صحيح البخاري
كتاب الأدب— کتاب: اخلاق کے بیان میں
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَسِّرُوا وَلاَ تُعَسِّرُوا»: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ آسانی کرو، سختی نہ کرو۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَ لَهُمَا : " يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا ، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا ، وَتَطَاوَعَا " قَالَ أَبُو مُوسَى : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا بِأَرْضٍ يُصْنَعُ فِيهَا شَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ يُقَالُ لَهُ : الْبِتْعُ ، وَشَرَابٌ مِنَ الشَّعِيرِ يُقَالُ لَهُ : الْمِزْرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .´مجھ سے اسحاق نے بیان کیا ، کہا ہم سے نضر نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، انہیں سعید بن ابی بردہ نے ، انہیں ان کے والد نے اور ان سے ان کے دادا نے بیان کیا کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) اور معاذ بن جبل کو ( یمن ) بھیجا تو ان سے فرمایا کہ ( لوگوں کے لیے ) آسانیاں پیدا کرنا ، تنگی میں نہ ڈالنا ، انہیں خوشخبری سنانا ، دین سے نفرت نہ دلانا اور تم دونوں آپس میں اتفاق سے کام کرنا ، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم ایسی سر زمین میں جا رہے ہیں جہاں شہد سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے «بتع» کہا جاتا ہے اور جَو سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے «مزر.» کہا جاتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
افیون مدک چنڈو شراب وغیرہ یہ سب اسی میں داخل ہیں۔
1۔
جو چیزیں کھانے کی ہوں یا پینے کی، جب نشہ آور ہوں تو حرام ہیں۔
افیون، بھنگ اورچرس وغیرہ سب اس میں شامل ہیں۔
2۔
جس کے زیادہ استعمال سے نشہ آئے اس کی کم مقدار بھی حرام ہے۔
3۔
حدیث میں مذکور جوس یا مشروبات اس وقت حرام ہوں گے جب وہ نشہ آور ہوں۔
اس سے معلوم ہوا کہ کھجور، جو، شہد اور مکئی وغیرہ کا نبیذ پیناجائزہے بشرط یہ کہ وہ نشہ آور نہ ہو، اگران میں نشہ پیدا ہوجائے تو ان کا پیناحرام ہے۔
وکیع کی روایت کو امام بخاری ؒ نے جہاد میں اور ابو داؤد طیالسی کی روایت کوامام نسائی نے اور نضر کی روایت کو امام بخاری نے ادب میں وصل کیا ہے۔
مطلب امام بخاری کا یہ ہے کہ وکیع اور نضر اور ابو داودنے شعبہ سے اس حدیث کو موصولاً روایت کیا اور مسلم بن ابراہیم اور عقدی اور جریر نے مرسلاًروایت کیا۔
اس میں مبلغین کے لیے خاص ہدایات ہیں کہ لوگوں کو نفرت نہ دلائیں، دشوار باتیں ان کے سامنے نہ رکھيں، آپس میں مل جل کر کام کریں۔
اللہ یہی توفیق بخشے۔
آمین یا رب العالمین مگر آج کل ایسے مبلغین بہت کم ہیں۔
الاماشاءاللہ۔
1۔
لفظ (أَتَفَوَّق)
، فواق، ناقة سے ماخوذ ہے، مطلب یہ ہے کہ میں دن رات تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ہمیشہ قرآن پڑھتا رہتا ہوں، چنانچہ فواق ناقہ یہی ہے کہ ایک مرتبہ اونٹنی کا دودھ لیا جائے، پھر اسے چھوڑدیا جائے تاکہ وہ باقی ماندہ دودھ اتارلے، پھر اس کا دودھ نکال لیا جائے، اس طرح وقفے وقفے سے اس کادودھ نکالاجاتا ہے۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ اس انداز سے قرآن کی تلاوت کرتے تھے اور اسی کو اپنا معمول بنایا تھا جبکہ حضرت معاذ بن جبل ؓ نے رات کے حصے متعین کررکھے تھے، کچھ سونے کے لیے اور کچھ تلاوت قرآن کے لیے۔
الغرض ان کا سونا بھی اس غرض کے لیے ہوتا تھا کہ وہ قیام کے لیے معاون ثابت ہو۔
اس نیت سے سونا بھی عبادت ہے۔
2۔
واضح رہے کہ نرمی کا مطلب حدودوقصاص میں نرمی کرنا نہیں بلکہ دنیوی اور انتظامی امورمیں نرمی کرنا ہے کیونکہ حدود کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور اگرتم اللہ اور یوم آخرت پر یقین رکھتے ہوتو اللہ کے دین کے معاملے میں تمھیں ان(مرد،عورت)
دونوں پرترس نہیں آنا چاہیے۔
‘‘ (النور: 2: 24)
3۔
مبلغین کے لیے اس میں خاص ہدایت ہے کہ وہ لوگوں کو نفرت نہ دلائیں، مشکل اور سخت باتیں ان کے سامنے نہ رکھیں، آپس میں مل جل کر کام کریں، اتفاق واتحاد سے رہیں، ایک دوسرے کی بات مانیں، مگرآج کل ایسے مبلغین بہت کم ہیں۔
أعطي جوامع الكلم بخاتمه: انتہائی کم الفاظ جو بہت ساے مفہوم ومعنی پر مشتمل ہوں، کوئی چیز اس سے خارج نہ ہو، یعنی جامع اور مانع کلمات سے نوازے گئے۔
مزر: یہ شراب مکئی یا جو گندم سے تیار کی جاتی ہے۔
اسود بن شیبان سدوسی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطا سے سنا ایک شخص نے ان سے پوچھا: ہم لوگ سفر پر نکلتے ہیں تو ہمیں بازاروں میں مشروب نظر آتے ہیں، ہمیں یہ نہیں معلوم ہوتا کہ وہ کن برتنوں میں تیار ہوئے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے، انہوں نے (اپنا سوال) دہرایا تو انہوں نے کہا: جو چیزیں نشہ لانے والی ہوں وہ سب حرام ہیں، انہوں نے پھر دہرایا تو انہوں نے کہا: جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اصل وہی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5601]
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن بھیجا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہاں مشروب بہت ہوتے ہیں، تو میں کیا پیوں اور کیا نہ پیوں؟ آپ نے فرمایا: ” وہ کیا کیا ہیں؟ “ میں نے عرض کیا: «بتع» اور «مزر» ، آپ نے فرمایا: «بتع» اور «مزر» کیا ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا: «بتع» تو شہد کا نبیذ ہے اور «مزر» مکئی کا نبیذ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کوئی نشہ لانے والی چیز مت پیو، اس لیے کہ میں نے ہر نشہ ل [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5606]
(2) ہر علاقے کے کھانے اور مشروب الگ الگ ہوتے ہیں۔ دوسرے علاقے کے لوگ ان سے واقف نہیں ہوتے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے بتع اور مزر کے بارے میں پوچھنا پڑا کیو نکہ ہر علاقے کی اصطلاحات اپنی ہوتی ہیں۔ یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔
(3) ”مزر“ کے معنیٰ مکئی اور جو کی شراب کے کیے گئے ہیں۔ شرح مسلم میں امام نووی ؒ فرماتے ہیں کہ گندم سے بھی یہ شراب بنائی جاتی ہے۔
(4) ”حرام قرار دے چکا ہوں“ یعنی اللہ تعالی کے حکم سے کیونکہ حلت وحرمت کا اختیار اللہ تعالی کوہے۔ وحی کے ذریعے سے بتائے یا وحی خفی کے ذریعے سے۔