حدیث نمبر: 5385
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أَنَسٍ وَعِنْدَهُ خَبَّازٌ لَهُ ، فَقَالَ : " مَا أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا مُرَقَّقًا وَلَا شَاةً مَسْمُوطَةً حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ " .
مولانا داود راز

´ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ، ان سے ہمام نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے کہا کہ` ہم انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے ، اس وقت ان کا روٹی پکانے والا خادم بھی موجود تھا ۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی چپاتی ( میدہ کی روٹی ) نہیں کھائی اور نہ ساری دم پختہ بکری کھائی یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأطعمة / حدیث: 5385
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
5385. سیدنا قتادہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم سیدنا انس ؓ کے پاس تھے۔ ان کے ہاں انکا باورچی بھی تھا انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے کبھی میدے سے تیار شدہ باریک چپاتی نہیں کھائی اور نہ کبھی بھونی ہوئی بکری ہی تناول فرمائی حتی کہ آپ اللہ تعالٰی سے جا ملے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5385]
حدیث حاشیہ: حدیث میں لفظ ''مسموطة'' ہے یعنی وہ بکری جس کے بال گرم پانی سے دور کيے جائیں، پھر چمڑے سمیت بھون لی جائے۔
یہ چھوٹے بچے کے ساتھ کرتے ہیں چونکہ اس کا گوشت نرم ہوتا ہے یہ دنیا دار مغرور لوگوں کا فعل ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5385 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5385. سیدنا قتادہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم سیدنا انس ؓ کے پاس تھے۔ ان کے ہاں انکا باورچی بھی تھا انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے کبھی میدے سے تیار شدہ باریک چپاتی نہیں کھائی اور نہ کبھی بھونی ہوئی بکری ہی تناول فرمائی حتی کہ آپ اللہ تعالٰی سے جا ملے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5385]
حدیث حاشیہ:
(1)
مُرقق، میدے کی پتلی روٹی کو کہتے ہیں۔
عربوں کے ہاں آٹا چھاننے کے لیے چھلنی نہیں ہوا کرتی تھی، اس لیے وہ بغیر چھانے آٹے کی روٹی تیار کرتے تھے، نیز سادگی کی وجہ سے بھی ایسا ہوتا تھا۔
(2)
ابن بطال نے کہا ہے کہ میدے کی پتلی روٹی جائز اور مباح ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے زہد اور دنیا سے بے رغبتی کی بنا پر میدے کی باریک چپاتی نہیں کھاتے تھے بلکہ آپ کو جو کچھ میسر ہوتا اسے ترجیح دیتے تھے۔
(عمدة القاري: 396/14) (3)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا جو ان کے لیے بہترین کھانا تیار کرتا اور کئی قسم کا سالن بناتا، اس کے علاوہ گھی میں آٹا گوندھ کر روٹی تیار کرتا تھا، اس لیے چپاتی کا استعمال جائز ہے۔
(فتح الباري: 658/9)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5385 سے ماخوذ ہے۔