صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ: {إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى} : باب: آیت کی تفسیر ”قرابتداری کی محبت کے سوا میں تم سے اور کچھ نہیں چاہتا“۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ طَاوُسًا ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِهِ : إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى سورة الشورى آية 23 ، فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ : قُرْبَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " عَجِلْتَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا كَانَ لَهُ فِيهِمْ قَرَابَةٌ ، فَقَالَ : " إِلَّا أَنْ تَصِلُوا مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنَ الْقَرَابَةِ " .´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے ، ان سے عبدالملک بن میسرہ نے بیان کیا کہ` میں نے طاؤس سے سنا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «إلا المودة في القربى» ” سوا رشتہ داری کی محبت کے “ متعلق پوچھا گیا تو سعید بن جبیر نے فرمایا کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابتداری مراد ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس پر کہا کہ تم نے جلد بازی کی ۔ قریش کی کوئی شاخ ایسی نہیں جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری نہ ہو ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم سے صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم اس قرابت داری کی وجہ سے صلہ رحمی کا معاملہ کرو جو میرے اور تمہارے درمیان میں موجود ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ اور آپ کی زوجہ محترمہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وجہ سے آ پ کی رشتے داری صرف بنو عبدالمطلب ہی سے نہیں بلکہ قریش کے سب قبیلوں سے تھی اور بنو عبدالمطلب میں سے بھی کچھ لوگ آپ کے حق میں تھے اور کچھ سخت دشمن بھی تھے۔
ابولہب لعین کی دشمنی تو سب جانتے ہیں۔
یہی حال قریش کے باقی قبیلوں کا تھا۔
ایسے حالات میں آپ نے فرمایا: ’’تم کم از کم میری قرابتداری کا تو خیال رکھو۔
‘‘2۔
بعض حضرات نے قربیٰ سے مراد قرب یا تقرب لیا ہے۔
اس اعتبار سے آیت کا مفہوم یہ ہے کہ میں تم سے اس کام پر اس بات کے سوا اور کوئی جزا نہیں چاہتا کہ تمہارے اندر اللہ کے قرب کی محبت پیدا ہوجائے، یعنی تم ٹھیک ہو جاؤ اور اللہ سے محبت کرنے لگو۔
بس یہی میرا اجر ہے، لیکن ہم نے پہلے معنی جو بیان کیے ہیں وہ اس تفسیر کے مقابلے میں زیادہ وزنی ہیں۔
3۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مطلب یہ تھا کہ آیت کریمہ میں اقارب سے مراد تمام قریش ہیں، صرف بنوہاشم مراد لینا صحیح نہیں۔
واللہ اعلم۔
(وحیدی)
1۔
حضرت طاؤس سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس آیت کے متعلق سوال ہوا تو حضرت سعید بن جبیر پھٹ سے بول پڑے کہ اس سے آپ کی آل مراد ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: تم نے جلد بازی سے کام لیا ہے۔
بات دراصل یہ ہےکہ قریش کا کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے کہلوایا اگر تم کچھ اور نہیں کرتے تو کم از کم قرابت ہی کا لحاظ رکھو اور مجھے تکلیف پہنچانے سے بازرہو۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4818)
2۔
پہلی روایت میں ذکر تھا کہ قریش کو تمام قبائل عر ب پر فضیلت حاصل ہے اور اس حدیث سے پتہ چلا کہ رسول اللہ ﷺ کی قریش کے تمام قبائل سے قرابت داری ہے۔
اس سے معلوم ہواکہ رسول اللہ ﷺ کو تمام عرب پر فضیلت حاصل ہے۔
طاؤس کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے اس آیت «قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربى» ” اے نبی! کہہ دو میں تم سے (اپنی دعوت و تبلیغ کا) کوئی اجر نہیں مانگتا، ہاں چاہتا ہوں کہ قرابت داروں میں الفت و محبت پیدا ہو “ (الشوریٰ: ۲۳)، کے بارے میں پوچھا گیا، اس پر سعید بن جبیر نے کہا: «قربیٰ» سے مراد آل محمد ہیں، ابن عباس نے کہا: (تم نے رشتہ داری کی تشریح میں جلد بازی کی ہے) قریش کی کوئی شاخ ایسی نہیں تھی جس میں آپ کی رشتہ داری نہ ہو، (آیت کا مفہوم ہے) اللہ نے کہا: میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا (بس میں تو یہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3251]
وضاحت:
1؎:
اے نبیﷺ! کہہ دو میں تم سے (اپنی دعوت وتبلیغ کا) کوئی اجر نہیں مانگتا، ہاں چاہتا ہوں کہ قرابت داروں میں الفت و محبت پیدا ہو۔
(الشوریٰ: 23)