صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ: {إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ} : باب: آیت کی تفسیر ”(اے رسول!) جب ایمان والی عورتیں آپ کے پاس آئیں تاکہ وہ آپ سے بیعت کریں“۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ عَلَيْنَا : أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا سورة الممتحنة آية 12 ، وَنَهَانَا عَنِ النِّيَاحَةِ ، فَقَبَضَتِ امْرَأَةٌ يَدَهَا ، فَقَالَتْ : أَسْعَدَتْنِي فُلَانَةُ أُرِيدُ أَنْ أَجْزِيَهَا ، فَمَا قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، فَانْطَلَقَتْ ، وَرَجَعَتْ ، فَبَايَعَهَا " .´ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث نے ، کہا ہم سے ایوب نے ، ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تو آپ نے ہمارے سامنے اس آیت کی تلاوت کی «أن لا يشركن بالله شيئا» کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی اور ہمیں نوحہ ( یعنی میت پر زور زور سے رونا پیٹنا ) کرنے سے منع فرمایا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ممانعت پر ایک عورت ( خود ام عطیہ رضی اللہ عنہا ) نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور عرض کیا کہ فلاں عورت نے نوحہ میں میری مدد کی تھی ، میں چاہتی ہوں کہ اس کا بدلہ چکا آؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا چنانچہ وہ گئیں اور پھر دوبارہ آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
یہ ایک خاص حکم تھا جو حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کو دیا گیا ورنہ نوحہ عموماً حرام ہے اس کی حرمت میں احادیث صحیحہ وارد ہیں اور بعض مالکیہ کا قول ہے کہ نوحہ حرام بلکہ شاذ اور مردود ہے۔
قسطلانی نے کہا پہلے نوحہ مباح تھا پھر مکروہ تنزیہی ہوا پھر حرام ہوا اور ممکن ہے کہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے بیعت کرتے وقت مکروہ تنزیہی ہوا، اس لئے آپ نے اجازت دی ہو، اس کے بعد حرام ہو گیا ہو۔
حافظ نے کہا نوحہ کرنا مطلقاً حرام ہے اور یہی تمام علماء کا مذہب ہے تو ﴿وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ﴾ سے یہ مراد ہوگا کہ نوحہ نہ کریں یا غیر مرد کریں یا شوہروں کی نا فرمانی نہ کریں اگر یہ معنی ہو کہ اچھی بات میں تیری نا فرمانی نہ کریں تب تو عورتوں مردوں سب کے لئے یہ حکم عام ہوگا جیسے آگے کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے لیلۃ العقبہ میں انصار سے انہیں شرطوں پر بیعت لی تھی اور انصار کے ہر مرد و عورت نے بخوشی ان شرطوں پر بیعت کر کے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا کہ ہم شرطوں سے پھرنے والے اور بیعت سے منہ موڑنے والے نہیں ہیں، اللہ پاک انصار کو ان کی وفا داری کی بہترین جزائیں بخشے۔
آمین۔
1۔
عورتوں سے بیعت لیتے وقت ان کا ہاتھ پکڑنا یا ان سے مصافحہ کرنا جائز نہیں، البتہ مردوں سے بیعت لیتے وقت ہاتھ پر ہاتھ رکھنا درست ہے۔
پہلے ایک حدیث میں اس امر کی وضاحت تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کرتے وقت کسی عورت کا ہاتھ نہیں چھوا۔
آپ ان سے صرف زبانی بیعت لیتے تھے۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4891)
2۔
ویسے تو عورت کا میت پر رونا دھونا اور اس کے محاسن بیان کرنا نوحہ کہلاتا ہے لیکن اسلام میں دو مزید چیزیں بھی نوحے میں شامل ہیں۔
ایک یہ کہ کسی خاص گھر یا مسجد میں تعزیت کے لیے جمع ہونا۔
دوسرا یہ کہ میت کے گھر والوں کی طرف سے تعزیت کے لیے آنے والوں کا کھانا تیار کرنا چنانچہ حضرت جریر بن عبداللہ الجبلی فرماتے ہیں اہل میت کے گھر جمع ہونے اور دفن کے بعد ان کے ہاں کھانا تیار کرنے کو ہم نوحہ شمار کرتے تھے۔
(مسند أحمد: 204/2)
3۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ خوانی کو دور جاہلیت کی یاد قراردیتے ہوئے فرمایا ہے۔
’’ نوحہ کرنے والی اگر توبہ کرنے سے پہلے مرجائے تو قیامت کے دن اسے گندھک کی قمیص اور خارش کی اوڑھنی پہنائی جائے گی۔
‘‘ (صحیح مسلم، الجنائز، حدیث: 2160۔
(934)
بیعت پر قائم رہنے والی وہ پانچ عورتیں یہ ہیں۔
ام سلیم اور ام العلاء‘ ابی سبرہ کی بیٹی اور معاذ کی عورت اور ایک عورت اور یہ سب نوحہ کرنے سے رک گئیں۔
یہ راوی کا شک ہے کہ ابو سبرہ کی بیٹی وہ معاذ کی جورو تھی یا معاذ کی جورو اس کے سوا تھی۔
حافظ نے کہا صحیح یہ ہے کہ صحیح واؤ عطف کے ساتھ ہے کیونکہ معاذ کی جورو ام عمر رضی اللہ عنہ بنت خلاد تھی۔
نسائی کی روایت میں صاف یوں ہے آپ نے فرمایا جا اس کا بدلہ کرآ وہ گئی پھر آئی اور آپ سے بیعت کی شاید یہ نوحہ اس قسم کا نہ ہو گا جو قطعاً حرام ہے یا یہ اجازت خاص طور سے اس عورت کے لیے ہو کی بعض مالکیہ کا یہ قول ہے کہ نوحہ حرام نہیں ہے مگر نوحہ میں جاہلیت کے افعال حرام ہیں جیسے کپڑے پھاڑنا‘ منہ یا بدن نوچنا‘ خاک اڑانا۔
بعضوں نے کہا اس وقت تک نوحہ حرام نہیں ہوا تھا۔
قسطلانی نے کہا صحیح یہ ہے کہ پہلے نوحہ جائز تھا پھر مکروہ تنزیہی ہوا پھر مگر وہ تحریمی۔
(وحیدی)
1۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے کبھی کسی اجنبی اور غیر محرم عورت کو نہیں چھوا لیکن جب بیعت کے لیے عہدوپیمان لیتے اور وہ اس عہد کی پابندی کرلیتی تو فرماتے: ’’جاؤ، میں نے تم سے بیعت کرلی ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الأمارة، حدیث: 4835(1866)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا ہوں۔
‘‘ (سنن نسائي، البیعة، حدیث: 4186)
جس آیت کا حدیث میں ذکر ہے اس کا پورا ترجمہ یہ ہے: ’’اے نبی! جب تمہارے پاس مومن عورتیں بعیت کرنے کے لیے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گی، نہ چوری کریں گی، نہ زنا کریں گی، نہ اپنی اولاد کوقتل کریں گی، اپنی طرف سے جھوٹ گھڑ کر کسی پر بہتان طرازی نہیں کریں گی اور کسی نیک امر میں آپ کی نافرمانی نہ کریں گی توآپ ان سے بیعت کرلیں اور ان کے لیے اللہ سے معافی مانگیں۔
اللہ تعالیٰ یقیناً بے حد بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔
‘‘ (الممتحنة: 12/60)
2۔
حدیث میں ہے کہ حضرت فاطمہ بنت عقبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے آئیں توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے عہد لیا کہ وہ بدکاری نہیں کریں گی۔
اس نے حیا کرتے ہوئے اپنا ہاتھ سرپررکھ لیا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: اللہ کی بندی! بیعت کرلو، اللہ کی قسم! ہم نے اسی بات پر بیعت کی تھی۔
اس نے کہا: تب میں بھی بیعت کرتی ہوں۔
(مسندأحمد: 151/6)
معاذ کی جورو ام عمرو بنت خلاد تھی۔
آنحضرت ﷺ وقتاً فوقتاً مسلمان مردوں‘ عورتوں سے اسلام پر ثابت قدمی کی بیعت لیا کرتے تھے۔
ایسے ہی ایک موقع پر آپ ﷺ نے عورتوں سے خصوصیت سے نوحہ نہ کرنے پر بھی بیعت لی۔
بیعت کے اصطلاحی معنی اقرار کرنے کے ہیں۔
یہ ایک طرح کا حلف نامہ ہوتا ہے۔
بیعت کی بہت سی قسمیں ہیں۔
جن کا تفصیلی بیان اپنے موقع پر آئے گا۔
اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ انسان کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو پھر بھی کمزوریوں کا مسجمہ ہے۔
صحابیات کی شان مسلم ہے پھر بھی ان میں بہت سی خواتین سے اس عہد پر قائم نہ رہا گیا جیسا کہ مذکور ہوا ہے۔
(1)
ان احادیث میں نوحہ خوانی پر بڑی سخت وعید اور زجروتوبیخ ہے، کیونکہ پہلی حدیث میں نوحہ کرنے والی عورتوں کے منہ میں مٹی ڈالنے کا حکم ہے۔
اس سے مراد حقیقتا مٹی ڈالنا ہو سکتا ہے جیسا کہ حدیث (1304)
میں حضرت عمر ؓ کے متعلق بیان ہوا ہے کہ وہ نوحہ کرنے والی عورتوں کو پتھر مارتے اور ان کے منہ میں مٹی ڈالتے تھے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد ان عورتوں کو نامراد قرار دینا ہو، کیونکہ ناکام آدمی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کے ہاتھ میں مٹی کے سوا کچھ بھی نہیں۔
(2)
مصیبت کے وقت نوحہ خوانی یا سینہ کوبی کرنا انتہائی سنگین جرم ہے۔
اس کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس امتناعی حکم کے لیے خواتین اسلام سے بیعت لیتے تھے، جیسا کہ دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے جاہلی نوحہ و ماتم نہ کرنے کا عہد لیا تھا، مگر پانچ عورتوں کے علاوہ کسی نے بھی اس عہد کو پورا نہ کیا۔
اس سے مراد صرف وہ عورتیں ہیں جنہوں نے حضرت ام عطیہ ؓ کے ساتھ اس وقت بیعت کی تھی۔
ان کے نام یہ ہیں: ام سلیم، ام العلاء، ام کلثوم، ام عمرو اور ہند بنت سہل۔
ممکن ہے کہ ان میں ام عطیہ ؓ بھی شامل ہوں کیونکہ بعض روایات میں ہے کہ میرے اور ام سلیم کے علاوہ کسی نے بھی اس عہد کو پورا نہیں کیا۔
لیکن ایک روایت میں وہ خود فرماتی ہیں کہ حرہ کے دن انہوں نے صحابہ کرام ؓ کی شہادت پر نوحہ کیا تھا، اس لیے وہ خود کو ان میں شمار نہ کرتی تھیں۔
ممکن ہے کہ حرہ کے واقعہ تک خود کو شامل کرتی ہوں اور اس کے بعد وہ اس کی پاسداری نہ کر سکی ہوں۔
(فتح الباري: 226/3)
والله أعلم۔
کیونکہ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی کا نام تو ام عمرو بنت خلاد رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہے۔
اور پانچویں عورت خود ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں۔
ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کےساتھ بیعت کرنے والی عورتوں میں سے انہیں پانچ نے اس عہد کا پورا پورا حق ادا کیا۔
اور ان کے علاوہ اور بے شمار مسلمان عورتوں نے بھی نوحہ ترک کردیا تھا۔
لیکن کچھ عورتین ان میں کچھ کمزوری تھی۔
”سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت کے موقع پر یہ عہد لیا تھا کہ ہم میت پر نوحہ نہیں کریں گی۔ “ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 475]
اس سے صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ مرنے والوں پر نوحہ اور بین کرنا، چیخنا لانا، واویلا کرنا، گریباں چاک کرنا اور منہ نوچنا وغیرہ حرام افعال ہیں۔
➋ غم سے آنکھوں کا اشک بار ہونا اور آنسووں کا بےاختیار بہہ نکلنا حرام نہیں، گویا آنکھوں کا فعل حرام نہیں بلکہ زبان کا فعل حرام ہے۔