حدیث نمبر: 6166
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، سَمِعْتُ أَبِي ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَيْلَكُمْ أَوْ وَيْحَكُمْ " قَالَ شُعْبَةُ : شَكَّ هُوَ " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " ، وَقَالَ النَّضْرُ : ، عَنْ شُعْبَةَ " وَيْحَكُمْ " ، وَقَالَ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ : عَنْ أَبِيهِ ، " وَيْلَكُمْ أَوْ وَيْحَكُمْ " .
مولانا داود راز

´ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے واقد بن محمد بن زید نے بیان کیا ، انہوں نے ان کے والد سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، افسوس ( «ويلكم» یا «ويحكم» ) شعبہ نے بیان کیا کہ شک ان کے شیخ ( واقد بن محمد کو ) تھا ۔ میرے بعد تم کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو ۔ اور نضر نے شعبہ سے بیان کیا «ويحكم» اور عمر بن محمد نے اپنے والد سے «ويلكم» یا «ويحكم» کے لفظ نقل کئے ہیں ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأدب / حدیث: 6166
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عمران ایوب لاہوری
´بعض کبیرہ گناہوں پر کفر کا لفظ بولا گیا ہے`
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَيْلَكُمْ أَوْ وَيْحَكُمْ" قَالَ شُعْبَةُ: شَكَّ هُوَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ . . .»
". . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، افسوس «ويلكم» یا «ويحكم» شعبہ نے بیان کیا کہ شک ان کے شیخ (واقد بن محمد کو) تھا۔ میرے بعد تم کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو . . ." [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ: 6166]
لغوی توضیح:
«اسْتَنصِت» خاموشی کا حکم دو۔
«رِقَاب» جمع ہے «رَقَبَة» کی، معنی ہے گردنیں۔
فہم الحدیث:
یہ اور اس جیسی جن دیگر احادیث میں بعض کبیرہ گناہوں پر کفر کا لفظ بولا گیا ہے ان سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ یہ کفار کے کام ہیں جو مسلمانوں کو نہیں کرنے چاہئیں، یہ مراد نہیں کہ ان کا مرتکب کافر ہو جاتا جیسا کہ یہ چیز کتاب و سنت کے واضح دلائل سے ثابت ہے، لہٰذا یہ اور اس جیسی دیگر احادیث کی یہ تاویل کی جائے گی کہ ان اعمال کا ارتکاب کرنے والا دائرہ کفر میں اسی حد تک داخل ہو جاتا ہے جتنا وہ گناہ کرتا ہے لیکن وہ مکمل کافر نہیں ہوتا۔ [منة المنعم فى شرح مسلم 93/1]
درج بالا اقتباس جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 45 سے ماخوذ ہے۔

✍️ مولانا داود راز
6166. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا: "تم پر افسوس! میرے بعد تم کافروں کی طرح نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو۔" نضر نے شعبہ سے ویحکم روایت ہے جبکہ عمر بن محمد نے اپنے باپ سے ویلکم یا ویحکم کے الفاظ نقل کیے ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6166]
حدیث حاشیہ: مطلب ایک ہی ہے۔
باہمی قتل وغارت اسلامی شیوہ نہیں بلکہ یہ شیوئہ کفار ہے اللہ ہم کو اس پر غور کرنے کی توفیق دے۔
(آمین)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6166 سے ماخوذ ہے۔