صحيح البخاري
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات کے بیان میں
بَابُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهْيَ مِنَ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ: باب: شراب کی حرمت جب نازل ہوئی تو وہ کچی اور پکی کھجوروں سے تیار کی جاتی تھی۔
حدیث نمبر: 5582
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ ، وَأَبَا طَلْحَةَ ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، مِنْ فَضِيخِ زَهْوٍ وَتَمْرٍ ، فَجَاءَهُمْ آتٍ ، فَقَالَ : إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : قُمْ يَا أَنَسُ فَأَهْرِقْهَا ، فَأَهْرَقْتُهَا " .مولانا داود راز
´ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مالک بن انس نے بیان کیا ، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں ابوعبیدہ ، ابوطلحہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم کو کچی اور پکی کھجور سے تیار کی ہوئی شراب پلا رہا تھا کہ ایک آنے والے نے آ کر بتایا کہ شراب حرام کر دی گئی ہے ۔ اس وقت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انس اٹھو اور شراب کو بہا دو چنانچہ میں نے اسے بہا دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
5582. سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں سیدنا ابو عبیدہ، سیدنا ابو طلحہ اور سیدنا ابی بن کعب ؓ کو کچی پکی کھجوروں سے تیار کردہ شراب پلا رہا تھا کہ ایک آنے والے نے اطلاع دی کہ شراب حرام کر دی گئی ہے اس وقت ابو طلحہ ؓ نے فرمایا: اے انس! اٹھو شراب کو بہا دو، چنانچہ میں نے اسے بہا دیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5582]
حدیث حاشیہ: تعمیل ارشاد کے لیے مدینہ کا یہ حال تھا کہ شراب بارش کے پانی کی طرح مدینہ کی گلیوں میں بہہ رہی تھی قال القرطبي الأحادیث الواردة عن أنس و غیرہ علی صحتھا و کثرتھا تبطل مذھب الکوفیین القائلین بأن الخمر لا یکون إلا من العنب وما کان من غیرہ لا یسمیٰ خمرا ولا یتناوله اسم الخمر وھو قول مخالف للغة العرب وللسنة الصحیحة و للصحابة (فتح الباري)
یعنی قرطبی نے کہا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ وغیرہ سے جو صحیح روایات حضرت سے نقل ہوئی ہیں وہ کوفیوں کے مذہب کو باطل ٹھہراتی ہیں جو کہتے ہیں کہ خمر صرف انگور ہی سے کشید کردہ شراب کو کہا جاتا ہے اور جو اس کے علاوہ اشیاء سے تیار کی جائے وہ خمر نہیں ہے۔
اہل کوفہ کا یہ قول لغت عرب اور سنت صحیحہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف ہے۔
یعنی قرطبی نے کہا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ وغیرہ سے جو صحیح روایات حضرت سے نقل ہوئی ہیں وہ کوفیوں کے مذہب کو باطل ٹھہراتی ہیں جو کہتے ہیں کہ خمر صرف انگور ہی سے کشید کردہ شراب کو کہا جاتا ہے اور جو اس کے علاوہ اشیاء سے تیار کی جائے وہ خمر نہیں ہے۔
اہل کوفہ کا یہ قول لغت عرب اور سنت صحیحہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5582 سے ماخوذ ہے۔