صحيح البخاري
كتاب الأدب— کتاب: اخلاق کے بیان میں
بَابُ جَعَلَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْءٍ: باب: اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے سو حصے بنائے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ الْبَهْرَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " جَعَلَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْءٍ ، فَأَمْسَكَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ جُزْءًا وَأَنْزَلَ فِي الْأَرْضِ جُزْءًا وَاحِدًا ، فَمِنْ ذَلِكَ الْجُزْءِ يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ حَتَّى تَرْفَعَ الْفَرَسُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا خَشْيَةَ أَنْ تُصِيبَهُ " .´ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، کہا ہم کو سعید بن مسیب نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے رحمت کے سو حصے بنائے اور اپنے پاس ان میں سے ننانوے حصے رکھے صرف ایک حصہ زمین پر اتارا اور اسی کی وجہ سے تم دیکھتے ہو کہ مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے ، یہاں تک کہ گھوڑی بھی اپنے بچہ کو اپنے سم نہیں لگنے دیتی بلکہ سموں کو اٹھا لیتی ہے کہ کہیں اس سے اس کے بچہ کو تکلیف نہ پہنچے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
گھوڑے کی مثال بیان کرنے میں حکمت یہ ہے کہ دوسرے حیوانات کی نسبت گھوڑا اپنے بچے پر زیادہ شفقت ومہربانی کرتا ہے۔
گھوڑے کا اپنے بچے پر اس قدر رحم کرنا قدرت کا ایک کرشمہ ہے۔
(2)
دنیا میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو اپنے پہلو میں دھڑکتا ہوا دل نہیں بلکہ پتھر کا ٹکڑا رکھے ہوئے ہیں۔
وہ دوسروں پر رحم وکرم جانتے ہی نہیں، بلکہ وہ ہر وقت دوسروں پر ظلم وستم ڈھاتے رہتے ہیں۔
انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ دنیا میں جلد ہی اپنے انجام کو دیکھ لیں گے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور جو بھی تم میں سے ظلم کرے گا اسے ہم سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
‘‘ (الفرقان25: 19)
اس حدیث کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ’’اگر کافر کو پتا چل جائے کہ اللہ کے ہاں کس قدر رحمت ہے تو وہ بھی جنت ملنے سے مایوس نہ ہو۔
‘‘ (صحیح البخاري، الرقاق، حدیث: 6469)
لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت صرف اہل ایمان کے لیے مخصوص ہوگی، کافر اس سے کچھ حصہ نہ پائے گا۔
اللهم ارزقنا آمین۔
مومن کتنے بھی نیک اعمال کرتا ہو لیکن ہروقت اس کو ڈررہتا ہے شاید میری نیکیاں بارگاہ الٰہی میں قبول نہ ہوئی ہوں اور شاید میرا خاتمہ برا ہو جائے۔
ابوعثمان نے کہا گناہ کرتے جانا اور پھر نجات کی امید رکھنا بد بختی کی نشانی ہے علماء نے کہا ہے کہ حالت صحت میں اپنے دل پر خوف غالب رکھے اور مرتے وقت اس کے رحم وکرم کی امید زیادہ رکھے۔
(1)
مومن کتنے بھی نیک اعمال کرتا ہو لیکن اسے ہر وقت کھٹکا لگا رہتا ہے۔
شاید میری نیکیاں بارگاہِ الٰہی میں قبول نہ ہوئی ہوں اور شاید میرا خاتمہ ایمان پر نہ ہو۔
یہی امید اور خوف ہے جس کے درمیان ایمان ہے۔
امید بھی کامل اور خوف بھی پورا پورا۔
قرآن کریم میں اللہ کے بندوں کی صفت ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے: ’’وہ اپنے اللہ کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے خوف زدہ رہتے ہیں۔
‘‘ (بني إسرائیل: 57/17)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درج ذیل آیت کے متعلق دریافت فرمایا: ’’وہ جو دیتے ہیں جو بھی دیں لیکن ان کے دلوں میں دھڑکا لگا رہتا ہے کہ وہ اپنے پروردگار کے پاس لوٹ جانے والے ہیں۔
‘‘ (المؤمنون: 23/60)
عرض کی: جو لوگ اللہ کی راہ میں دیتے ہیں انہیں کس بات کا ڈر لگا رہتا ہے؟ کیا وہ شراب پیتے ہیں یا چوری کرتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’صدیق کی بیٹی! یہ بات نہیں بلکہ وہ لوگ روزہ رکھتے، نماز پڑھتے اور صدقہ دیتے ہیں، اس کے باوجود وہ ڈرتے رہتے ہیں کہ شاید ان کا عمل قبول نہ ہو۔
یہی لوگ ہیں جو نیکیوں کی طرف لپکتے اور آگے نکل جانے والے ہیں۔
‘‘ (جامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث: 3175) (2)
بہرحال مسلسل گناہ کرتے جانا، پھر نجات کی امید رکھنا بدبختی کی علامت ہے۔
ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ حالت صحت میں دل پر خوف غالب رکھے اور مرتے وقت اس کے رحم و کرم کی امید رکھے۔
واللہ أعلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کیں اور ایک رحمت اپنی مخلوق کے درمیان دنیا میں رکھی، جس کی بدولت وہ دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت و شفقت سے پیش آتے ہیں، جب کہ اللہ کے پاس ننانوے (۹۹) رحمتیں ہیں " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3541]
1؎:
اس (99) رحمت کا مظاہرہ اللہ تعالیٰ بندوں کے ساتھ قیامت کے دن کرے گا، اس سے بندوں کے ساتھ اللہ کی رحمت کا اندازہ لگا سکتے ہیں، لیکن یہ رحمت بھی مشروط ہے شرک نہ ہونے اور توبہ استغفارکے ساتھ، ویسے بغیر توبہ کے بھی اللہ اپنی رحمت کا مظاہرہ کر سکتا ہے، ﴿وَیَغْفِرُمَادُوْنَ ذٰلِكَ لِمَن یَّشَاءُ﴾ مگرمشرک کے ساتھ بغیر توبہ کے رحمت کا کوئی معاملہ نہیں ﴿إِنَّ اللهَ لَایَغْفِرُ أَن یُّشْرِكَ بِه﴾۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، ان میں سے ایک رحمت کو تمام مخلوقات کے درمیان تقسیم کر دیا ہے، اسی کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر رحم اور شفقت کرتے ہیں، اور اسی وجہ سے وحشی جانور اپنی اولاد پر رحم کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ننانوے رحمتیں محفوظ کر رکھی ہیں، ان کے ذریعے وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم کرے گا۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4293]
فوائد و مسائل:
(1)
مخلوق میں ایک دوسرے پر شفقت اور رحم کرنے کاجذبہ اللہ کا پیدا کیا ہوا ہے۔
لہٰذا یہ بھی مخلوق ہے۔
اللہ کی رحمت اللہ کی صفت ہے جو غیر مخلوق ہے۔
(2)
اللہ کی بے شمار قسم کی مخلوق ہے اور ہر قسم کے افراد کی تعداد کا اندازہ لگانا انسان کے لئے ناممکن ہے۔
ان تمام انواع واقسام کی جتنی مخلوقات اب تک پیدا ہوچکی ہیں۔
اور جس قدر قیامت تک پیدا ہونے والی ہیں۔
ان سب کی مجموعی شفقت ورحمت کوجمع کیا جائے۔
تو اللہ کی رحمت کے مقابلے میں اس تمام کی کوئی حیثیت نہیں۔
(3)
رحمت کے سو حصے ذکر کرنے کامقصد اللہ کی رحمت کے بے انتہا وسیع ہونے کا تصور دینا ہے۔
جس ذات نے اپنی ہر مخلوق میں رحم کا جذبہ رکھا ہے حتیٰ کہ حیوان اور پرندے بھی اپنے بچوں پراتنی شفقت کرتے ہیں کہ ان کو بچانے کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈال دیتے ہیں تو اس خالق کی رحمت کس قدر بے پایاں ہوگی؟ اس کا تو اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔
(4)
قیامت کے دن جس طرح اللہ کی صفت غضب اور صفت عدل کا اظہار ہوگا اسی طرح اس کی صفت رحمت کا بھی بے حد وحساب ظہور ہوگا۔
اس حدیث میں جہنم کی گرمی کا ذکر ہے کہ دنیا میں تو ہم اس معمولی سی آگ کو برداشت نہیں کر سکتے تو قیامت والے دن اس آگ سے انہتر گنا زیادہ تپش والی آگ میں ہم کیسے سکون حاصل کرسکیں گے؟