حدیث نمبر: 4898
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، أَخْبَرَنِي ثَوْرٌ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَالَهُ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلَاءِ .
مولانا داود راز

´ہم سے عبدالعزیز بن عبدالوہاب نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا ، انہیں ثور نے اور ان سے ابوالغیث نے ، انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ` ان کی قوم کے کچھ لوگ اسے پا لیں گے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4898
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
4898. حضرت ابوہریرہ ؓ ہی سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ان لوگوں میں سے کئی آدمی وہان تک پہنچ کر ایمان کو حاصل کرتے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4898]
حدیث حاشیہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ آل فارس کی طرف تھا، چنانچہ اللہ پاک نے، محدثین کرام کو پیدا فرمایا جن میں بیشتر فارسی النسل ہیں، اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی اور آیت ﴿وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ﴾ کا مصداق محدثین کرام قرار پائے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4898 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4898. حضرت ابوہریرہ ؓ ہی سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ان لوگوں میں سے کئی آدمی وہان تک پہنچ کر ایمان کو حاصل کرتے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4898]
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دوبارہ سوال کرنے پر اس کا کوئی جواب نہ دیا کیونکہ اس سے مراد کوئی خاص لوگ نہیں تھے پھر جب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تیسری مرتبہ سوال کیا تو آپ نے اس مصداق اہل فارس ٹھہرایا کہ یہ لوگ دوسروں سے بڑھ کر دین اسلام کی خدمت کریں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے دور کے بعد اسلام کی نشر و اشاعت کا جتنا کام اہل فارس نے سر انجام دیا یہ سعادت دوسرے لوگوں کو نصیب نہ ہوسکی۔
بڑے بڑے محدثین کرام اور فقہائے عظام کی اکثریت اسی علاقے سے تعلق رکھتی ہے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بھی اس علاقےسے تعلق رکھتے تھے کیونکہ اس وقت بخارا شہر ملک فارس کا حصہ تھا۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے دین اسلام کی سر بلندی کے لیے جو خدمات انجام دی ہیں ان کا سلسلہ بہت وسیع ہے۔
ان کا سرسری ذکر ہم نے مقدمے میں کیا ہے اللہ تعالیٰ انھیں اپنے ہاں اجر عظیم عطا فرمائے۔
آمین۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4898 سے ماخوذ ہے۔