صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ: {عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ} : باب: آیت کی تفسیر یعنی وہ کافر ”سخت مزاج ہے، اس کے علاوہ بدذات بھی ہیں“۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ ؟ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ " .´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے عبد بن خالد سے بیان کیا ، کہا کہ میں نے حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میں تمہیں بہشتی آدمی کے متعلق نہ بتا دوں ۔ وہ دیکھنے میں کمزور ناتواں ہوتا ہے ( لیکن اللہ کے یہاں اس کا مرتبہ یہ ہے کہ ) اگر کسی بات پر اللہ کی قسم کھا لے تو اللہ اسے ضرور پوری کر دیتا ہے اور کیا میں تمہیں دوزخ والوں کے متعلق نہ بتا دوں ہر بدخو ، بھاری جسم والا اور تکبر کرنے والا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جعلنا اللہ منھم آمین۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اہل جنت زیادہ تر مستجاب الدعوات ہوتے ہیں وہ اگرچہ بظاہر ناتواں کمزور اور غیر معروف ہوتے ہیں اور لوگوں کے ہاں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی مگر ان کے دل محبت الٰہی سے سر شار ہوتے ہیں جب اللہ تعالیٰ سے دعا کریں یا کسی کام کی قسم اٹھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی لاج رکھتے ہوئے وہ کام ضرور کردیتا اور ان کی دعاؤں کو شرف قبولیت سے نوازتا ہےاس کے برعکس جو جہنمی ہیں اور متکبر تنذ مزاج اور سخت گیر ہوتے ہیں دنیا میں دوسروں کے ناک میں دم کیے رکھتے ہیں۔
(1)
اس حدیث میں بھی قسم کا لفظ بول کر حلف مراد لیا گیا ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسی مقصد کے لیے اس حدیث کو بیان کیا ہے۔
(2)
ضعيف سے مراد کمزور و ناتواں اور مُتضعف سے مراد وہ شخص جسے لوگ اس کے ضعف حال کے پیش نظر حقیر خیال کرتے ہوں۔
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اس حدیث میں ضعیف سے مراد کون ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: جو انسان ایک دن میں پچیس سے پچاس مرتبہ لا حول ولا قوة إلا باللہ پڑھتا ہو، یعنی جو انسان خود کو بری کرتا ہو کہ مجھ میں اللہ کی توفیق کے علاوہ نیکی کرنے اور گناہ سے بچنے کی ہمت نہیں ہے۔
(فتح الباري: 662/11)
اس کے معنی یہ ہیں کہ ہر کمزور مسلمان جنتی ہے اور ہر بدخلق، متکبر انسان دوزخی ہے۔
اس کا برعکس مراد نہیں کہ اس کے علاوہ دوسرے اوصاف کے حاملین جنت یا دوزخ میں نہیں جائیں گے۔
(عمدةالقاري: 706/15)
زنيم: کمینہ، لئیم، بداصل، دوسرے خاندان میں اپنے آپ کو داخل کرنے والا۔
حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جواظ» جنت میں نہ داخل ہو گا اور نہ «جعظری» جنت میں داخل ہو گا ۱؎۔ راوی کہتے ہیں «جواظ» کے معنی بدخلق اور سخت دل کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4801]
لفظ (جَعُظُرِی) کے کئی معنی آتے ہیں، مثلاََ موٹا، تکبرانہ چال چلنے والا، پیٹو، جسے سر درد نہ ہوتا ہو، خود آراء، پلے کچھ نہ ہو، مگر باتیں بہت بنائے اور پستہ قد ہو۔
واللہ أعلم۔
حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں “؟ ہر وہ کمزور اور بے حال شخص جس کو لوگ کمزور سمجھیں، کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر وہ سخت مزاج، پیسہ جوڑ جوڑ کر رکھنے، اور تکبر کرنے والا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4116]
فوائد و مسائل: (1)
کمزور سمجھنے والا سے مراد شریف النفس آدمی ہےجو کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ اگر کوئی زیادتی کرے تو اسے معاف کردیتا ہے۔
لوگ اسے کمزور سمجھتے ہیں اس سے کسی قسم کا کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے اور نه اس کے شر وغیرہ ہی کا کوئی خوف ہوتا ہے۔
(2)
افرادی معاملات میں نرمی اور درگزر کا چلن عام ہوجائے تو معاشرہ امن کا گہوارہ بن جاتا ہے۔
فساد ہمیشہ اس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی اپنی مالی جسمانی یا خاندانی اور افرادی طاقت پر گھمنڈ کرکے دوسروں پر ظلم کرتا ہے۔
اگر وہ کسی پر زیادتی نہ کرے خواہ اسے کمزور سمجھا جائے تو یہ اعلی اخلاق کا نمونہ ہے۔
جس کا ثواب جنت ہے۔
(3)
درشت خو سے مراد بات چیت کے انداز میں اور برتاؤ میں سختی اختیار کرنے والا ہے۔
اس قسم کے بد اخلاق آدمی سے ہر کسی کا جھگڑا ہوتا ہے جس سے فساد جنم لیتا اور بڑھتا ہے۔
(4)
جواظ كا مطلب الجموع المنوع بیان کیا گیا ہے یعنی ایسا حریص آدمی جو مال جمع کرتا رہتا ہے لیکن بخیل بھی ہے خرچ نہیں کرتا۔
مومن میں حرص اور بخل کی عادات نہیں ہوتیں۔
بلکہ یہ منافقوں اور کافروں میں ہوتی ہیں۔
جن کی وجہ سے وہ جہنم کے مستحق ہوجاتے ہیں۔
(5)
تکبر سے مراد دوسرے کو حقیر سمجھنا اور حق واضح ہوجانے کے باوجود تسلیم نہ کرنا۔
یہ برتری کا احساس بہت سی اخلاقی اور معاشرتی خرابیوں کا باعث ہے۔