حدیث نمبر: 5411
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَيْنَ أَصْحَابِهِ تَمْرًا فَأَعْطَى كُلَّ إِنْسَانٍ سَبْعَ تَمَرَاتٍ ، فَأَعْطَانِي سَبْعَ تَمَرَاتٍ إِحْدَاهُنَّ حَشَفَةٌ فَلَمْ يَكُنْ فِيهِنَّ تَمْرَةٌ أَعْجَبَ إِلَيَّ مِنْهَا شَدَّتْ فِي مَضَاغِي " .
مولانا داود راز

´ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے عباس جریری نے بیان کیا ، ان سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو کھجور تقسیم کی اور ہر شخص کو سات کھجوریں دیں ۔ مجھے بھی سات کھجوریں عنایت فرمائیں ۔ ان میں ایک خراب تھی ( اور سخت تھی ) لیکن مجھے وہی سب سے زیادہ اچھی معلوم ہوئی کیونکہ اس کا چبانا مجھ کو مشکل ہو گیا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأطعمة / حدیث: 5411
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
5411. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے ایک دن اپنے صحابہ کرام‬ ؓ م‬یں کھجوریں تقسیم کیں تو ہر صحابی کو سات، سات کھجور عنایت فرمائیں میرے حصے میں جو سات کھجوریں آئیں ان میں سے ایک تو بہت ردی قسم کی تھی لیکن سب سے زیادہ پسند بھی مجھے یہی کھجور تھی کیونکہ وہ چبانے میں سخت واقع ہوئی، یعنی اسے میں دیر تک چباتا رہا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5411]
حدیث حاشیہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت مسلمانوں پر ایسی تنگی تھی کہ سات کھجوریں ایک آدمی کو بطورراشن ملتی اور ان میں بھی بعض خراب اور سخت ہوتی مگر ہم سب اسی پر خوش رہا کرتے تھے۔
اب بھی مسلمانوں کا فرض ہے کہ تنگی و فراخی ہرحال میں خوش رہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5411 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5411. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے ایک دن اپنے صحابہ کرام‬ ؓ م‬یں کھجوریں تقسیم کیں تو ہر صحابی کو سات، سات کھجور عنایت فرمائیں میرے حصے میں جو سات کھجوریں آئیں ان میں سے ایک تو بہت ردی قسم کی تھی لیکن سب سے زیادہ پسند بھی مجھے یہی کھجور تھی کیونکہ وہ چبانے میں سخت واقع ہوئی، یعنی اسے میں دیر تک چباتا رہا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5411]
حدیث حاشیہ:
(1)
حَشَفَة وہ کھجور ہوتی ہے جو درخت پر نہیں پکتی اور اس کی پختگی پوری نہیں ہوتی، اس لیے وہ خشک اور سخت ہو جاتی ہے۔
(2)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا مقصد فقر و تنگدستی کا اظہار کرنا ہے کہ اس وقت مسلمانوں کو سات، سات کھجوریں ہر آدمی کے لیے بطورِ راشن ہوتی تھیں۔
ان میں بھی بعض خراب اور چبانے میں سخت ہوتیں، لیکن ایسی کھجوروں سے خوش ہوتے کہ انہیں چبانے میں دیر لگے گی اور زیادہ دیر منہ میں مٹھاس رہے گی۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5411 سے ماخوذ ہے۔