مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 6169
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمْ يَلْحَقْ بِهِمْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " " ، تَابَعَهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ، وَأَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا داود راز

´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود نے کہ` ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کا اس شخص کے بارے میں کیا ارشاد ہے جو ایک جماعت سے محبت رکھتا ہے لیکن ان سے میل نہیں ہو سکا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے ۔ اس روایت کی متابعت جریر بن حازم ، سلیمان بن قرم اور ابوعوانہ نے اعمش سے کی ، ان سے ابووائل نے ، ان سے عبداللہ بن مسعود نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأدب / حدیث: 6169
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6168

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
6169. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اللہ کے رسول! آپ اس آدمی کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو لوگوں سے محبت رکھتا ہے لیکن (عمل و کردار میں) ان میں سے نہیں ہوسکا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔ جریر بن حازم، سلیمان بن قرم اور ابو عوانہ نے اعمش سے روایت کرنے میں جریر بن عبدالحمید کی متابعت کی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6169]
حدیث حاشیہ: محبت بھی ایک عظیم ترین وسیلہ نجات ہے۔
مگر محبت کے ساتھ اطاعت نبوی اور عمل بھی مطابق سنت ہونا ضروری ہے۔
مسلک سنت پہ اے سالک چلا جا بے دھڑک جنت الفردوس کو سیدھی گئی ہے یہ سڑک
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6169 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔