صحيح البخاري
كتاب الأطعمة— کتاب: کھانوں کے بیان میں
بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ يَأْكُلُونَ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی خوارک کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ، فَقُلْتُ : هَلْ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ ؟ فَقَالَ سَهْلٌ : مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ مِنْ حِينَ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : هَلْ كَانَتْ لَكُمْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنَاخِلُ ؟ قَالَ : مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْخُلًا مِنْ حِينَ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ ، قَالَ : قُلْتُ : كَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ ؟ قَالَ : كُنَّا نَطْحَنُهُ وَنَنْفُخُهُ فَيَطِيرُ مَا طَارَ وَمَا بَقِيَ ثَرَّيْنَاهُ فَأَكَلْنَاهُ " .´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے بیان کیا کہ` میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا ، کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میدہ کھایا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنایا اس وقت سے وفات تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدہ دیکھا بھی نہیں تھا ۔ میں نے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے پاس چھلنیاں تھیں ۔ کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنایا اس وقت سے آپ کی وفات تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھلنی دیکھی بھی نہیں ۔ بیان کیا کہ میں نے پوچھا آپ لوگ پھر بغیر چھنا ہوا جَو کس طرح کھاتے تھے ؟ بتلایا ہم اسے پیس لیتے تھے پھر اسے پھونکتے تھے جو کچھ اڑنا ہوتا اڑ جاتا اور جو باقی رہ جاتا اسے گوندھ لیتے ( اور پکا کر ) کھا لیتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانۂ بعثت سے پہلے تو شام کے علاقوں کا سفر کیا جہاں بہت خوشحالی تھی اور میدے کی روٹی بھی وہاں بکثرت دستیاب تھی اور چھانیناں بھی ہوتی تھیں لیکن بعثت کے بعد آپ مکے، طائف اور مدینے کے علاوہ اور کہیں نہیں گئے۔
آپ نے تبوک کا سفر کیا ہے جو شام کے قریب تھا۔
وہاں بھی چند دن پڑاؤ کیا اور واپس آ گئے۔
ان علاقوں میں نہ چھانیناں موجود تھیں اور نہ آٹا ہی ملتا تھا۔
بہرحال حضرت سہل رضی اللہ عنہ کے بقول جو کے آٹے میں پھونک مارتے، اس سے جو اڑنا ہوتا وہ اڑ جاتا، باقی ماندہ آٹے کو بطور ستو استعمال کرتے یا گوندھ کر روٹی پکا لیتے۔
ان حضرات کی یہی خوراک تھی۔
بہرحال آج کل بھی سادہ زندگی بسر کی جا سکتی ہے۔
اس میں دین و دنیا دونوں کا بھلا اور خیروبرکت ہے۔
واللہ أعلم