صحيح البخاري
كتاب الأدب— کتاب: اخلاق کے بیان میں
بَابُ حُسْنِ الْخُلُقِ، وَالسَّخَاءِ، وَمَا يُكْرَهُ مِنَ الْبُخْلِ: باب: خوش خلقی اور سخاوت کا بیان اور بخل کا ناپسندیدہ ہونا۔
حدیث نمبر: 6034
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " مَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قَطُّ فَقَالَ : لَا " .مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی ، ان سے ابن منکدر نے بیان کیا ، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے کوئی چیز مانگی ہو اور آپ نے اس کے دینے سے انکار کیا ہو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
6034. حضرت جابر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: کبھی ایسا نہیں ہوا کہ نبی ﷺ سے کسی نے کوئی چیز مانگی ہو اور آپ نے اسے دینے سے انکار کیا ہو۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6034]
حدیث حاشیہ: یہ آپ کی مروت کا حال تھا بلکہ اگرہوتی تواس وقت دے دیا ورنہ اس سے وعدہ فرماتے کہ عنقریب تجھ کو یہ دے دوں گا، صلی اللہ علیه وسلم ولا یلزم من ذالك أن لا یقولھا اعتذار ا کما في قوله تعالیٰ قلت لا أجد ما أحملکم علیه (فتح)
یعنی اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ نے نہ ہونے کی صورت میں معذرت کے طور پر بھی ایسا نہ فرماتے جیسا کہ آیت مذکورہ میں ہے کہ آپ نے ایک موقع پر کچھ لوگوں سے فرمایا تھا کہ میرے پاس اس وقت تمہاری سواری کا جانور نہیں ہے۔
یعنی اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ نے نہ ہونے کی صورت میں معذرت کے طور پر بھی ایسا نہ فرماتے جیسا کہ آیت مذکورہ میں ہے کہ آپ نے ایک موقع پر کچھ لوگوں سے فرمایا تھا کہ میرے پاس اس وقت تمہاری سواری کا جانور نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6034 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6034. حضرت جابر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: کبھی ایسا نہیں ہوا کہ نبی ﷺ سے کسی نے کوئی چیز مانگی ہو اور آپ نے اسے دینے سے انکار کیا ہو۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6034]
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی دنیا کا مال ومتاع مانگا گیا تو آپ نے دینے سے انکار نہیں کیا، اگر آپ کے پاس کوئی چیز نہ ہوتی تو خاموشی اختیار کرتے، اگر آئندہ جلد یا بدیر ملنے کی امید ہوتی تو دینے کا ارداہ کر لیتے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی دنیا کا مال ومتاع مانگا گیا تو آپ نے دینے سے انکار نہیں کیا، اگر آپ کے پاس کوئی چیز نہ ہوتی تو خاموشی اختیار کرتے، اگر آئندہ جلد یا بدیر ملنے کی امید ہوتی تو دینے کا ارداہ کر لیتے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6034 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1263 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1263- سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کوئی چیز مانگی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ”نہ“ نہیں کی۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1263]
فائدہ:
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت کا ذکر ہے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سوال کر نے والے کو خالی ہاتھ واپس نہیں موڑ تے تھے۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت کا ذکر ہے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سوال کر نے والے کو خالی ہاتھ واپس نہیں موڑ تے تھے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1261 سے ماخوذ ہے۔