صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ قَوْلِهِ: {يَقُولُونَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لاَ يَعْلَمُونَ} : باب: آیت کی تفسیر ”(منافقوں نے کہا کہ) اگر ہم اب مدینہ لوٹ کر جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلیلوں کو نکال کر باہر کر دے گا، حالانکہ عزت تو بس اللہ ہی کے لیے اور اس کے پیغمبر کے لیے اور ایمان والوں کے لیے ہے البتہ منافقین علم نہیں رکھتے“۔
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَفِظْنَاهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : كُنَّا فِي غَزَاةٍ ، فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : يَا لَلْأَنْصَارِ ، وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ : يَا لَلْمُهَاجِرِينَ ، فَسَمَّعَهَا اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا هَذَا ؟ " فَقَالُوا : كَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : يَا لَلْأَنْصَارِ ، وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ : يَا لَلْمُهَاجِرِينَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ " ، قَالَ جَابِرٌ : وَكَانَتْ الْأَنْصَارُ حِينَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ ، ثُمَّ كَثُرَ الْمُهَاجِرُونَ بَعْدُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ : أَوَقَدْ فَعَلُوا وَاللَّهِ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ " .´ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ حدیث عمرو بن دینار سے یاد کی ، انہوں نے بیان کیا کہ` میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ ہم ایک غزوہ میں تھے ، اچانک مہاجرین کے ایک آدمی نے انصاری کے ایک آدمی کو مار دیا ۔ انصار نے کہا : اے انصاریو ! دوڑو اور مہاجر نے کہا : اے مہاجرین ! دوڑو ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سنایا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا بات ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ ایک مہاجر نے ایک انصاری کو مار دیا ہے ۔ اس پر انصاری نے کہا کہ اے انصاریو ! دوڑو اور مہاجر نے کہا کہ اے مہاجرین ! دوڑو ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح پکارنا چھوڑ دو کہ یہ نہایت ناپاک باتیں ہیں ۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو شروع میں انصار کی تعداد زیادہ تھی لیکن بعد میں مہاجرین زیادہ ہو گئے تھے ۔ عبداللہ بن ابی نے کہا اچھا اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے ۔ اللہ کی قسم ! مدینہ واپس ہو کر عزت والے ذلیلوں کو باہر نکال دیں گے ۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : یا رسول اللہ ! اجازت ہو تو اس منافق کی گردن اڑا دوں ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ورنہ لوگ یوں کہیں گے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے ساتھیوں کو قتل کرانے لگے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نےسورہ منافقون پر آٹھ ابواب قائم کیے ہیں، ہرعنوان کے تحت اسی واقعے کو مختلف انداز سے بیان کیا ہے آپ کا مقصود یہ ہے کہ ان تمام آیات کی شان نزول ایک ہی واقعہ ہے، تاہم اس واقعے کی مناسبت سے دو باتوں کی وضاحت ضروری ہے: پہلی بات یہ ہے کہ ایک شخص کی بُری بات دوسرے شخص تک پہنچانا اگر کسی دینی مصلحت کے لیے ہوتو یہ چغلی نہیں ہے۔
شریعت میں جس چغل خوری کو حرام قرار دیا گیا ہے وہ فساد کی غرض سے اور لوگوں کو آپس میں لڑانے کی غرض سے چغلی کھانا ہے۔
دوسری بات یہ کہ جو طرزعمل عبداللہ بن ابی ملعون نے اختیار کیا تھا اگر کوئی شخص مسلم معاشرے میں رہتے ہوئے اس طرح کا رویہ اختیار کرے تو واقعی قابل گرفت ہے لیکن اس قسم کے فیصلے سے پہلے دیکھ لینا چاہیے کہ اس قسم کا قتل کسی بہت بڑے فتنے کا باعث تو نہیں بن جائے گا۔
آنکھیں بند کرکے قانون کا اندھا دھند استعمال بعض دفعہ اس مقصد کے خلاف بالکل الٹ نتیجہ پیدا کردیتا ہے جس کے لیے قانون استعمال کیا جاتا ہے۔
اگر ایک منافق یا مفسد آدمی کے پیچھے کوئی قابل لحاظ سیاسی طاقت موجود ہوتو اسے سزادے کر مزید فتنوں کو سر اٹھانے کا موقع دینے سے بہتر یہ ہے کہ حکمت اور تدبر کے ساتھ اس اصل سیاسی طاقت کو ختم کردیا جائے جس کے بل بوتے پر وہ شرارت کررہا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کے متعلق اختیار کیا تھا۔
اس کا نتیجہ بر آمد ہوا کہ دو تین سال کے اندر مدینہ طیبہ میں منافقوں کا زور ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا بلکہ بچہ بچہ ان سے نفرت کرنے لگا۔
واللہ المستعان۔
اسی منافق اور اس کے حواریوں سے متعلق قرآن پاک میں سورۃ منافقون نازل ہوئی جس میں اس مردود کا یہ قول بھی منقول ہے کہ مدینہ پہنچ کر عزت والاذلیل لوگوں (یعنی مکہ کے مہاجر مسلمانوں)
کو نکال دے گا۔
اللہ تعالیٰ نے خود اسی کو ہلاک کرکے تباہ کردیا اور مسلمان بفضلہ تعالیٰ فاتح مدینہ قرارپائے، اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہواکہ مصلحت اندیشی بھی ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔
اسی لیے کہاگیا ہے: دروغ مصلحت آمیز بہ از راستی فتنہ انگیز۔
1۔
دعوتِ جاہلیت سے مراد لڑائی کے وقت دوسروں کو آواز دے کر ان کی مدد طلب کرنا ہے۔
دورجاہلیت میں اس قسم کی پکار پر لوگ جمع ہوجاتے اور اس کی مدد کرتے، خواہ وہ ظالم ہوتا۔
جب اسلام آیاتو اس نے اس قسم کےنعروں سے منع فرمادیا جن میں عصبیت اور لڑائی جھگڑے کی بدبوتھی۔
مطلق طور پر کسی کو مدد کے لیے پکارنا حرام نہیں ہے، البتہ جس پکار سے قومیت یا عصبیت کا اظہار مقصود ہو وہ پکار قابل اعتراض ہے۔
2۔
امام بخاری ؒنے اس عنوان سے ایک حدیث کی طرف اشارہ فرمایاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا یہ جاہلیت کے نعرے ہیں؟‘‘ کہاگیا: نہیں۔
آپ نے فرمایا: ’’پھر کوئی حرج نہیں۔
آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے بھائی کی مدد کرے، خواہ وہ ظالم ہو یامظلوم۔
ظالم کی مدد یہ ہے کہ اسے ظلم سے بازرکھا جائے۔
‘‘ (مسند أحمد: 323/3)
3۔
اس حدیث میں امور دین کا اہتمام اور آنے والے حالات پر نظر رکھنے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ کچھ لوگ بظاہر دین اسلام قبول کرلیتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں اس کی حقانیت جاگزیں نہیں ہوتی۔
اگر انھیں کسی وقت سزادی جائے تو دشمنانِ دین دوسرے لوگوں کو نفرت دلائیں گے کہ دیکھو اب یہ مسلمانوں ہی کو قتل کررہے ہیں۔
ممکن تھا کہ لوگ مسلمانوں پر باطنی کفر کا الزام عائد کرکے لڑنا شروع کردیں۔
چونکہ عبداللہ بن ابی کوقتل کرنے سے اس طرح حالات پیدا ہوسکتے تھے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اسے قتل کرنے سے روک دیا۔
واللہ أعلم۔
1۔
اس موقع پر عبداللہ بن ابی نے انصار کو خوب اشتعال دلایا، کہنے لگا: یہ مہاجر لوگ مدینے میں آکر ہمارے ہی حریف بن گئے ہیں۔
پھر اس نے انصار سے کہا: یہ مصیبت تمہاری ہی پیدا کی ہوئی ہے تم نے انھیں اپنے ہاں جگہ دی اور اپنے مال میں انھیں شریک کیا۔
اب بھی اس کا یہی علاج ہے کہ ان کا دانہ پانی بند کردو۔
یہ خود ہی یہاں سے چلتے بنیں گے۔
2۔
ہم اس مقام پر جاہلیت کے نعروں کی وضاحت کرنا ضروری خیال کرتےہیں۔
اسلام کا یہ طریقہ ہے کہ اگر دو آدمی اپنے کسی جھگڑے میں لوگوں کو مدد کے لیے پکارنا چاہیں تو وہ کہیں کہ مسلمانو! آؤ ہماری مدد کرو، یا لوگو! ہماری مدد کے لیے آؤ، لیکن اگر ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے قبیلے، برادری یا علاقے کے نام پر لوگوں کو پکارتا ہے تو یہ جاہلیت کا نعرہ ہے۔
اس قسم کی پکار پر لبیک کہنے والا یہ نہیں دیکھتا کہ ظالم کون ہے، مظلوم کون ہے؟ وہ حق وانصاف کی بنا پر مظلوم کی مدد کرنے کے بجائے اپنے گروہ کے افراد کی مدد کرے گا، خواہ وہ ظالم ہی کیوں نہ ہو۔
یہ جاہلیت کا فعل ہے جس سے دنیا میں فساد برپا ہوتا ہے۔
اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گندی اور گھناؤنی چیز قرار دیا ہے اور فرمایا: تم اسلام کی بنیاد پر ایک ملت بنے تھے، اب یہ انصار اور مہاجرین کے نام پر ایک دوسرے کو آواز کیوں دی جا رہی ہے؟ مسلمانوں کو اس قسم کے نعروں سے بچنا چاہیے کیونکہ اس سے حق و انصاف کا خون ہوتا ہے۔
واللہ المستعان۔
آپ نے اس منافق کے راسخ الایمان بیٹے کو بھی باپ کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی تھی بلکہ حسن سلوک اور نرم رویہ اختیار کرنے کا حکم دیا تھا۔
اسلام لانے کے بعد بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں جاہلیت کا کچھ اثر تھا، لیکن ہر پہلو پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تربیت کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اصحاب سے بڑی محبت تھی کسی مصلحت کی بناء پر اچھا کام چھوڑ نا سنت ہے، بشرطیکہ وہ کام فرض نہ ہو۔