مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 6098
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُخَارِقٍ ، سَمِعْتُ طَارِقًا ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ " إِنَّ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا داود راز

´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے مخارق نے ، انہوں نے کہا میں نے طارق سے سنا ، کہا کہ` عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا بلاشبہ سب سے اچھا کلام اللہ کی کتاب ہے اور سب سے اچھا طریقہ ( چال چلن ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأدب / حدیث: 6098
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
6098. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: یقیناً سب سے اچھا کلام اللہ کی کتاب ہے اور بہترین سیرت محمد ﷺ کی سیرت ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6098]
حدیث حاشیہ: اقبال مرحوم نے اس حدیث کے مضمون کو یوں ادا فرمایا ہے۔
بہ مصطفی برساں خویش راکہ دیں ہمہ اوست دگر باد نرسید ی تمام بو لہی استدین یہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم بہ قدم چلا جائے اس کے علاوہ ابو لہب کا دین ہے وہ دین محمدی نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6098 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6098. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: یقیناً سب سے اچھا کلام اللہ کی کتاب ہے اور بہترین سیرت محمد ﷺ کی سیرت ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6098]
حدیث حاشیہ:
(1)
یہ حدیث موقوف ہے، بعض روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان الفاظ میں مروی ہے: ’’اچھی بات تو کتاب اللہ ہے اور بہترین سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے۔
‘‘ (مسند أحمد: 319/3) (2)
اصل دین یہی ہے کہ تمام معاملات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کو اختیار کیا جائے، اس کے علاوہ دین محمدی نہیں بلکہ ابو لہب کا طریقہ ہے، علامہ اقبال نے خوب کہا ہے:
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6098 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔