حدیث نمبر: 5291
وَقَالَ لِي إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ يُوقَفُ حَتَّى يُطَلِّقَ، وَلاَ يَقَعُ عَلَيْهِ الطَّلاَقُ حَتَّى يُطَلِّقَ. وَيُذْكَرُ ذَلِكَ عَنْ عُثْمَانَ وَعَلِيٍّ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَعَائِشَةَ وَاثْنَيْ عَشَرَ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا داود راز

´مجھ سے اسماعیل نے بیان کہا کہ ان سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` جب چار مہینے گذر جائیں تو اسے قاضی کے سامنے پیش کیا جائے گا ، یہاں تک کہ وہ طلاق دیدے ، اور طلاق اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک طلاق دی نہ جائے ، اور عثمان ، علی ، ابودرداء اور عائشہ اور بارہ دوسرے صحابہ رضوان اللہ علیہم سے بھی ایسا ہی منقول ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الطلاق / حدیث: 5291
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5291. سیدنا ابن عمر ؓ ہی سے روایت ہے کہ جب چار ماہ گزر جائیں تو اسے قاضی کے سامنے پیش کیا جائے یہاں تک کہ وہ طلاق دے۔ اور طلاق اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک وہ خود طلاق نہیں دے گا۔ سیدنا عثمان۔ سیدنا علی، سیدنا ابو درداء، سیدہ عائشہ اور دیکگر بارہ صحابہ کرام ؓ سے بھی ایسا ہی منقول ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5291]
حدیث حاشیہ:
(1)
اہل علم کا اس امر میں اختلاف ہے کہ ایلاء کرنے کے بعد اگر چار ماہ گزر جائیں تو عورت خود بخود مطلقہ ہو جائے گی یا اسے طلاق دے کر فارغ کرنا ہو گا؟ اہل کوفہ کا موقف ہے کہ ایلاء کی مدت چار ماہ گزرنے کے بعد عورت کو خود بخود طلاق ہو جاتی ہے، اسے طلاق دینے کی ضرورت نہیں جبکہ دیگر اہل علم کہتے ہیں کہ مدت ایلاء چار ماہ گزرنے کے بعد شوہر کو اختیار ہے رجوع کرے یا طلاق دے۔
اس کے طلاق دیے بغیر عورت مطلقہ نہیں ہوگی کیونکہ قرآن میں ہے: ’’اگر وہ طلاق ہی کا عزم کر لیں تو اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔
‘‘ (البقرة: 227)
عزم طلاق اور ہے اور عملاً طلاق دینا اور چیز ہے۔
(2)
بہرحال امام بخاری رحمہ اللہ کا رجحان یہ ہے کہ مدت ایلاء چار ماہ گزرنے کے بعد خاوند اگر طلاق دے گا تو عورت فارغ ہو گی بصورت دیگر وہ مطلقہ نہیں ہو گی۔
اگر وہ رجوع نہ کرے اور نہ طلاق ہی دے تو عدالتی چارہ جوئی سے کام لیا جائے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5291 سے ماخوذ ہے۔