صحيح البخاري
كتاب الأطعمة— کتاب: کھانوں کے بیان میں
بَابُ التَّسْمِيَةِ عَلَى الطَّعَامِ وَالأَكْلِ بِالْيَمِينِ: باب: کھانے کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا اور دائیں ہاتھ سے کھانا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ : أَخْبَرَنِي ، أَنَّهُ سَمِعَ وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، يَقُولُ : كُنْتُ غُلَامًا فِي حَجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَتْ يَدِي تَطِيشُ فِي الصَّحْفَةِ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا غُلَامُ ، سَمِّ اللَّهَ وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ ، فَمَا زَالَتْ تِلْكَ طِعْمَتِي بَعْدُ " .´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ، کہا کہ مجھے ولید بن کثیر نے خبر دی ، انہوں نے وہب بن کیسان سے سنا ، انہوں نے عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` میں بچہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش میں تھا اور ( کھاتے وقت ) میرا ہاتھ برتن میں چاروں طرف گھوما کرتا ۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ بیٹے ! بسم اللہ پڑھ لیا کرو ، داہنے ہاتھ سے کھایا کرو اور برتن میں وہاں سے کھایا کرو جو جگہ تجھ سے نزدیک ہو ۔ چنانچہ اس کے بعد میں ہمیشہ اسی ہدایت کے مطابق کھاتا رہا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
شروع میں بسم اللہ کہنا اور دائیں ہا تھ سے کھانا کھانا واجب ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بائیں ہاتھ سے کھانے سے روکا۔
اس نے کہا کہ میں داہنے ہاتھ سے نہیں کھا سکتا۔
آپ نے فرمایا اچھا تو داہنے ہاتھ سے نہ کھائے گا، اس کا دایاں ہاتھ مفلوج ہو گیا۔
اس کو جھوٹ کی قدرت نے فوراً سزا دی۔
نعوذ باللہ من غضب اللہ۔
(1)
اگر کھانے کے شروع میں بسم اللہ بھول جائے تو جب یاد آ جائے اسی وقت بسم الله أولَه و آخِرَه پڑھے، اس طرح آغاز میں بسم اللہ نہ پڑھنے کی تلافی ہو جاتی ہے۔
(سنن أبي داود، الأطعمة، حدیث: 3767) (2)
کھانا دائیں ہاتھ سے کھانا چاہیے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتے دیکھا تو آپ نے فرمایا: ’’دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔
‘‘ وہ کہنے لگا: میں دائیں ہاتھ سے نہیں کھا سکتا، حالانکہ وہ کھا سکتا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اچھا تو آئندہ دائیں ہاتھ سے نہیں کھا سکے گا۔
‘‘ اس کے بعد اس کا دایاں ہاتھ مفلوج ہو گیا۔
(صحیح مسلم، الأشربة، حدیث: 5268 (2021)
اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو جھوٹ کی سزا دی، لہذا ہمیں دائیں ہاتھ سے کھانے پینے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ کے پاس کھانا رکھا تھا، آپ نے فرمایا: ” بیٹے! قریب ہو جاؤ، بسم اللہ پڑھو اور اپنے داہنے ہاتھ سے جو تمہارے قریب ہے اسے کھاؤ “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1857]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں: (1)
کھاتے وقت بسم اللہ پڑھنا چاہیے، اس کا اہم فائدہ جیساکہ بعض احادیث سے ثابت ہے، یہ ہے کہ ایسے کھانے میں شیطان شریک نہیں ہوسکتا، ساتھ ہی اس ذات کے لیے شکریہ کا اظہار ہے جس نے کھانا جیسی نعمت ہمیں عطاکی۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہواکہ آداب طعام میں سے ہے کہ اپنے سامنے اور قریب سے کھایا جائے۔
(3)
چھوٹے بچوں کو اپنے ساتھ کھانے میں شریک رکھاجائے۔
(4) اس مجلس سے متعلق جو بھی ادب کی باتیں ہوں بچوں کو ان سے واقف کرایا جائے۔
(5) کھانا دائیں ہاتھ سے کھایا جائے۔
نوٹ:
(’’ادْنُ‘‘ کا لفظ صحیح نہیں ہے، تراجع الالبانی 350)
عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میرے بیٹے! قریب آ جاؤ اور اللہ کا نام (بسم اللہ کہو) لو داہنے ہاتھ سے کھاؤ، اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3777]
فائدہ: بچوں اور خادموں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا سنت نبویﷺ ہے۔
نیز بچوں اور کم علم لوگوں کو شرعی آداب کی تعلیم دینا ضروری ہے۔
بالخصوص کھانے کے بارے میں مذکورہ تین باتیں بہت اہم ہیں۔
عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں بچہ تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر تربیت تھا، میرا ہاتھ پلیٹ میں چاروں طرف چل رہا تھا ۱؎، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ” لڑکے! «بسم الله» کہو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اور اپنے قریب سے کھاؤ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3267]
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت ابو سلمہ عبداللہ بن عبدالاسد رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی برہ بنت عبدالمطلب کے بیٹے تھے۔
یہ سابقین اولین میں سے ہیں۔
(4 ہجری میں فوت ہوئے تو ان کی بیوی حضرت ام سلمہ ہند بنت ابو امیہ رضی اللہ عنہا کو ام المومنین بننے کا شرف حاصل ہوا۔
اس طرح ان کے بیٹے عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ اور بیٹی زینب بنت ابو سلمہ ؓ رسول ا للہ کے زیر سایہ آ گئے۔
(2)
بچے غلطی کریں تو نرمی سے سمجھا دینا چاہیے۔
(3)
بچوں کو واضح اور آسان اسلوب میں سمجھانا چاہیے اور اختصار پیش نظر رکھا جائے۔
(4)
جب برتن میں ایک ہی قسم کا کھانا ہو تو ہر ایک کواپنے سامنے سے کھانا چاہیے البتہ اگر مختلف قسم کی چیزیں (کھجوریں یا مٹھائی وغیرہ)
ہوں تو اپنی پسند کی چیز دوسری طرف سے بھی لی جا سکتی ہے۔
سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا ” اے بچے! اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو اور اپنے سیدھے ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔ “ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 901»
«أخرجه البخاري، الأطعمة، باب التسمية علي الطعام والأكل باليمين، حديث:5376، ومسلم، الأشربة، باب آداب الطعام والشراب وأحكامهما، حديث:2022.»
تشریح: معلوم ہوا کہ کھانا ہمیشہ بسم اللّٰہ پڑھ کر دائیں ہاتھ سے اور اپنے سامنے سے کھانا چاہیے‘ البتہ اگر کھانے کی اشیاء مختلف ہوں تو دل پسند چیز جہاں ہو لے سکتا ہے جیسا کہ دوسری احادیث سے ثابت ہوتا ہے۔
راویٔ حدیث:
«حضرت عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہ» عمر بن ابو سلمہ عبداللہ بن عبدالاسد بن ہلال مخزومی۔
یہ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے لخت جگر ہیں‘ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تربیت و پرورش فرمائی تھی۔
حبشہ میں پیدا ہوئے۔
ان کی پیدائش ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ کے درمیانی عرصے میں ہوئی تھی۔
۸۳ ہجری میں وفات پائی۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کھانا اپنے سامنے سے اور دائیں ہاتھ سے کھانا چاہیے، نیز چھوٹے بچوں کی تربیت کرتے رہنا چاہیے، ربیب (پروردہ) بیٹے کی بھی پرورش کرنی چاہیے۔