حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثُونِي عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ ، فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الْآيَةَ أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ { 35 } أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بَلْ لا يُوقِنُونَ { 36 } أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُسَيْطِرُونَ { 37 } سورة الطور آية 35-37 ، قَالَ : كَادَ قَلْبِي أَنْ يَطِيرَ ، قَالَ سُفْيَانُ : فَأَمَّا أَنَا ، فَإِنَّمَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ " ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ زَادَ الَّذِي قَالُوا لِي .´ہم سے حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے اصحاب نے زہری کے واسطہ سے بیان کیا ، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور پڑھ رہے تھے ۔ جب آپ سورۃ والطور اس آیت پر پہنچے «أم خلقوا من غير شىء أم هم الخالقون * أم خلقوا السموات والأرض بل لا يوقنون * أم عندهم خزائن ربك أم هم المسيطرون» ” کیا یہ لوگ بغیر کسی کے پیدا کئے پیدا ہو گئے یا یہ خود ( اپنے ) خالق ہیں ؟ یا انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کر لیا ہے ۔ اصل یہ ہے کہ ان میں یقین ہی نہیں ۔ کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ لوگ حاکم ہیں ۔ “ تو میرا دل اڑنے لگا ۔ سفیان نے بیان کیا لیکن میں نے زہری سے سنا ہے وہ محمد بن جبیر بن مطعم سے روایت کرتے تھے ، ان سے ان کے والد ( جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ والطور پڑھتے سنا ( سفیان نے کہا کہ ) میرے ساتھیوں نے اس کے بعد جو اضافہ کیا ہے وہ میں نے زہری سے نہیں سنا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
واقعہ یہ ہے کہ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بدر کے قیدیوں میں تھے اور انھیں مسجد میں ٹھہرایا گیا تھا جیسا کہ ایک روایت میں صراحت ہے۔
(صحیح البخاري، الجهاد و السیر، حدیث: 3050)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زمانہ کفر میں سنی ہوئی بات یا دیکھا ہوا واقعہ ایمان لانے کے بعد بیان کیا جا سکتا ہے۔
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں نے ان آیات کو سنا تو اسلام قبول کرنے کے لیے میرے اندر شوق پیدا ہوا۔
آئندہ چل کر یہ مسلمان ہوئے اور اسلام کی سر بلندی کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4023)
یہ ہے تو سب کچھ ہے‘ یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔
حضرت عباس ؓ کے فدیہ کے بارے میں آپ ﷺ کا ارشاد گرامی بہت سی مصلحتوں پر مبنی تھا۔
وہ آپ کے چچا تھا‘ ان سے ذرا سی بھی رعایت برتنا دوسرے لوگوں کے لئے سوء ظن کا ذریعہ بن سکتا تھا‘ اس لئے آپ نے یہ فرمایا‘ جو حدیث میں مذکور ہے۔
1۔
حضرت جبیر بن مطعم ؓ قریش کے سرداروں میں سے تھے وہ فتح مکہ کے وقت مسلمان ہوئے۔
غزوہ بدر میں جو مشرکین قید ہوئے تھے وہ انھیں چھڑانے کے لیے مدینہ طیبہ آئے۔
اس وقت وہ مسلمان نہیں تھے۔
انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے قیدیوں کی رہائی کے متعلق گفتگو کی توآپ نے فرمایا: ’’اگر تمھارا باپ آپ زندہ ہوتا اور ان پلید لوگوں کی سفارش کرنے آتا تو میں ضرور قبول کر لیتا۔
‘‘ (صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4024)
اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے والد کا رسول اللھ ﷺ پر ایک احسان تھا کہ جب آپ طائف سے واپس ہوئے تو مطعم بن عدی نے آپ کی حفاظت کا ذمہ لیا تھا۔
حضرت جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے نماز مغرب میں سورہ طور کی یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ﴾’’کیا وہ بغیر کسی خالق کے پیدا ہو گئے یا وہ خود اپنے خالق ہیں۔
‘‘ (الطور: 52۔
35)
تو میرا دل مارے خوف کے ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا تھا۔
(صحیح البخاري، تفسیر، حدیث: 4854)
ایک روایت میں ہے اسی وقت ایمان میرے اندر جا گزیں ہو گیا۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4023)
لیکن اگر کبھی کوئی بڑی سورت بھی پڑھ دی جائے تویہ بھی مسنون طریقہ ہے۔
خاص طور پر سورۃ طور پڑھنا کبھی سورۃ مرسلات۔
: (1)
رسول اللہ ﷺ بآواز بلند قراءت کررہے تھے، اس لیے حضرت جبیر بن مطعم آپ کی قراءت کو بیان کررہے ہیں۔
امام بخاری ؒ کا مقصد بھی یہ تھا کہ نماز مغرب میں بآواز بلند قراءت کو ثابت کیا جائے۔
(2)
واضح رہے کہ جبیر بن مطعم ؓ اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے بلکہ آپ غزوۂ بدر کے جنگی قیدیوں کے متعلق مذاکرات کرنے کے لیے مدینہ آئے تھے۔
ان کا اپنا بیان ہے کہ جب میں نے سورۂ طور کو سنا تو میرا دل مارے دہشت کے پھٹنے لگا۔
میں اسی وقت مسجد سے نکل گیا۔
میرے دل میں اسی دن اسلام کی حقانیت جاگزیں ہوچکی تھی۔
(فتح الباري: 321/2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حالت کفر کی دیکھی یا سنی ہوئی بات کو مسلمان ہونے کے بعد بیان کیا جاسکتا ہے اور اس میں کوئی قباحت نہیں۔
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں «والطور» پڑھتے سنا۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے ایک دوسری حدیث میں کہا کہ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ الطور میں سے یہ آیت کریمہ «أم خلقوا من غير شيء أم هم الخالقون» سے «فليأت مستمعهم بسلطان مبين» ، یعنی: ” کیا یہ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خودبخود پیدا ہو گئے ہیں؟ کیا انہوں نے ہی آسمانوں و زمینوں کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ یہ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا ان خزانوں کے یہ داروغہ ہیں، یا کیا ان کے پاس کوئی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 832]
فائدہ: حضرت جبیر بن معطم رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنگ بد ر میں مشرکوں کی طرف سے شریک تھے۔
مسلمانوں نے جن غیر مسلموں کو جنگ میں گرفتار کیا تھا۔
ان میں یہ بھی شامل تھے۔
جب انھیں گرفتار کرکے مدینہ لایا گیا۔
اس دوران میں انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے مغرب کی نماز میں قرآن سنا۔ (صحیح البخاري، الجھاد، باب فداء المشرکین، حدیث 3050)
اس موقع پر ان کے دل میں ایمان جاگزیں ہوگیا۔ (صحیح البخاري، المغاذي، باب 12، حدیث: 4023)
قرآن کے اس اثر کو زیر مطالعہ حدیث میں انھوں نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔
کہ قرآن سن کر مجھے یوں محسوس ہوا گویا میرا دل سینے سے نکل جائے گا۔
یعنی دل پر قرآن کا اس قدراثر ہوا کہ دل اسلام قبول کرنے کےلئے بے تاب ہوگیا۔
«. . . وعن جبير بن مطعم رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقرأ في المغرب بالطور . متفق عليه. . . .»
”. . . سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب میں سورۃ «الطور» پڑھتے سنا ہے۔ (بخاری و مسلم) . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب صفة الصلاة: 227]
➊ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول تو یہی تھا کہ مغرب میں قصار مفصل پڑھتے تھے جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ہے، مگر بعض اوقات لمبی سورت بھی پڑھ لیتے تھے جیسا کہ اس حدیث میں سورہ طور پڑھنا ثابت ہوا۔ بعض روایات میں المرسلات، أعراف اور أنعام کا نماز مغرب میں پڑھنا بھی ثابت ہے۔ [صحيح البخاري، الأذان، حديث: 763، وسنن أبى داود، الصلاة، حديث: 812]
➋ آپ کے عمل سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے سفر کے دوران میں صبح کی فرض نماز میں صرف معوذتین کی تلاوت کی۔ [سنن أبى داود، الوتر، باب فى المعوذتين، حديث: 1462] نیز سیدنا معاذ بن عبداللہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کی دونوں رکعتوں میں «اِذَا زُلْزِلَتُ» تلاوت فرمائی۔ [سنن أبى داود، الصلاة، باب الرجل يعيد سورة واحدة فى الركعتين، حديث: 816] بہرحال عام معمول وہی تھا جو اوپر مذکور ہوا، البتہ کبھی کبھی اس کے خلاف بھی جائز ہے۔
«. . . عن محمد بن جبير بن مطعم عن ابيه، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم قرا بالطور فى المغرب . . .»
”. . . سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب میں سورہ طور پڑھتے ہوئے سنا . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 140]
[وأخرجه البخاري 765، ومسلم 463، من حديث مالك به]
تفقه
➊ نماز مغرب میں (پوری) سورۂ طور اور اسی طرح سورۂ مرسلات کی قرأت ثابت ہے۔ دیکھئے: [الموطأ: ح 49]
➋ ابوعبداللہ الصنانکی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ کے خلافت (کے دور) میں مدینہ آیا تو آپ کے پیچھے مغرب کی نماز پڑھی۔ آپ نے پہلی دو رکعتوں میں (ہر رکعت میں) سورۂ فاتحہ اور قصارِ مفصل کی ایک (ایک) سورت پڑھی پھر تیسری رکعت میں سورۂ فاتحہ اور ایک آیت «رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ» پڑھی۔ [الموطأ 1/79 ح170، وسنده صحيح]
اس صدیقی اثر سے دو مسئلے معلوم ہوئے: اول:
ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھنی چاہئے لہٰذا جو لوگ کہتے پھرتے ہیں کہ ”نماز کی آخری دو رکعتوں میں اگر کچھ بھی نہ پڑھا جائے تو نماز جائز ہے۔“ یہ قول باطل ہے۔
دوم:
تیسری (اور چوتھی) رکعت میں سورۂ فاتحہ کے علاوہ بھی قرآنِ مجید میں سے پڑھنا جائز ہے۔
➌ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اثر کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ (رباعی نماز کی) چاروں رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور ایک سورت پڑھتے تھے اور بعض اوقات ایک رکعت میں دو یا تین سورتیں بھی پڑھ لیتے تھے۔ ديكهئے: [الموطأ 1/79 ح171، وسنده صحيح]
➍ اس روایت کی بعض سندوں میں آیا ہے کہ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب میں سورۂ طور پڑھتے ہوئے سنا تو اس وقت جبیر رضی اللہ عنہ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔
اس سے علمائے کرام نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ اگر کوئی کافر مسلمان ہو جائے تو حالت اسلام میں حالت کفر والی روایتیں بیان کر سکتا ہے اور انہیں قبول کیا جائے گا بشرطیکہ یہ راوی حالت اسلام میں ثقہ وصدوق ہو۔
➎ اس حدیث میں ان لوگوں کا رد بھی ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ نماز مغرب کا وقت بہت کم ہوتا ہے لہٰذا اس میں بالکل چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھی جائیں۔!
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ خلاف معمول نماز مغرب میں لمبی سورت پڑھنا درست ہے۔