صحيح البخاري
كتاب الأدب— کتاب: اخلاق کے بیان میں
بَابُ الصَّبْرِ عَلَى الأَذَى: باب: تکلیف پر صبر کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : سَمِعْتُ شَقِيقًا ، يَقُولُ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قَسَم النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِسْمَةً كَبَعْضِ مَا كَانَ يَقْسِمُ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : وَاللَّهِ إِنَّهَا لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ ، قُلْتُ : أَمَّا أَنَا لَأَقُولَنَّ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي أَصْحَابِهِ فَسَارَرْتُهُ ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ وَغَضِبَ ، حَتَّى وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَخْبَرْتُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " قَدْ أُوذِيَ مُوسَى بِأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَصَبَرَ " .´ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ان سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ عبداللہ بن مسعود نے کہا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جنگ حنین ) میں کچھ مال تقسیم کیا جیسا کہ آپ ہمیشہ تقسیم کیا کرتے تھے ۔ اس پر قبیلہ انصار کے ایک شخص نے کہا کہ اللہ کی قسم ! اس تقسیم سے اللہ کی رضا مندی حاصل کرنا مقصود نہیں تھا ۔ میں نے کہا کہ یہ بات میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہوں گا ۔ چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف رکھتے تھے ، میں نے چپکے سے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی یہ بات بڑی ناگوار گزری اور آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ غصہ ہو گئے یہاں تک کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر نہ دی ہوتی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موسیٰ علیہ السلام کو اس سے بھی زیادہ تکلیف پہنچائی گئی تھی لیکن انہوں نے صبر کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اعتراض کرنے والا معتب بن قشیر نامی منافق تھا یہ نہایت ہی خراب بات اسی نے کہی تھی مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر کیا اور اس کی بات کا کوئی نوٹس نہیں لیا، اسی سے بات کا مطلب ثابت ہوتا ہے۔
(1)
غزوۂ حنین کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نئے نئے مسلمانوں کی تالیف قلبی کے لیے اقرع بن حابس کو سو اونٹ، عیینہ بن حصن کو سو اونٹ اور قریش کے سرداروں کو سو، سو اونٹ دیے تو حاضرین میں سے ایک آدمی نے اعتراض کیا کہ اس تقسیم میں عدل و انصاف سے کام نہیں لیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر اللہ اور اس کا رسول عدل و انصاف نہیں کریں گے تو دنیا میں عدل کا علمبردار کون ہو گا۔
‘‘ (صحیح البخاري، فرض الخمس، حدیث: 3150) (2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کو دی جانے والی اذیت سے درج ذیل آیت کی طرف اشارہ فرمایا: ’’اے ایمان والو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام)
کو تکلیف دی تھی تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام)
کو ان کی بتائی ہوئی باتوں سے بری کر دیا کیونکہ وہ اللہ کے ہاں بڑی عزت والے تھے۔
'' (الأحزاب33: 69) (3)
حافظ ابن حجر نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اذیت کے متعلق تین قصوں کا ذکر کیا ہے: ایک یہ کہ موسیٰ علیہ السلام ایک جسمانی نقص کا شکار تھے، دوسرا ہارون علیہ السلام کی موت اور تیسرا قارون کے ساتھ ان کا واقعہ تھا۔
(فتح الباري: 630/10)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صبر سے کام لیا اور بے ہودہ بات کہنے والے کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔
صلی اللہ علیہ وسلم
قال القسطلاني لم ینقل أنه صلی اللہ علیه وسلم عاقبه وفي المقاصد قال قاضي عیاض حکم الشرع أن من سب النبي صلی اللہ علیه وسلم کفر و یقتل ولکنه لم یقتل تألیفا لغیرهم ولئلا یشتهر في الناس أنه صلی اللہ علیه وسلم یقتل أصحابه فینفروا یعنی آنحضرت ﷺ کو گالی دینے والا کافر ہوجاتا ہے۔
جس کی سزا شرعاً قتل ہے مگر آپ نے مصلحتاً اس کو نہیں مارا۔
1۔
ایک روایت میں ہے۔
عبد اللہ بن مسعود ؓنے جب راز داری کے طور پرآپ سے یہ بات کی تو آپ بہت ناراض ہوئے اور آپ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا حتی کہ میں نے کہا: کاش! اس بات کا تذکرہ آپ سے نہ کرتا۔
(صحیح مسلم، الزکاة، حدیث: 2448)
2۔
قاضی عیاض اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے والا کافر ہے اور اسے فوراً قتل کردیا جائے لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس گستاخ کوکوئی سزا نہ دی کیونکہ جرم ثابت ہونے کے لیے اقرار ہو یا کم ازکم دو گواہوں لیکن اس مقام پر صرف ایک گواہی تھی اور گستاخ نے صحت جرم سے بھی انکار کردیا ہو گا۔
(عمدة القاري: 495/10)
2۔
اس روایت سے امام بخاری ىنے ثابت کیا ہے کہ امام وقت کو یہ حق ہے کہ تالیف قلب کے لیے کسی کو دوسروں سے زیادہ حصہ دے دے یہی وجہ ہے کہ گستاخ کو اعتراض کرنے کا موقع ملا۔
واللہ أعلم۔
وہ چھپ کر تنہا ئی میں نہایا کرتے تھے۔
بنی اسرائیل کو یہ شگوفہ ہاتھ آیا۔
کسی نے کہا کہ ان کے خصیے بڑھ گئے ہیں۔
کسی نے کہا، ان کو بر ص ہو گیا ہے۔
اس قسم کے بہتان لگانے شروع کئے۔
آخر اللہ تعالی نے ان کی پاکی اور بے عیبی ظاہر کردی۔
یہ قصہ قرآن شریف میں مذکور ہے ﴿یاَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُو الَاتَکُونُوا کَالَّذِینَ آذَوا مُوسی﴾ (الاحزاب: 69)
آخر تک۔
روایت میں جس منافق کا ذکر مذکور ہے۔
اس کم بخت نے اتنا غور نہیں کیا کہ دنیا کا مال ودولت اسباب سب پروردگار کی ملک ہیں جس پیغمبر کو اللہ تعالی نے اپنا رسول بنا کر دنیا میں بھیج دیا اس کو پورا اختیار ہے کہ جیسی مصلحت ہو اسی طرح دنیا کا مال تقسیم کرے۔
اللہ کی رضا مندی کا خیال جتنا اس کے پیغمبر کو ہوگا، اس کا عشر عشیر بھی اوروں کو نہیں ہو سکتا۔
بد باطن قسم کے لوگوں کا شیوہ ہی یہ رہاہے کہ خواہ مخواہ دوسروں پر الزام بازی کرتے رہتے ہیں اور اپنے عیوب پر کبھی نظر نہیں جاتی۔
سند میں حضرت سفیان ثوری کا نام آیا ہے۔
یہ کوفی ہیں اپنے زمانہ میں فقہ اور اجتہاد کے جامع تھے۔
خصوصاً علم حدیث میں مرجع تھے۔
ان کاثقہ، زاہد اور عابد ہونا مسلم ہے۔
ان کو اسلام کا قطب کہا گیا ہے۔
ائمہ مجتہدین میں ان کا شما ر ہے۔
سنہ 99 ھ میں پیدا ہوئے اور سنہ 161 ھ میں بصرہ میں وفات پائی، حشرنا اللہ معهم آمین۔
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت ودیانت پر حملہ کرنے والا یہ شخص منافق تھا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر امین اور دیانت دار کوئی انسان آج تک دنیا میں پیدا ہی نہیں ہوا۔
آپ کی امانت ودیانت کے قائل تو کفار مکہ بھی تھے۔
بہر حال نیک طینت لوگوں کے حق میں اگر کوئی نازیبا بات کہی جائے تو ان پر گراں گزرتی ہے لیکن وہ اپنے سے پہلے گزرے ہوئے اہل فضل کی اقتدا کرتے ہوئے صبر کرتے ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصائب وآلام پر صبر کرنے میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی اقتدا کی۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ کا اس عنوان اور حدیث سے مقصود یہ ہے کہ کسی کی بات نقل کرنے سے اگر اصلاح واخلاص کی نیت ہو تو ایسا کرنا جائز ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بات نقل کرنے پر خاموش رہے بلکہ جس نے بات کہی تھی اس پر اظہار ناراضی فرمایا اور اگر اس کا مقصد فساد ڈالنا اور خرابی پیدا کرنا ہوتو ایسا کرنا جائز نہیں۔
(فتح الباري: 584/10)
یہ گستاخ منافق تھا جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے۔
کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بہت تکلیفیں دی گئیں قارون نے ایک فاحشہ عورت کو بھڑکا کر آ پ پر زنا کی تہمت لگائی، بنی اسرائیل نے آپ کو فتق کا عارضہ بتلایا کسی نے کہا کہ آپ نے اپنے بھائی ہارون کو مارڈالا۔
ان الزامات پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے صبر کیا اللہ ان پر بہت بہت سلام پیش فرمائے۔
آمین۔
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے طرزِ عمل سے عنوان کو ثابت کیا ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت سرگوشی کی جب دوسرے کئی لوگ موجود تھے۔
اس طرز عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر مجلس میں دو سے زیادہ لوگ ہوں تو انھیں اس قسم کی سرگوشی سے تکلیف نہیں ہوتی، ہاں اگر باقی ماندہ ایک شخص اجازت دے دے تو اس کی موجودگی میں بھی سرگوشی کرنا جائز ہوگا۔
(2)
اگر دو آدمی خفیہ بات کر رہے ہوں تو تیسرے کو گھس کر بات سننا بھی جائز نہیں ہے جیسا کہ متعدد احادیث میں اس کی ممانعت مذکور ہے۔
یہ اعتراض کرنے والا منافق تھا اور اعتراض بھی بالکل باطل تھا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مصالح ملی کو سب سے زیادہ سمجھنے والے اور مستحقین کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔
پھر آپ کی تقسیم پر اعتراض کرنا کسی مومن مسلمان کا کام نہیں ہو سکتا۔
سوائے اس شخص کے جس کا دل نور ایمان سے محروم ہو۔
جملہ احکام اسلام کے لئے یہی قانون ہے۔
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم پر اعتراض کرنے والا ذوالخویصرہ نامی ایک منافق شخص تھا جس کی نسل سے خارجی لوگ پیدا ہوئے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے دور حکومت میں خارجیوں سے جنگ کی۔
(2)
اس حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے دعا فرمائی لیکن خود کو اس میں شریک نہیں کیا۔
امام بخاری رحمہ اللہ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے یہ حدیث لائے ہیں۔
(3)
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کا ذکر کرتے تو اس کے لیے دعا کرتے اور اپنی ذات سے دعا کا آغاز کرتے۔
(جامع الترمذي، الدعوات، حدیث: 3385)
لیکن یہ بات قاعدے کلیے کے طور پر نہیں ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت لوط علیہ السلام کے لیے دعا فرمائی، لیکن اپنی ذات کا حوالہ نہیں دیا، اسی طرح قبل ازیں ایک حدیث میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے دعا کا ذکر ہے لیکن اپنی ذات کو اس میں شریک نہیں کیا۔
آنحضرت ﷺ نےاس منافق کی بکواس پرصبر کیا اور اس بارے میں حضرت موسیٰ کا ذکر فرمایا۔
یہی باب سےوجہ مناسبت ہے۔
1۔
اس حدیث میں ھذا کا اشارہ اس کلام کی طرف قراردیا تھا۔
ایسا قطعاً نہیں کہ موسیٰ ؑ نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ تکلیفیں اور دکھ درد برداشت کیے کیونکہ ایک حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے اللہ تعالیٰ کی خاطر اس قدر تکالیف کا سامنا کرنا پڑا کہ اس قدر کسی دوسرے کو تکالیف کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
‘‘ (سلسلة الأحادیث الصحیحة، حدیث: 2222)
2۔
واضح رہے کہ ایذائے موسیٰ سے مراد حدیث غسل کی طرف اشارہ بھی ہوسکتا ہے بعض شارحین نے قارون کی شرارت کو ایذائے موسیٰ قراردیا ہے کہ اس نے ایک عورت کو تیار کیا جو لوگوں کے سامنے اس بات کا اقرار کرتی تھی حضرت موسیٰ ؑ نے مجھ سے بدکاری کی ہے۔
بہر حال مسلمانوں کو ہر اس کام سے بچنا چاہیے جو رسول اللہ ﷺ کی ایذارسانی کا باعث ہو۔
جس نے صبر کیا وہ کامیاب ہوا، آخر میں اس کا دشمن ذلیل وخوار ہوا۔
اللہ کا لاکھ بار شکر ہے کہ مجھ ناچیز کو بھی اپنی زندگی میں بہت سے خبیث النفس دشمنوں سے پالا پڑا۔
مگر صبر سے کام لیا، آخر وہ دشمن ہی ذلیل وخوار ہوئے۔
خد مت بخاری کے دوران بھی بہت سے حاسدین کی ہفوات پر صبر کیا۔
آخر اللہ کا لاکھوں لاکھ شکر جس نے اس خدمت کے لیے مجھ کو ہمت عطا فرمائی، والحمد للہ علی ذلك۔
1۔
رسول اللہ ﷺ کی تقسیم پر اعتراض کرنے والا قبیلہ عمرو بن عوف سے ایک منافق تھا جس کا نام معتب بن قشیر ہے، جبکہ بعض نے اس کا نام حرقوص بن زہیر بتایا ہے لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ حرقوص کا واقعہ ابوسعید خدری ؓ کی بیان کردہ حدیث میں آگے آرہا ہے۔
(فتح الباري: 69/8)
2۔
اعتراض کرنے والے بدبخت نے اتنا بھی غور نہ کیا کہ دنیا کا مال ومتاع سب اللہ کی ملکیت ہے جس پیغمبر کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی رہنمائی کے لیے منتخب کیا ہے اسے پورا پورا اختیار دیا ہے کہ مصلحت کے مطابق جس طرح چاہے اللہ کا مال تقسیم کرے۔
اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا جتنا خیال اس کے رسول کو ہوتا ہے، دوسروں کو دسواں حصہ بھی نصیب نہیں ہوتا۔
بد باطن قسم کے لوگوں کا یہی شیوہ رہا ہے کہ وہ خواہ مخواہ دوسروں پر الزام تراشی کرتے رہتے ہیں اور اپنے عیوب پر ان کی نظر نہیں جاتی۔
3۔
واضح رہے کہ حضر ت موسیٰ ؑ بہت ہی شرمیلے تھے، وہ پردے میں رہ کر غسل کرتے تھے جبکہ بنی اسرائیل میں حیاداری کا مادہ نہیں تھا۔
انھوں نے موسیٰ ؑ پر تہمت لگائی کہ ان کے جسم پر برص ہے یا کسی دوسری موذی مرض میں مبتلا ہیں اورایسی باتوں سے حضرت موسیٰ ؑ کو تکلیف پہنچاتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے انھیں ایسی باتوں سے بری قراردیا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: "اے ایمان والو! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنھوں نے موسیٰ ؑ کو اذیت پہنچائی، اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کی باتوں سے بری قراردیا۔
" (الأحزاب: 69/33)
یہ اعتراض کرنے والا معتب بن قشیر نامی منافق تھا۔
اور اگلے باب میں اعتراض کرنے والا خارجیوں کا لیڈر اور سرغنہ اوران کا پیش رو حرقوص بن زہیر السعدی ہے یہ دونوں فرد الگ الگ ہیں۔
2۔
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے آپﷺ مال غنیمت کی تقسیم اللہ تعالیٰ کی منشا اور مرضی کے مطابق فرماتے تھے۔
اس لیے آپﷺ نے فرمایا: ’’اگر اللہ اور اس کا رسول ہی عادلانہ تقیسم نہیں کریں گے تو پھر دنیا میں منصفانہ تقسیم کون کر سکتا ہے۔
‘‘3۔
آپﷺ بشری تقاضا کے تحت ایک انتہائی نامعقول بات سن کر متاثر ہو گئے اور آپﷺ پر شدید غضب طاری ہو گیا۔
لیکن آپﷺ نے پیغمبرانہ تحمل وبرداشت سے کام لیا اور بتایا پیغمبروں کو اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ باتوں سے واسطہ پڑتا ہے۔
لیکن وہ صبر وتحمل کا دامن نہیں چھوڑتے۔
لیکن چونکہ وہ نام نہاد مسلمان تھا۔
اس لیے آپﷺ نے اسے اس گستاخی اور بے ادبی پر سزا نہیں دی۔
4۔
کسی کو کوئی بات اس مقصد کے تحت بتانا کہ وہ اپنی عزت کا دفاع کر سکے یا بد فہمی اورغلط فہمی دور کر سکے۔
یہ غیبت اور چغلی نہیں ہے۔
ہاں بگاڑ اور فساد کے لیے لگائی بجھائی کرنا جائز نہیں ہے۔
5۔
بعض انسان رسول کے فیصلہ اورحکم کی حکمت اور مصلحت کو نہیں سمجھ سکتا۔
تو ایسے انسان کو رسول کے حکم پر مطمئن ہونا چاہیے۔
اس کے بارے میں کسی بدگمانی یا بدظنی کا شکار ہو کر اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر اعتراض معتبر نہیں ہوتا، بلکہ بعض اعتراضات فضول اور ردی ہوتے ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ انسان کو بے جا اعتراض سے پریشانی لازم آتی ہے اور سننے والے لوگ بھی پریشان ہوتے ہیں، اس لیے کسی کو بے جا پریشان کرنا درست نہیں ہے علم عمل دور دور تک نہیں ملتا ہے، جبکہ شکوک و شبہات اور بدگمانیاں عام ہیں۔ علم و عمل کے بغیر معاشرہ اسلامی نہیں بن سکتا۔ کوئی تکلیف دے تو اس پر صبر کرنا چاہیے، انبیاء کرام علیہم السلام کے ورثاء علمائے کرام کو اکثر تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو انھیں ان پر صبر سے کام لینا چاہیے۔ جب انبیائے کرام علیہم السلام تکالیف سے نہیں بچ سکے تو علمائے کرام کیسے بچ سکیں گے؟