صحيح البخاري
كتاب الأطعمة— کتاب: کھانوں کے بیان میں
بَابُ الْقَدِيدِ: باب: خشک کئے ہوئے گوشت کے ٹکڑے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " مَا فَعَلَهُ إِلَّا فِي عَامٍ جَاعَ النَّاسُ أَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ ، وَإِنْ كُنَّا لَنَرْفَعُ الْكُرَاعَ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ وَمَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ مَأْدُومٍ ثَلَاثًا " .´ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کبھی نہیں کیا کہ تین دن سے زیادہ گوشت قربانی والا رکھنے سے منع فرمایا ہو ۔ صرف اس سال یہ حکم دیا تھا جس سال قحط کی وجہ سے لوگ فاقے میں مبتلا تھے ۔ مقصد یہ تھا کہ جو لوگ غنی ہیں وہ گوشت محتاجوں کو کھلائیں ( اور جمع کر کے نہ رکھیں ) اور ہم تو بکری کے پائے محفوظ کر کے رکھ لیتے تھے اور پندرہ دن بعد تک ( کھاتے تھے ) اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی سالن کے ساتھ گیہوں کی روٹی تین دن تک برابر سیر ہو کر نہیں کھائی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
بیٹیوں میں (1)
حضرت زینب رضی اللہ عنہا ہیں جو حضرت قاسم سے چھوٹی اور دیگر اولاد النبی سے بڑی ہیں۔
(2)
حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا جو حضرت زینب رضی اللہ عنہ سے چھوٹی ہیں۔
(3)
حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا جو حضرت رقیہ سے چھوٹی ہیں (4)
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں جن کے فضائل بے شمار ہیں۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاص وصیت فرمائی تھی کہ میری بیٹی اس دعا کو ہمیشہ پڑھا کرو۔
یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِكَ اَسْتَغِیْثُ اَصْلِحْ شَاْنِیْ کُلَّهُ وَلاَ تَکِلْنِیْ نَفْسِیْ طَرْفَةَ عَیْنٍ وَ أَصلِح لِي شأني کُلهُ (بیہقی)
آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا لفظ ان سب پر ان کی آل اولاد پر حضرات حسنین رضی اللہ عنہما اور ان کی اولاد پر بولا جاتا ہے۔
(1)
حضرت عابس رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا؟ انہوں نے اس کے جواب میں فرمایا: ایسا صرف ایک سال ہوا تھا جب لوگ قحط زدہ تھے۔
(2)
بہرحال اس حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بکری کے پائے رکھ لیتی تھیں اور پندرہ دن کے بعد اسے استعمال کرتی تھیں، اس سے گوشت خشک کر کے رکھنے کا جواز ملتا ہے۔
واللہ أعلم
عابس کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر عرض کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرماتے تھے؟ بولیں: ہاں، لوگ سخت محتاج اور ضروت مند تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ مالدار لوگ غریبوں کو کھلائیں، پھر بولیں: میں نے آل محمد (گھر والوں) کو دیکھا کہ وہ لوگ پائے پندرہ دن بعد کھاتے تھے، میں نے کہا: یہ کس وجہ سے؟ وہ ہنسیں اور بولیں: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے کبھی ب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4437]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم لوگ قربانی کے گوشت میں سے پائے اکٹھا کر کے رکھ دیتے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ روز کے بعد انہیں کھایا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3313]
فوائد و مسائل:
(1)
قربانی کا گوشت بچ جائے تو بعد میں استعمال کرنے کے لیے سنبھالا جاسکتا ہے خواہ کتنی مدت بعد استعمال کیا جائے۔
(2)
اپنی ضرورت کی چیز اس کے موسم میں کافی مقدار میں خرید لینا جائز ہے یہ ممنوع ذخیرہ اندوزی میں شامل نہیں۔