صحيح البخاري
كتاب الأدب— کتاب: اخلاق کے بیان میں
بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الشِّعْرِ وَالرَّجَزِ وَالْحُدَاءِ وَمَا يُكْرَهُ مِنْهُ: باب: شعر، رجز اور حدی خوانی کا جائز ہونا۔
حدیث نمبر: 6145
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً " .مولانا داود راز
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ کو ابوبکر بن عبدالرحمٰن نے خبر دی ، انہیں مروان بن حکم نے خبر دی ، انہیں عبدالرحمٰن بن اسود بن عبد یغوث نے خبر دی ، انہیں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بعض شعروں میں دانائی ہوتی ہے ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
6145. حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کچھ اشعار بہت حکمت بھرے ہوتے ہیں۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6145]
حدیث حاشیہ: معلوم ہوا کہ پراز حکمت ودانش واسلامیات کے اشعار مذموم نہیں ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6145 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6145. حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کچھ اشعار بہت حکمت بھرے ہوتے ہیں۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6145]
حدیث حاشیہ:
(1)
حکمت سے مراد وہ سچی بات ہے جو واقع کے مطابق ہو۔
جو اشعار وعظ و نصیحت اور حق و صداقت پر مبنی ہوں انہیں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، البتہ وہ اشعار جو بےہودہ گوئی، جھوٹ اور باطل سے ہم آہنگ ہوں انہیں پڑھنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابۂ کرام، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دور جاہلیت کی باتوں کا تذکرہ کرتے، شعر پڑھا کرتے تھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں منع نہیں کرتے تھے بلکہ بعض اوقات تبسم فرما کر محظوظ ہوتے تھے۔
(مسند أحمد: 5/91) (2)
شارح صحیح بخاری ابن بطال نے کہا کہ جو شعر اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کی تعظیم و تکریم اور اس کی توحید و اطاعت پر مشتمل ہوں انہی کو حدیث میں ''حکمت'' سے تعبیر کیا گیا ہے اور جو فحش، بے ہودہ اور جھوٹ ہوں وہ قابل مذمت ہیں، ایسے اشعار نہیں پڑھنے چاہئیں۔
(فتح الباري: 663/10)
(1)
حکمت سے مراد وہ سچی بات ہے جو واقع کے مطابق ہو۔
جو اشعار وعظ و نصیحت اور حق و صداقت پر مبنی ہوں انہیں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، البتہ وہ اشعار جو بےہودہ گوئی، جھوٹ اور باطل سے ہم آہنگ ہوں انہیں پڑھنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابۂ کرام، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دور جاہلیت کی باتوں کا تذکرہ کرتے، شعر پڑھا کرتے تھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں منع نہیں کرتے تھے بلکہ بعض اوقات تبسم فرما کر محظوظ ہوتے تھے۔
(مسند أحمد: 5/91) (2)
شارح صحیح بخاری ابن بطال نے کہا کہ جو شعر اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کی تعظیم و تکریم اور اس کی توحید و اطاعت پر مشتمل ہوں انہی کو حدیث میں ''حکمت'' سے تعبیر کیا گیا ہے اور جو فحش، بے ہودہ اور جھوٹ ہوں وہ قابل مذمت ہیں، ایسے اشعار نہیں پڑھنے چاہئیں۔
(فتح الباري: 663/10)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6145 سے ماخوذ ہے۔