صحيح البخاري
كتاب الأدب— کتاب: اخلاق کے بیان میں
بَابُ إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَخِدْمَتِهِ إِيَّاهُ بِنَفْسِهِ: باب: مہمان کی عزت اور خود اس کی خدمت کرنا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ فَلَا يَقْرُونَنَا ، فَمَا تَرَى ؟ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ " .´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، ہم سے لیث بن سعد نے ، ان سے یزید بن ابی حبیب نے ، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں ( تبلیغ وغیرہ کے لیے ) بھیجتے ہیں اور راستے میں ہم بعض قبیلوں کے گاؤں میں قیام کرتے ہیں لیکن وہ ہماری مہمانی نہیں کرتے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سلسلے میں کیا ارشاد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ہم سے فرمایا کہ جب تم ایسے لوگوں کے پاس جا کر اترو اور وہ جیسا دستور ہے مہمانی کے طور پر تم کو کچھ دیں تو اسے منظور کر لو اگر نہ دیں تو مہمانی کا حق قاعدے کے موافق ان سے وصول کر لو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
آج ہوٹلوں کا دور ہے مگرحدیث کا منشاء آج بھی واجب العمل ہے کہ مہمانوں کی خبر گیری کرنا ضروری ہے۔
مولوی عبدالحق بن فضل اللہ غزنوی جو امام شوکانی کے بلاواسطہ شاگرد تھے اور مترجم (وحیدالزماں)
نے صغر سنی میں ان سے تلمذ کیا ہے، بڑے ہی متبع سنت اورحق پرست تھے۔
مولانا موصوف کا قاعدہ تھا کہ کسی کے ہاں جاتے تو تین دن سے زیادہ ہر گز نہ کھاتے بلکہ تین دن کے بعد اپنا انتظام خود کرتے۔
(رحمۃ اللہ علیہ)
بعض حضرات نے لکھا ہے کہ یہ حکم مخمصہ کی حالت کا ہے۔
بادیہ اور گاؤں کے دور دراز علاقوں میں اگر کوئی مسافر خصوصاً عرب کے ماحول میں پہنچتا تو اس کے لیے کھانے پینے کا ذریعہ اہل بادیہ کی میزبانی کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔
تو مطلب یہ ہوا کہ اگر ایسا موقع ہو اور قبیلہ والے ضیافت سے انکار کردیں، ادھر مجاہد مسافروں کے پاس کوئی سامان نہ ہو تو وہ اپنی جان بچانے کے لیے ان سے اپنا کھانا پینا ان کی مرضی کے خلاف بھی وصول کرسکتے ہیں۔
اس طرح کی رخصتیں اسلام میں مخمصہ کے اوقات میں ہیں۔
دوسری توجیہ یہ کی گئی ہے کہ ضیافت اہل عرب میں ایک عام عرف و عادت کی حیثیت رکھتی تھی۔
اس لیے اس عرف کی روشنی میں مجاہدین کو آپ نے ہدایت دی تھی۔
ایک توجیہ یہ بھی کی گئی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عرب کے بہت سے قبائل سے معاہدہ کیا تھا کہ اگر مسلمانوں کا لشکر ان کے قبیلہ سے گزرے اور ایک دو دن کے لیے ان کے یہاں قیام کرے تو وہ لشکر کی ضیافت کریں۔
یہ معاہدہ حضور اکرم ﷺ کے ان مکاتیب میں موجو دہے جو آپ نے قبائل عرب کے سرداروں کے نام بھیجے تھے۔
اور جن کی تخریج زیلعی نے بھی کی ہے۔
بہرحال مختلف توجیہات اس کی کی گئی ہیں۔
(1)
مالی معاملات میں یہ گنجائش ہے کہ زبردستی چھینا ہوا اپنا مال کسی بھی طریقے سے واپس لیا جا سکتا ہے، البتہ بدنی عقوبات میں یہ حکم نہیں بلکہ ایسے حالات میں حاکم وقت، یعنی عدالت کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔
(2)
اس حدیث سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ مہمانی واجب ہے۔
اگر کوئی میزبانی نہ کرے تو مہمان زبردستی اپنا حق لے سکتا ہے۔
لیکن جمہور محدثین کے نزدیک ضیافت سنت مؤکدہ ہے اور مذکورہ حدیث ایسے مجبور لوگوں سے متعلق ہے جن کے پاس زادراہ ختم ہو جائے اور ان کے پاس کھانے پینے کے لیے کچھ نہ ہو۔
ہمارے رجحان کے مطابق اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو مسلمانوں کے مفتوحہ علاقوں میں کسی مقصد کے لیے جاتے تو اس زمانے میں سرکاری طور پر میزبانی کا اہتمام نہیں ہوتا تھا تو وہاں کے باشندے میزبانی کرتے تھے، آج کل چونکہ سرکاری انتظام ہوتا ہے یا عملہ تنخواہ دار ہے، اس لیے اب واجب تو نہیں، البتہ اخلاقی فرض ضرور ہے کہ وہ لوگ ضیافت کا اہتمام کریں۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ ہم کو لوگوں کے پاس بھیجتے ہیں، اور ہم ان کے پاس اترتے ہیں تو وہ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے، ایسی صورت میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: " جب تم کسی قوم کے پاس اترو اور وہ تمہارے لیے ان چیزوں کے لینے کا حکم دیں جو مہمان کو درکار ہوتی ہیں، تو انہیں لے لو، اور اگر نہ دیں تو اپنی مہمان نوازی کا حق جو ان کے لیے مناسب ہو ان سے وصول کر لو " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3676]
فوائد و مسائل:
(1)
سرکاری امور کی انجام کی دہی کےلیے آنے والے سرکاری ملازم کی کھانے پینے اور رہائش کی ضرورت پوری کرنا بستی والوں کے لیے ضروری ہے۔
(2)
آج کل بڑے شہروں میں ایسے ملازمین کے لیے ٹھہرنے کا انتظام سرکاری طور پر ہوتا ہے، افسروں کو وہاں ٹھہرنا چاہیے اور کسی ماتحت پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔
(3)
جب سرکاری ملازم کو حکومت کی طرف سے سفر خرچ وغیرہ (ٹی اے۔
ڈی اے)
مہیا کیا جائے تو ملازم کو چاہیے کہ اس سے مناسب حد تک اپنی ضروریات پوری کرے۔
فضول خرچی کر کے یا غلط بیانی کر کے جائز حد سے زیادہ رقم وصول نہ کرے۔