صحيح البخاري
كتاب الأدب— کتاب: اخلاق کے بیان میں
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ} إِلَى قَوْلِهِ: {فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ} : باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ”اے ایمان والو! کوئی قوم کسی دوسری قوم کا مذاق نہ بنائے اسے حقیر نہ جانا جائے کیا معلوم شاید وہ ان سے اللہ کے نزدیک بہتر ہو۔“ «فأولئك هم الظالمون» تک۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَضْحَكَ الرَّجُلُ مِمَّا يَخْرُجُ مِنَ الْأَنْفُسِ وَقَالَ : بِمَ يَضْرِبُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ ضَرْبَ الْفَحْلِ أَوِ الْعَبْدِ ثُمَّ لَعَلَّهُ يُعَانِقُهَا " ، وَقَالَ الثَّوْرِيُّ ، وَوُهَيْبٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، جَلْدَ الْعَبْدِ .´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کی ریح خارج ہونے پر ہنسنے سے منع فرمایا اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تم میں سے کس طرح ایک شخص اپنی بیوی کو زور سے مارتا ہے جیسے اونٹ ، حالانکہ اس کی پوری امید ہے کہ شام میں اسے وہ گلے لگائے گا ۔ اور ثوری ، وہیب اور ابومعاویہ نے ہشام سے بیان کیا کہ ( جانور کی طرح ) کے بجائے لفظ غلام کی طرح کا استعمال کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اکثر چھوٹے لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ دوسرے کے گوز کی آواز سن کر ہنستے اورمذاق بنا لیتے ہیں۔
یہ حرکت انتہائی مذموم ہے۔
ایسے ہی اپنی عورت کو جانوروں کی طرح بے تحاشا مارنا کسی بدعقل ہی کا کام ہو سکتا ہے۔
(1)
اس پوری حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین امور ذکر کیے ہیں: حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو مارنے کا واقعہ، دوسرا ہوا خارج ہونے پر ہنسی کا واقعہ اور تیسرا بیوی کو مارنے پر تنبیہ۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث4942)
کسی کی ہوا خارج ہونے پر ہنسنے میں استہزا اور مذاق کا پہلو نمایاں ہے اور آیت کریمہ میں بھی استہزا ومذاق کرنے کی ممانعت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ہنسنے سے منع فرمایا کیونکہ ہوا کا خارج ہونا انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔
(2)
کچھ لوگ اختیار کے ساتھ زور سے ہوا خارج کرتے ہیں، ایسا کرنا بھی بہت معیوب ہے۔
اگرچہ ہوا خارج ہونا ایک فطری امر ہے لیکن اس پر ہنسنا انتہائی حماقت ہے۔
بہرحال یہ حرکت بہت مذموم ہے۔
واللہ المستعان
(1)
حدیث کے مطابق بیوی کو مارنا درست نہیں جبکہ قرآن میں اس کی اجازت دی گئی ہے؟ ان میں تطبیق کی یہ صورت ہے کہ ایسی مار نہ ہو جس سے زخم آ جائیں، چنانچہ حدیث میں اس کی وضاحت ہے کہ اگر عورتیں کھلی بے حیائی کریں تو تم انھیں بستروں سے علیحدہ کر دو اور ایسی مار دو کہ انھیں چوٹ نہ آئے۔
(جامع الترمذی، الرضاع، حدیث: 1163)
(2)
بہرحال چند شرائط کے ساتھ عورتوں کو مارنے کی اجازت ہے۔
٭اسے غلاموں کی طرح بے تحاشا نہ مارے۔
٭ بیوی کے منہ پر نہ مارے۔
٭ایسی مار نہ ہو جس سے کوئی زخم آ جائے یا کوئی ہڈی پسلی ٹوٹ جائے۔
ان حدود و قیود کے ساتھ خاوند کو مجبوری کی حالت میں بیوی کو مارنے کی اجازت دی گئی ہے۔
(3)
واضح رہے کہ درج ذیل وجوہات کی بنا پر خاوند اپنی بیوی کو مار سکتا ہے: ٭نماز چھوڑنے پر٭ غسل بروقت نہ کرنے پر٭ زینت ترک کرنے پر٭ اپنے پاس بلانے کے باوجود اس کے نہ آنے پر٭ بلا اجازت گھر سے باہر جانے پر۔
اس بنا پر بیوی کو چاہیے کہ وہ اپنے خاوند کی رمز شناس ہو اور ہر حکم کی اطاعت گزار ہو بشرطیکہ وہ کام شریعت کے خلاف نہ ہو۔
عبداللہ بن زمعہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دن اس اونٹنی کا (مراد صالح علیہ السلام کی اونٹنی) اور جس شخص نے اس اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے یہ آیت «إذ انبعث أشقاها» تلاوت کی، اس کام کے لیے ایک «شرِّ» سخت دل طاقتور، قبیلے کا قوی و مضبوط شخص اٹھا، مضبوط و قوی ایسا جیسے زمعہ کے باپ ہیں، پھر میں نے آپ کو عورتوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: ” آخر کیوں کوئی اپنی بیوی کو غلام کو کوڑے مارنے کی طرح کوڑے مارتا ہے اور جب کہ اسے توقع ہوتی ہے کہ وہ اس دن کے آخری حصہ میں (یعنی رات میں) اس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3343]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی کوچیں کاٹنے والے بدبخت کے ذکر کے ساتھ اسلام کی دو اہم ترین اخلاقی تعلیمات کا ذکر ہے۔ 1۔
اپنی شریک زندگی کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور 2۔
مجلس میں کسی کی ریاح زورسے خارج ہو جانے پر نہ ہنسنے کا مشورہ، کس حکیمانہ پیرائے میں آپﷺ نے دونوں باتوں کی تلقین کی ہے! قابلِ غور ہے، فداہ أبي وأمي۔
عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، پھر عورتوں کا ذکر کیا، اور مردوں کو ان کے سلسلے میں نصیحت فرمائی، پھر فرمایا: ” کوئی شخص اپنی عورت کو لونڈی کی طرح کب تک مارے گا؟ ہو سکتا ہے اسی دن شام میں اسے اپنی بیوی سے صحبت کرے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1983]
فوائد و مسائل:
(1)
عورتوں کو غلطی پر تنبیہ کرناضروری ہے لیکن یہ صرف زبانی ہونی چاہیے۔
اگر کوئی عورت زیادہ ہی بے پروا اور گستاخ ہو تو اس سے ناراض ہو جائے، یہ سزا کافی ہے۔
جسمانی سزا صرف اس وقت جائز ہےجب اس سوا چارہ نہ رہے۔
(2)
’’لونڈی کی طرح پیٹنے‘‘ کا یہ مطلب نہیں کہ لونڈی کو بے تحاشا مارنا جائز ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جس طرح لوگ لونڈیوں کومارتے ہیں، آپ کو اپنی بیویوں سے ایسا سلوک نہیں کرنا چاہیے۔
(3)
مرد اور عورت ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہیں۔
ان کے ساتھ زندگی بھر کا ساتھ ہے۔
اس چیز کو پیش نظر رکھتے ہو ئے عورتوں پر ناجائز سختی نہیں کرنی چا ہیے۔
سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم میں سے کوئی بھی اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح نہ مارے۔ “ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 913»
«أخرجه البخاري، النكاح، باب ما يكره من ضرب النساء، حديث:5204.»
تشریح:
راویٔ حدیث:
«حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ» عبد اللہ بن زمعہ بن اسود بن عبدالمطلب بن اسد بن عبدالعزیٰ اسدی۔
مشہور صحابی ہیں۔
ان کا شمار اہل مدینہ میں ہوتا ہے۔
یہ بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے روز شہید ہوئے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایک ہی مجلس میں مختلف قسم کے مسائل پر بحث کرنا درست ہے، موجودہ دور میں وہی کامیاب خطیب سمجھا جاتا ہے جو گھنٹہ دو گھنٹے ایک ہی موضوع پر بحث کرے، اور ایک ہی موضوع پر بیسیوں آیات اور بیسیوں احادیث اور کئی ایک واقعات سنا دے۔ اس انداز میں فائدہ کم ہے اور محنت زیادہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز خطابت عموماً متروک نظر آتا ہے، یہی وجہ ہے کہ پچاس پچاس سال تک عوام اہل علم کو سنتے رہتے ہیں لیکن وہ مسائل جن کا جاننا ہر مسلمان پر فرض ہے، افسوس کہ ان میں ناکام نظر آتے ہیں۔