حدیث نمبر: 5950
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ مَسْرُوقٍ فِي دَارِ يَسَارِ بْنِ نُمَيْرٍ ، فَرَأَى فِي صُفَّتِهِ تَمَاثِيلَ ، فَقَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ " .
مولانا داود راز

´ہم سے حمیدی عبداللہ بن زبیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا اور ان سے مسلم بن صبیحہ نے بیان کیا کہ` ہم مسروق بن اجدع کے ساتھ یسار بن نمیر کے گھر میں تھے ۔ مسروق نے ان کے گھر کے سائبان میں تصویریں دیکھیں تو کہا کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ہے ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ کے پاس قیامت کے دن تصویر بنانے والوں کو سخت سے سخت تر عذاب ہو گا ۔“

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب اللباس / حدیث: 5950
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2109 | سنن نسائي: 5366

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2109 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
مسلم بن صبیح  بیان کرتے ہیں کہ میں مسروق  کے ساتھ ایک ایسے گھر میں تھا، جس میں مریم کی تصویریں یا مورتیاں تھیں تو مسروق نے کہا، یہ کسریٰ کی تصاویر ہیں تو میں نے کہا، نہیں، یہ مریم کی تصاویر ہیں تو مسروق  نے کہا، ہاں، میں نے عبداللہ بن مسعود ؓ کو یہ کہتے سنا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قیامت کے دن شدید ترین عذاب والے لوگ مصور ہوں گے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:5539]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: مسلم بن صبیح، ابو الضحیٰ کا نام ہے، جو حضرت مسروق رحمہ اللہ کے شاگرد ہیں اور یہ گھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام یسار بھی نمیر کا تھا، جو انہوں نے کسی عیسائی سے خریدا ہو گا اور یہ نقش و نگار کی صورت میں کسی بچھونے پر ہوں گی، جو چھپر یا چبوترہ میں پڑا تھا، جس طرح آج کپڑے اور کاغذ پر کسی کا تصویری خاکہ بنایا جاتا ہے اور وہ تصویری خاکہ کو درست سمجھتے ہوں گے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2109 سے ماخوذ ہے۔