حدیث نمبر: 6119
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مَوْلَى أَنَسٍ , قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي عُتْبَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ ، يَقُولُ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا " .مولانا داود راز
´ہم سے علی بن الجعد نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، انہیں قتادہ نے ، انہیں انس رضی اللہ عنہ کے غلام قتادہ نے ، ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ان کا نام عبداللہ بن ابی عتبہ ہے ، میں نے ابوسعید سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پردہ میں رہنے والی کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیاء والے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأدب / حدیث: 6119
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3562 | صحيح البخاري: 6102 | صحيح مسلم: 2320 | سنن ابن ماجه: 4180
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6119. حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ پردہ نشین کنواری لڑکیوں ست بھی زیادہ حیا دار تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6119]
حدیث حاشیہ:
(1)
حیا کی دو قسمیں ہیں: ایک طبعی اور دوسری کسبی، طبعی حیا انسان کی فطرت اور جبلت میں ہوتی ہے۔
کچھ لوگ طبعاً شرمیلے ہوتے ہیں۔
اور حیا کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ انسان محنت کر کے اسے اپنے اندر پیار کرتا ہے۔
بعض اوقات طبعی حیا اکتسابی حیا کے لیے معاون بن جاتی ہے اور بعض اوقات اکتسابی حیا انسان کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس حیا کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے اس سے مراد اکتسابی حیا ہے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حیا کی دونوں قسمیں بدرجۂ اتم موجود تھیں۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس حیا کا ذکر ہے وہ طبعی اور فطری ہے اور اکتسابی حیا بھی بہت اعلیٰ درجے کی تھی۔
(3)
شاید امام بخاری رحمہ اللہ نے حیا کے باب میں اس آخری حدیث کو اس لیے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حیا کی دونوں قسموں کو ثابت کیا جائے کہ وہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں بدرجۂ اتم موجود تھیں۔
(فتح الباري: 642/10)
(1)
حیا کی دو قسمیں ہیں: ایک طبعی اور دوسری کسبی، طبعی حیا انسان کی فطرت اور جبلت میں ہوتی ہے۔
کچھ لوگ طبعاً شرمیلے ہوتے ہیں۔
اور حیا کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ انسان محنت کر کے اسے اپنے اندر پیار کرتا ہے۔
بعض اوقات طبعی حیا اکتسابی حیا کے لیے معاون بن جاتی ہے اور بعض اوقات اکتسابی حیا انسان کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس حیا کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے اس سے مراد اکتسابی حیا ہے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حیا کی دونوں قسمیں بدرجۂ اتم موجود تھیں۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس حیا کا ذکر ہے وہ طبعی اور فطری ہے اور اکتسابی حیا بھی بہت اعلیٰ درجے کی تھی۔
(3)
شاید امام بخاری رحمہ اللہ نے حیا کے باب میں اس آخری حدیث کو اس لیے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حیا کی دونوں قسموں کو ثابت کیا جائے کہ وہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں بدرجۂ اتم موجود تھیں۔
(فتح الباري: 642/10)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6119 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3562 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3562. حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ پردہ نشین دوشیزہ سے بھی زیادہ شرمیلے اورحیادار تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3562]
حدیث حاشیہ: بزار کی روایت میں ہے کہ آپ کا کبھی کسی نے ستر نہیں دیکھا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3562 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3562 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3562. حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ پردہ نشین دوشیزہ سے بھی زیادہ شرمیلے اورحیادار تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3562]
حدیث حاشیہ:
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت حیادارتھے۔
اس حیاداری کا نتیجہ تھا کہ اگر کوئی چیز آپ کی طبیعت پر ناگوار گزرتی تو اس کا اظہار کرتے بلکہ اس سے چہرہ انور تبدیل ہوجاتا جسے آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین پہچان لیتے تھے لیکن آپ کسی سے اس کاذکر نہیں کرتے تھے۔
یہ معاشرتی طور پر ایک بہترین خصلت ہے۔
2۔
واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سراپا شرم وحیا ہونا حدود اللہ کے علاوہ دیگرمعاملات میں تھا کیونکہ حدود اللہ کے نفاذ میں آپ نے کبھی رواداری کا مظاہرہ نہیں کیا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شرم وحیا کی وجہ سے اپنے حجرات کے پیچھے غسل فرمایا کرتے تھے،کسی نے آپ کی شرمگاہ کو نہیں دیکھا۔
(المعجم الکبیر للطبراني: 85/11 طبع مکتبة العلوم والحکم وفتح الباري: 705/6)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیا کنواری جو پردے میں ہو،اس کی حیا سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ خاوند تک پہنچنے اور عورتوں کے ساتھ میل جول سے پہلے وہ سخت حیادار ہوتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی زیادہ باحیا تھے۔
3۔
حدیث میں پردے کی صفت اس لیے بیان ہوئی ہے کہ پردہ دار عورت ان عورتوں سے زیادہ حیادار ہوتی ہے جو پردہ نہیں کرتیں اور بازاروں میں گھومتی پھرتی ہیں۔
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت حیادارتھے۔
اس حیاداری کا نتیجہ تھا کہ اگر کوئی چیز آپ کی طبیعت پر ناگوار گزرتی تو اس کا اظہار کرتے بلکہ اس سے چہرہ انور تبدیل ہوجاتا جسے آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین پہچان لیتے تھے لیکن آپ کسی سے اس کاذکر نہیں کرتے تھے۔
یہ معاشرتی طور پر ایک بہترین خصلت ہے۔
2۔
واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سراپا شرم وحیا ہونا حدود اللہ کے علاوہ دیگرمعاملات میں تھا کیونکہ حدود اللہ کے نفاذ میں آپ نے کبھی رواداری کا مظاہرہ نہیں کیا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شرم وحیا کی وجہ سے اپنے حجرات کے پیچھے غسل فرمایا کرتے تھے،کسی نے آپ کی شرمگاہ کو نہیں دیکھا۔
(المعجم الکبیر للطبراني: 85/11 طبع مکتبة العلوم والحکم وفتح الباري: 705/6)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیا کنواری جو پردے میں ہو،اس کی حیا سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ خاوند تک پہنچنے اور عورتوں کے ساتھ میل جول سے پہلے وہ سخت حیادار ہوتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی زیادہ باحیا تھے۔
3۔
حدیث میں پردے کی صفت اس لیے بیان ہوئی ہے کہ پردہ دار عورت ان عورتوں سے زیادہ حیادار ہوتی ہے جو پردہ نہیں کرتیں اور بازاروں میں گھومتی پھرتی ہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3562 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6102 کی شرح از محمد حسین میمن ✍️
´غصہ میں جن پر عتاب ہے ان کو مخاطب نہ کرنا`
«. . . عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا، فَإِذَا رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ . . .»
”. . . ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ شرمیلے تھے، جب آپ کوئی ایسی چیز دیکھتے جو آپ کو ناگوار ہوتی تو ہم آپ کے چہرے مبارک سے سمجھ جاتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ: 6102]
«. . . عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا، فَإِذَا رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ . . .»
”. . . ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ شرمیلے تھے، جب آپ کوئی ایسی چیز دیکھتے جو آپ کو ناگوار ہوتی تو ہم آپ کے چہرے مبارک سے سمجھ جاتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ: 6102]
صحیح بخاری کی حدیث نمبر: 6102 کا باب: «بَابُ مَنْ لَمْ يُوَاجِهِ النَّاسَ بِالْعِتَابِ:»
باب اور حدیث میں مناسبت: امام عالی مقام امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب میں فرمایا کہ غصہ میں جن پر عتاب ہوا انہیں مخاطب نہ کرنا، تحت الباب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے حدیث نقل فرمائی، حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے باب کی مطابقت ظاہر ہے، مگر سیدنا ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے باب کی مطابقت کچھ مشکل ہے، کیوں کہ حدیث میں مخاطب کرنے کا کوئی ذکر نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جن پر غصہ ہوتے انہیں مخاطب کرتے یا نہ کرتے، چنانچہ علامہ عینی رحمہ اللہ باب اور حدیث میں مناسبت دیتے ہوئے فرماتے ہیں: «مطابقة للترجمة من حيث إنه لشدة حيائه لا يعاتب أحدًا فى وجهه.»
”یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں حیاء بہت زیادہ تھی اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو شخصی طور پر مخاطب کر کے نہیں ڈانٹتے تھے۔“
محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ باب اور حدیث میں مناسبت دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ”امام بخاری رحمہ اللہ ترجمۃ الباب کے ذریعے اس حدیث کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں جسے امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب حسن العشرۃ، (رقم الحدیث: 4788-4789) میں ذکر فرمایا ہے: ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی آدمی سے کوئی بری بات پہنچتی تو آپ یوں نہ فرماتے کہ کیا حال ہے فلاں کا؟ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں کہتے: ”کیا حال ہے لوگوں کا، وہ یوں یوں کہتے ہیں۔“(1)
شیخ الحدیث صاحب کے مطابق امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب میں جو مفہوم واضح کرنے کی کوشش فرمائی ہے اس کی مؤید ابوداؤد کی حدیث ہے، یعنی ابوداؤد کی حدیث کی طرف بھی امام بخاری رحمہ اللہ کا اشارہ مقصود ہے۔
لہذا ترجمۃ الباب سے حدیث کی مناسبت یوں قائم ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی متعین شخص کو مخاطب فرما کر عتاب نہیں فرماتے تھے، بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے اس عمل کا ناپسندیدہ ہونا پہچان لیتے، جیسا کہ ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے واضح ہے، پس یہیں سے باب اور حدیث میں مطابقت ہے۔
باب اور حدیث میں مناسبت: امام عالی مقام امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب میں فرمایا کہ غصہ میں جن پر عتاب ہوا انہیں مخاطب نہ کرنا، تحت الباب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے حدیث نقل فرمائی، حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے باب کی مطابقت ظاہر ہے، مگر سیدنا ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے باب کی مطابقت کچھ مشکل ہے، کیوں کہ حدیث میں مخاطب کرنے کا کوئی ذکر نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جن پر غصہ ہوتے انہیں مخاطب کرتے یا نہ کرتے، چنانچہ علامہ عینی رحمہ اللہ باب اور حدیث میں مناسبت دیتے ہوئے فرماتے ہیں: «مطابقة للترجمة من حيث إنه لشدة حيائه لا يعاتب أحدًا فى وجهه.»
”یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں حیاء بہت زیادہ تھی اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو شخصی طور پر مخاطب کر کے نہیں ڈانٹتے تھے۔“
محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ باب اور حدیث میں مناسبت دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ”امام بخاری رحمہ اللہ ترجمۃ الباب کے ذریعے اس حدیث کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں جسے امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب حسن العشرۃ، (رقم الحدیث: 4788-4789) میں ذکر فرمایا ہے: ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی آدمی سے کوئی بری بات پہنچتی تو آپ یوں نہ فرماتے کہ کیا حال ہے فلاں کا؟ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں کہتے: ”کیا حال ہے لوگوں کا، وہ یوں یوں کہتے ہیں۔“(1)
شیخ الحدیث صاحب کے مطابق امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب میں جو مفہوم واضح کرنے کی کوشش فرمائی ہے اس کی مؤید ابوداؤد کی حدیث ہے، یعنی ابوداؤد کی حدیث کی طرف بھی امام بخاری رحمہ اللہ کا اشارہ مقصود ہے۔
لہذا ترجمۃ الباب سے حدیث کی مناسبت یوں قائم ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی متعین شخص کو مخاطب فرما کر عتاب نہیں فرماتے تھے، بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے اس عمل کا ناپسندیدہ ہونا پہچان لیتے، جیسا کہ ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے واضح ہے، پس یہیں سے باب اور حدیث میں مطابقت ہے۔
درج بالا اقتباس عون الباری فی مناسبات تراجم البخاری ، جلد دوئم، حدیث/صفحہ نمبر: 188 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6102 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6102. حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ پردہ نشین کنواری لڑکیوں سے کہیں زیادہ حیا دار تھے۔ جب آپ کوئی ایسی چیز دیکھتے جو آپ کو ناگوار ہوتی تو ہم اسے آپ کے چہرہ انور سے معلوم کر لیتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6102]
حدیث حاشیہ: گو مروت اور شرم کی وجہ سے آپ زبان سے کچھ نہ فرماتے اس لئے آپ نے شرم کو ایمان کا ایک جزو قرار دیا جس کا عکس یہ ہے کہ بے شرم آدمی کا ایمان کمزور ہو جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6102 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6102 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6102. حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ پردہ نشین کنواری لڑکیوں سے کہیں زیادہ حیا دار تھے۔ جب آپ کوئی ایسی چیز دیکھتے جو آپ کو ناگوار ہوتی تو ہم اسے آپ کے چہرہ انور سے معلوم کر لیتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6102]
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی ناگوار کام یا بات ملاحظہ کرتے تھے تو مروت اور شرم کی وجہ سے آپ زبان سے کچھ نہ فرماتے بلکہ ناگواری آپ کے چہرے کی تبدیلی سے معلوم ہوتی تھی، اسی طرح جب کسی کو تنبیہ کرنا مقصود ہوتا تو اس کو معین کر کے تنبیہ نہ فرماتے اور نہ اس کا سرعام نام ہی لیتے بلکہ آپ کا خطاب عام ہوتا تھا۔
اس شخص کا نام لینے سے حیا مانع ہوتی، اس لیے آپ نام لیے بغیر اصلاح کا فریضہ سرانجام دیتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی ناگوار کام یا بات ملاحظہ کرتے تھے تو مروت اور شرم کی وجہ سے آپ زبان سے کچھ نہ فرماتے بلکہ ناگواری آپ کے چہرے کی تبدیلی سے معلوم ہوتی تھی، اسی طرح جب کسی کو تنبیہ کرنا مقصود ہوتا تو اس کو معین کر کے تنبیہ نہ فرماتے اور نہ اس کا سرعام نام ہی لیتے بلکہ آپ کا خطاب عام ہوتا تھا۔
اس شخص کا نام لینے سے حیا مانع ہوتی، اس لیے آپ نام لیے بغیر اصلاح کا فریضہ سرانجام دیتے تھے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6102 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2320 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
0 [صحيح مسلم، حديث نمبر:6032]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
عذراء: کنواری دوشیزہ (2)
خدر: پردہ جو دوشیزہ کے لیے گھر کے کسی کونہ میں تانا جاتا ہے۔
(1)
عذراء: کنواری دوشیزہ (2)
خدر: پردہ جو دوشیزہ کے لیے گھر کے کسی کونہ میں تانا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2320 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4180 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´شرم و حیاء کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باپردہ کنواری لڑکی سے بھی زیادہ شرمیلے تھے، اور جب آپ کو کوئی چیز ناگوار لگتی تو آپ کے چہرے پر اس کا اثر ظاہر ہو جاتا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4180]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باپردہ کنواری لڑکی سے بھی زیادہ شرمیلے تھے، اور جب آپ کو کوئی چیز ناگوار لگتی تو آپ کے چہرے پر اس کا اثر ظاہر ہو جاتا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4180]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حیا انسان کی ایک فطری خوبی ہے۔
بے حیائی انسان کے لیے خلاف فطرت کیفیت ہے جو شیطان کے ورگلانے سے پیدا ہوتی ہے۔
(2)
ناگوار گزرنے والی بات کو برداشت کرنا اور اس کا کھل کر اظہار نہ کرنا بھی حیا میں شامل ہے تاہم اگر کوئی خلاف شرع بات ہوتو خاموش رہنا حیا میں شامل نہیں اس وقت مناسب اندازسے اظہار ضروری ہے۔
(3)
اہل عرب میں یہ رواج تھا کہ جب ل{کی بالغ ہوتی تو وہ گھر میں اس کمرے میں زیادہ وقت گزارتی جہاں اسے تنہائی میسر ہو۔
شادی تک یہی کیفیت رہتی۔
اس کمرے کو (خدر)
کہتے تھے اس لیے خدر والی کا ترجمہ پردہ نشین کیا گیاہے-
فوائد و مسائل:
(1)
حیا انسان کی ایک فطری خوبی ہے۔
بے حیائی انسان کے لیے خلاف فطرت کیفیت ہے جو شیطان کے ورگلانے سے پیدا ہوتی ہے۔
(2)
ناگوار گزرنے والی بات کو برداشت کرنا اور اس کا کھل کر اظہار نہ کرنا بھی حیا میں شامل ہے تاہم اگر کوئی خلاف شرع بات ہوتو خاموش رہنا حیا میں شامل نہیں اس وقت مناسب اندازسے اظہار ضروری ہے۔
(3)
اہل عرب میں یہ رواج تھا کہ جب ل{کی بالغ ہوتی تو وہ گھر میں اس کمرے میں زیادہ وقت گزارتی جہاں اسے تنہائی میسر ہو۔
شادی تک یہی کیفیت رہتی۔
اس کمرے کو (خدر)
کہتے تھے اس لیے خدر والی کا ترجمہ پردہ نشین کیا گیاہے-
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4180 سے ماخوذ ہے۔