صحيح البخاري
كتاب الأدب— کتاب: اخلاق کے بیان میں
بَابُ عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ مِنَ الْكَبَائِرِ: باب: والدین کی نافرمانی بہت ہی بڑے گناہ میں سے ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَبَائِرَ أَوْ سُئِلَ عَنِ الْكَبَائِرِ فَقَالَ : " الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، فَقَالَ : أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ؟ قَالَ : قَوْلُ الزُّورِ أَوْ قَالَ شَهَادَةُ الزُّورِ " قَالَ شُعْبَةُ : وَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ : شَهَادَةُ الزُّورِ .´مجھ سے محمد بن ولید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ` مجھ سے عبیداللہ بن ابی بکر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبائر کا ذکر کیا یا ( انہوں نے کہا کہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کبائر کے متعلق پوچھا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، کسی کی ( ناحق ) جان لینا ، والدین کی نافرمانی کرنا پھر فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتا دوں ؟ فرمایا کہ جھوٹی بات یا فرمایا کہ جھوٹی شہادت ( سب سے بڑا گناہ ہے ) شعبہ نے بیان کیا کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹی گواہی فرمایا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف حالات واشخاص کے پیش نظر مختلف گناہوں کو اکبر الکبائر قرار دیا ہے۔
مزکورہ احادیث میں والدین کی نافرمانی کو بھی بہت بڑا گناہ قرار دیا ہے۔
چونکہ والدین ظاہری صورت کے اعتبار سے بیٹے کے موجد ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے ساتھ والدین کے حق کو بھی بیان کیا ہے اور ان کی حق تلفی کو اپنی حق تلفی کی طرح بڑا گناہ کہا ہے، چنانچہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین قسم کے لوگوں کو نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا: والدین کا نافرمان، شراب کا رسیا اور دیوث (بےغیرت)
۔
‘‘ آپ نے دیوث کی تعریف فرمائی کہ جو ٹھنڈے پیٹ اپنے گھر میں بے حیائی اور بے غیرتی برداشت کرے۔
(مسند أحمد: 128/2) (2)
والدہ نے بچے کی پرورش میں زیادہ تکلیف اور مشقت برداشت کی ہوتی ہے اور وہ نرم دل ہونے کی وجہ سے اپنی اولاد پر زور نہیں دے سکتی، اس لیے خصوصیت کے ساتھ اس کی نافرمانی سے منع فرمایا۔
ہمارے ہاں کچھ لوگ نقد رقم دے کر سمجھ لیتے ہیں کہ والدین کا حق ادا ہو گیا، یہ درست نہیں۔
اگر ان سے دور رہتا ہے تو فون پر ان سے رابطہ رکھنا، ان کی خیریت دریافت کرتے رہنا، ان سے ملاقات کے لیے جانا، ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنا، اپنے معاملات میں ان سے مشورہ لینا، انھیں خوش رکھنے کی کوشش کرنا یہ والدین کی جذباتی اور نفسیاتی ضروریات ہیں جن کا پورا کرنا جسمانی ضروریات سے زیادہ اہم ہے۔
ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کے لیے اس کے والدین کو جنت یا جہنم قرار دیا ہے۔
(سنن ابن ماجة، الأدب، حدیث: 3662)
نیز فرمایا: ’’باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے چاہے اس دروازے کو ضائع کر لو چاہے اسے محفوظ رکھ لو۔
‘‘ (جامع الترمذي، البروالصلة، حدیث: 1900)
اسے ضائع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم اس کی نافرمانی کرو گے تو تمہارے لیے جنت کا دروزہ نہیں کھلے گا، اس طرح جنت کا دروزہ کھو بیٹھو گے۔
واللہ المستعان
جنت اس کے لیے قطعاً حرام ہے۔
بت پرستی اور قبر پرستی ہر دو کی یہی سزا ہے۔
دوسرے گناہ ایسے ہیں جن کا مرتکب اللہ کی مشیت پر ہے وہ چاہے عذاب کرے چاہے بخش دے۔
آیت شریفہ ﴿إنَّ اﷲَ لَایَغفِرُ أن یُشركَ بهِ الخ﴾ میں یہ مضمون مذکور ہے۔
ان گناہوں میں شرک ایسا جرم ہے جو توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوگا۔
اگر انسان توبہ کے بغیر مرگیا تو ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہے گا کیونکہ مشرک پر جنت حرام ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے اللہ نے اس پر جنت حرام کردی ہے اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔
‘‘ (المائدة: 5: 72)
بت پرستی اور قبر پرستی کی بھی یہی سزا ہے، البتہ حدیث میں باقی بیان کردہ جرائم ایسے ہیں کہ ان کا مرتکب اللہ تعالیٰ کی مشیت پر ہے، وہ چاہے تو ویسے معاف کر دے اور اگر چاہے تو سزا دے کر معاف کرے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ کے ساتھ اگر کسی کو شریک بنایا جائے تو یقیناً یہ گناہ اللہ تعالیٰ کبھی معاف نہیں کرے گا اور جو اس کے علاوہ (دوسرے گناہ)
ہیں، وہ جسے چاہے معاف کردے گا۔
‘‘ (النساء4: 116)
بہرحال قتل ناحق بہت سنگین جرم ہے، اس کی قباحت متعدد احادیث سے ثابت ہے۔
کبیرہ گناہوں کی آگاہی کے لیے ہماری تالیف ’’معاشرہ کے مہلک گناہ‘‘ کا مطالعہ مفید رہے گا۔
یہاں روایت کے لانے سے حضرت امام کا مقصد جھوٹی گواہی کی مذمت کرنا ہے کہ یہ بھی کبیرہ گناہوں میں داخل ہے جس کی مذمت میں اور بھی بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں۔
بلکہ جھوٹ بولنے، جھوٹی گواہی دینے کو اکبرالکبائر میں شمار کیاگیا ہے۔
یعنی بہت ہی بڑا کبیرہ گناہ جھوٹی گواہی دینا ہے۔
: (1)
عُقُوْقٌ: عق سے ماخوذ ہے، جس کا معنی کاٹنا، والدین کی اطاعت کے حق کو ختم کرنا۔
(2)
زُوْرٌ: جھوٹ، ناحق بات۔
موقع محل کی مناسبت سے آپ ﷺ نے یہاں شرک باللہ کی بجائے، جھوٹی شہادت کو اکبر الکبائر قرار دیا ہے، کیونکہ جھوٹی شہادت سے روکنا اور اس سے ڈرانا مقصو د تھا اور شرک بھی درحقیقت ایک جھوٹی شہادت اورجھوٹا بول ہے۔
اللہ تعالیٰ کے مقام ومرتبہ کو نظر انداز کرکے یہ بری حرکت کی جاتی ہے اور اس کی مخلوق کو اس کا شریک وپیہم قرار دیا جاتا ہے۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " کبیرہ گناہ: اللہ کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، (ناحق) کسی کو قتل کرنا، جھوٹ کہنا یا جھوٹ بولنا ہے " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3018]
وضاحت:
1؎:
حدیث مؤلف ارشاد باری: ﴿إِن تَجْتَنِبُواْ كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ﴾ (النساء: 31) کی تفسیر میں لائے ہیں۔
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں ۱؎ سے متعلق فرمایا: " اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی کو (ناحق) قتل کرنا اور جھوٹی بات کہنا (کبائر میں سے ہیں " ۲؎)۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1207]
وضاحت:
1؎:
کبیرہ گناہ وہ ہے جس کے ارتکاب پرقرآن کریم یا حدیث شریف میں سخت وعید وارد ہو۔
2؎:
کبیرہ گناہ اوربھی بہت سارے ہیں یہاں موقع کی مناسبت سے چند ایک کا تذکرہ فرمایا گیا ہے، یا مقصد یہ بتانا ہے کہ یہ چند مذکورہ گناہ کبیرہ گناہوں میں سب سے زیادہ خطرناک ہیں۔
یہاں مؤلف کے اس حدیث کو کتاب البیوع میں ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ خرید وفروخت میں بھی جھوٹ کی وہی قباحت ہے جو عام معاملات میں ہے، مومن تاجر کو اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " کبائر یہ ہیں: اللہ کے ساتھ غیر کو شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، (ناحق) خون کرنا اور جھوٹ بولنا۔" [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4015]
(2) جن سے حقوق العباد ضائع ہوتے ہیں، مثلاً: قتل۔
(3) حقوق اللہ میں خرابی، مثلاً: زنا اور شراب نوشی وغیرہ۔
«. . . وَفِي رِوَايَةِ أَنَسٍ: «وَشَهَادَةُ الزُّورِ» بَدَلُ: «الْيَمِينُ الْغمُوس» . . .»
". . . اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں جھوٹی قسم کی بجائے جھوٹی گواہی دینا ہے . . ." [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 51]
[صحيح بخاري 6675]
فقہ الحدیث:
➊ اس حدیث میں سابقہ حدیث مشکوۃ المصابیح [50] پر ایک کبیرہ گناہ "جھوٹی قسم" کے ذکر کا اضافہ کیا گیا ہے۔
➋ ثقہ کی زیادہ، اگر ثقہ راویوں یا اوثق کے سراسر خلاف نہ ہو تو مقبول ہوتی ہے۔
➌ احادیث صحیحہ کے الفاظ میں راویوں کا اختلاف چنداں مضر نہیں ہوا، بلکہ تمام روایات کو اکھٹا کر کے تمام الفاظ کے مشترکہ مفہوم پر ایمان و عمل کی بیناد رکھی جاتی ہے۔
➍ عدم ذکر نفی کی حتمی دلیل نہیں ہوتا، بلکہ ذکر والی روایت کو تمام عدم ذکر والی روایتوں پر ہمیشہ ترجیح ہوتی ہے۔