صحيح البخاري
كتاب الأدب— کتاب: اخلاق کے بیان میں
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ} وَمَا يُنْهَى عَنِ الْكَذِبِ: باب: اللہ تعالیٰ کا سورۃ الحجرات میں ارشاد فرمانا ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سچ بولنے والوں کے ساتھ رہو۔“ اور جھوٹ بولنے کی ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يَكُونَ صِدِّيقًا ، وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا " .´ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے منصور نے بیان کیا ، ان سے ابووائل نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بلاشبہ سچ آدمی کو نیکی کی طرف بلاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور ایک شخص سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق کا لقب اور مرتبہ حاصل کر لیتا ہے اور بلاشبہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف اور ایک شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں بہت جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اللہ پاک ہر مسلمان کو، ہر بخاری شریف کے پڑھنے والے کو اور مجھ نا چیز گنہگار بندے کو خاتمہ بالخیر نصیب کرے، توحید وسنت وکلمہ طیبہ پر خاتمہ ہو۔
امید ہے کہ اس مقام پر جملہ قارئین کرام آمین کہیں گے. آمین۔
یارب العالمین!
(1)
انسان سچ بولتے بولتے سچ کا عادی بن جاتا ہے اور اسے سچائی کا ملکہ حاصل ہو جاتا ہے حتی کہ وہ صدقی کے درجے پر فائز ہو جاتا ہے جو نبوت سے نچلا مرتبہ ہے، اور جھوٹ کا عادی انسان اللہ تعالیٰ کے ہاں کذاب لکھا جاتا ہے اور تمام مخلوق پر اس کے کذاب ہونے کا القا کیا جاتا ہے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن تعلیمات پر اپنی دعوت کی بنیاد رکھی تھی ان میں ایک سچائی کو اختیار کرنا بھی ہے، چنانچہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے ہرقل کے دربار میں اس بات کا اقرار کیا تھا، (صحیح البخاري، بدءالوحي، حدیث: 7)
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایمان و کفر، سچ اور جھوٹ اور امانت و خیانت ایک مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو سکتیں۔
‘‘ (مسند أحمد: 349/2)
بر کا عربی لغت میں اصل مفہوم، کسی کا حق پورا کرنا ہے، اس کا تعلق حقوق اللہ سے ہو یا حقوق العباد سے اور اس کے مقابلہ میں فجور، راہ سے ہٹ جانے اور استقامت سے کنارہ کشی اختیار کر لینے کا نام ہے۔
صديق: جس کے قول و فعل اور زبان و دل میں موافقت ہو، کیونکہ صدق قول کے دل اور واقعہ کے مطابق ہونے کا نام ہے اور جو انسان صدق کو اختیار کرتا ہے، وہ اللہ کے ہاں صدیق ٹھہرتا ہے اور ان کا ثواب پائے گا اور لوگوں کے ہاں بھی سچا سمجھا جائے گا، اس کے برعکس جو جھوٹ بولنے کو عادت بنا لیتا ہے، وہ اللہ کے ہاں جھوٹا ٹھہرتا ہے اور ان ہی کی سزا اور عقوبت کا مستحق ہو گا اور لوگوں میں بھی جھوٹا مشہور و معروف ہو گا۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا، سچ بولنا بذات خود اچھی اور پسندیدہ عادت ہے، جس کی خاصیت اور امتیاز یہ ہے کہ آدمی کو زندگی کے تمام پہلوؤں میں نیک کردار اور صالح بنا کر جنت کا مستحق بنا دیتی ہے، کیونکہ " بِر " تمام امور کا مجموعہ کا نام ہے اور ہمیشہ سچ بولنے والا آدمی مقام صدیقیت پر فائز ہو جاتا ہے، اس کے برعکس جھوٹ بولنا بذات خود ایک خبیث اور بری خصلت ہے، جس کی خاصیت، انسان کے اندر فسق و فجور اور بدی کا میلان و رجحان پیدا کر کے، اس کی پوری زندگی کو بدکاری کی زندگی بنا کر دوزخ میں پہنچاتا ہے اور جھوٹ بولنے کا عادی، کذابیت کے درجے تک پہنچ کر اللہ کی لعنت کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " سچ بولو، اس لیے کہ سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے، آدمی ہمیشہ سچ بولتا ہے اور سچ کی تلاش میں رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہے، اور جھوٹ سے بچو، اس لیے کہ جھوٹ گناہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور گناہ جہنم میں لے جاتا ہے، آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ کی تلاش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1971]
وضاحت:
1؎:
معلوم ہواکہ ہمیشہ جھوٹ سے بچنا اور سچائی کو اختیار کرنا چاہیے، کیوں کہ جھوٹ کا نتیجہ جہنم اور سچائی کا نتیجہ جنت ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم جھوٹ سے بچو، اس لیے کہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے، اور برائی جہنم میں لے جاتی ہے، آدمی جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ میں لگا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے اور سچ بولنے کو لازم کر لو اس لیے کہ سچ بھلائی اور نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے، آدمی سچ بولتا ہے اور سچ بولنے ہی میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہے۔" [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4989]
سچ اور جھوٹ (صدق وکذب) کا تعلق صرف زبان کے الفاظ ہی سےنہیں بلکہ اس کا دائرہ فعل اور نیت تک وسیع ہے۔
فکری اعتبار سے انسان صدق کو متلاشی اور اس کےمطابق اپنے اعمال کوسر انجام دینے والا ہو اور اس کے برخلاف سے بچنے والا ہو تو یہ بہت بڑی فضیلت ہے۔
ورنہ جلد یا بد دیر فضیحت سے بچ نہیں سکے گا۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ سچائی کو لازم پکڑو کہ سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کی جانب رہنمائی کرتی ہے اور آدمی ہمیشہ سچ بولتا ہے اور سچ کی تلاش میں رہتا ہے حتیٰ کہ اسے اللہ کے ہاں صدیق لکھا جاتا ہے اور جھوٹ سے بچو۔ جھوٹ گناہ کی جانب لے جاتا ہے اور گناہ آتشیں جہنم کی جانب لے جاتا ہے اور آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ میں کوشش کرتا رہتا ہے تو اسے اللہ کے ہاں جھوٹا لکھا جاتا ہے۔ " (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1314»
«أخرجه البخاري، الأدب، باب قول الله تعالي: "يأيها الذين آمنوا اتقوا الله"، حديث:6094، ومسلم، البر والصلة، باب قبح الكذب...، حديث:2607.»
تشریح: اس حدیث میں سچ بولنے والے کے حسن خاتمہ اور اس کے برے انجام سے مامون و محفوظ ہونے کی طرف اشارہ ہے۔