتی تھی۔
لفظ زینب کے معنی موٹے جسم والی عورت۔
حضرت زینب اسم با مسمیٰ تھیں رضی اللہ عنہا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6192 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6192. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا نام برہ تھا۔ کہا گیا کہ وہ اپنی پاکی ظاہر کرتی ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام زینب رکھ دیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6192]
حدیث حاشیہ:
ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کا نام تبدیل کیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کا نام تبدیل کیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا ہوں جیسا کہ بعض روایات میں اس کی صراحت ہے۔
(صحیح مسلم، الأدب،حدیث: 5609(2142)
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام بھی برہ تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھا اور آپ یہ ناپسند کرتے تھے کہ یوں کہا جائے: وہ برہ کے پاس چلے گئے۔
(صحیح مسلم، الأدب، حدیث: 5606(2140)
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا نام بھی برہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام میمونہ رکھا۔
(الأدب المفرد، حدیث: 832)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی کا نام عاصیہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام جمیلہ رکھا۔
(صحیح مسلم، الأدب، حدیث: 5605(2139)
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی صحابہ اور صحابیات کے نام تبدیل کیے جن کی فہرست کتب حدیث میں دیکھی جا سکتی ہے۔
(سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 4956)
ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کا نام تبدیل کیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کا نام تبدیل کیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا ہوں جیسا کہ بعض روایات میں اس کی صراحت ہے۔
(صحیح مسلم، الأدب،حدیث: 5609(2142)
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام بھی برہ تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھا اور آپ یہ ناپسند کرتے تھے کہ یوں کہا جائے: وہ برہ کے پاس چلے گئے۔
(صحیح مسلم، الأدب، حدیث: 5606(2140)
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا نام بھی برہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام میمونہ رکھا۔
(الأدب المفرد، حدیث: 832)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی کا نام عاصیہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام جمیلہ رکھا۔
(صحیح مسلم، الأدب، حدیث: 5605(2139)
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی صحابہ اور صحابیات کے نام تبدیل کیے جن کی فہرست کتب حدیث میں دیکھی جا سکتی ہے۔
(سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 4956)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6192 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3732 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نا مناسب ناموں کی تبدیلی کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ” زینب کا نام بّرہ تھا “ (یعنی نیک بخت اور صالحہ) لوگوں نے اعتراض کیا کہ یہ اپنی تعریف آپ کرتی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر زینب رکھ دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3732]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ” زینب کا نام بّرہ تھا “ (یعنی نیک بخت اور صالحہ) لوگوں نے اعتراض کیا کہ یہ اپنی تعریف آپ کرتی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر زینب رکھ دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3732]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اچھے نام میں تعریف کا پہلو تو ہوتا ہی ہے لیکن بعض ناموں میں یہ زیادہ واضح ہوتا ہے۔
ایسے ناموں سے اجتناب بہتر ہے۔
(2)
’’زینب‘‘ ایک قسم کی خوشبودار نباتات کا نام ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اچھے نام میں تعریف کا پہلو تو ہوتا ہی ہے لیکن بعض ناموں میں یہ زیادہ واضح ہوتا ہے۔
ایسے ناموں سے اجتناب بہتر ہے۔
(2)
’’زینب‘‘ ایک قسم کی خوشبودار نباتات کا نام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3732 سے ماخوذ ہے۔