صحيح البخاري
كتاب الأدب— کتاب: اخلاق کے بیان میں
بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ: باب: کسی کا یہ کہنا اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ أَقْبَلَ هُوَ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةُ مُرْدِفُهَا عَلَى رَاحِلَتِهِ ، فَلَمَّا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَثَرَتِ النَّاقَةُ ، فَصُرِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَرْأَةُ ، وَأَنَّ أَبَا طَلْحَةَ قَالَ : أَحْسِبُ اقْتَحَمَ عَنْ بَعِيرِهِ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ ، هَلْ أَصَابَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنْ عَلَيْكَ بِالْمَرْأَةِ " فَأَلْقَى أَبُو طَلْحَةَ ثَوْبَهُ عَلَى وَجْهِهِ فَقَصَدَ قَصْدَهَا ، فَأَلْقَى ثَوْبَهُ عَلَيْهَا ، فَقَامَتِ الْمَرْأَةُ ، فَشَدَّ لَهُمَا عَلَى رَاحِلَتِهِمَا ، فَرَكِبَا فَسَارُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِظَهْرِ الْمَدِينَةِ ، أَوْ قَالَ أَشْرَفُوا عَلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ " ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُهَا حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ .´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی اسحاق نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ` وہ اور ابوطلحہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( مدینہ منورہ کے لیے ) روانہ ہوئے ۔ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے تھیں ، راستہ میں کسی جگہ اونٹنی کا پاؤں پھسل گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین گر گئے ۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے ابوطلحہ نے اپنی سواری سے فوراً اپنے کو گرا دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے اور عرض کیا : یا نبی اللہ ! اللہ آپ پر مجھے قربان کرے کیا آپ کو کوئی چوٹ آئی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ، البتہ عورت کو دیکھو ۔ چنانچہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کپڑا اپنے چہرے پر ڈال لیا ، پھر ام المؤمنین کی طرف بڑھے اور اپنا کپڑا ان کے اوپر ڈال دیا ۔ اس کے بعد وہ کھڑی ہو گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین کے لیے ابوطلحہ نے پالان مضبوط باندھا ۔ اب آپ نے سوار ہو کر پھر سفر شروع کیا ، جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچے ( یا یوں کہا کہ مدینہ دکھائی دینے لگا ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «آيبون تائبون ، عابدون لربنا حامدون» ” ہم لوٹنے والے ہیں توبہ کرتے ہوئے اپنے رب کی عبادت کرتے ہوئے اور اس کی حمد بیان کرتے ہوئے ۔ “ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے برابر کہتے رہے یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہو گئے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
بولا۔
جس کو آپ نے ناپسند نہیں فرمایا۔
اسی سے باب کا مطلب ثابت ہوا۔
مدینہ منورہ خیریت سے واپسی پر آپ نے آئبون تائبون الخ کے الفاظ استعمال فرمائے۔
اب بھی سفر سے وطن بخیریت واپسی پر ان الفاظ کا ورد کرنا مسنون ہے۔
خاص طور پر حاجی لوگ جب وطن پہنچیں تو یہ دعا پڑھتے ہوئے اپنے شہر یا بستی میں داخل ہوں۔
(1)
اس حدیث میں صراحت ہے کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ’’اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے!‘‘ اگر ایسا کہنا جائز نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے منع فرما دیتے۔
ہمارے رجحان کے مطابق اگر کوئی اپنے سے بڑے صاحب علم و فضل کو عزت افزائی کے لیے کہے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ثواب بھی دے گا کیونکہ یہ اس توقیر و احترام سے ہے جس کا شریعت نے ہمیں حکم دیا ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث ذکر کی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لیے گئے تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا حال ہے؟ اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ابھی تک تم نے اپنی بدویت کو نہیں چھوڑا۔
‘‘ (شعب الإیمان للبیهقي: 459/6، رقم: 8892)
لیکن یہ حدیث ضعیف ہے اور صحیح روایات کے مقابلے میں پیش نہیں کی جا سکتی۔
اگر صحیح بھی ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مریض کو اس طرح کے کلمات نہیں کہنے چاہئیں بلکہ اس کے لیے انس و نرمی اور دعائے شفا کرنی چاہیے۔
(فتح الباري: 698/10)
غزوۂ خیبر میں حضرت انس رضی اللہ عنہ بطور خدمت گار شریک ہوئے تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کریں گے۔
حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اونٹنی کے پھسل جانے کے بعد تمام خدمات حضرت انس رضی اللہ عنہ نے سر انجام دیں، حالانکہ ایسا نہیں کیونکہ اس وقت ان کی عمر صرف دس برس تھی اور کم سن بچے تھے بلکہ یہ تمام خدمات ان کی والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے شوہر نامدار حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے انجام دی تھیں جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں اس کی وضاحت ہے۔
(صحیح البخاري، الجھاد والسیر، حدیث: 3086)