صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ قَوْلِهِ: {وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ} : باب: آیت «والأرض جميعا قبضته يوم القيامة والسموات مطويات بيمينه» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4812
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ وَيَطْوِي السَّمَوَاتِ بِيَمِينِهِ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ ".مولانا داود راز
´ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد بن مسافر نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے ابوسلمہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ قیامت کے دن اللہ ساری زمین کو اپنی مٹھی میں لے گا اور آسمان کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا ۔ پھر فرمائے گا «أنا الملك ، أين ملوك الأرض» ” آج حکومت صرف میری ہے ، دنیا کے بادشاہ آج کہاں ہیں ؟ “
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4812. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’اللہ تعالٰی زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: میں ہی بادشاہ ہوں۔ دنیا کے بادشاہ (آج) کہاں ہیں؟‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4812]
حدیث حاشیہ:
1۔
ایک روایت میں"یوم القیامة" کے الفاظ ہیں، یعنی قیامت کے دن ایسا ہوگا۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 7382۔
)
قیامت کے دن کی تخصیص اس لیے ہے کہ جیسے دنیا کی آبادی اور تخلیق کے وقت اس کی ایجاد میں کمال قدرت کا اظہار ہوا تھا اسی طرح اس کے خراب ہونے کے وقت اس کے ختم اور نیست و بابود کرنے میں بھی اس کی قدرت کاملہ کا اظہار ہوگا۔
2۔
اس حدیث میں بھی اللہ تعالیٰ کے لیے "یمین" کا اثبات ہے، اس کے معنی قدرت لینا سلف صالحین کے مؤقف کے خلاف ہے، لہذا اسے اپنی حقیقی معنی میں سمجھنا چاہیے۔
اس کی تاویل نہ کی جائے بلکہ مبنی برحقیقت معنی پر محمول کرنا چاہیے۔
واللہ اعلم۔
1۔
ایک روایت میں"یوم القیامة" کے الفاظ ہیں، یعنی قیامت کے دن ایسا ہوگا۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 7382۔
)
قیامت کے دن کی تخصیص اس لیے ہے کہ جیسے دنیا کی آبادی اور تخلیق کے وقت اس کی ایجاد میں کمال قدرت کا اظہار ہوا تھا اسی طرح اس کے خراب ہونے کے وقت اس کے ختم اور نیست و بابود کرنے میں بھی اس کی قدرت کاملہ کا اظہار ہوگا۔
2۔
اس حدیث میں بھی اللہ تعالیٰ کے لیے "یمین" کا اثبات ہے، اس کے معنی قدرت لینا سلف صالحین کے مؤقف کے خلاف ہے، لہذا اسے اپنی حقیقی معنی میں سمجھنا چاہیے۔
اس کی تاویل نہ کی جائے بلکہ مبنی برحقیقت معنی پر محمول کرنا چاہیے۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4812 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6519 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6519. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالٰی زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا:اب میں ہوں بادشاہ، آج زمین کے بادشاہوں کہاں گئے؟۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6519]
حدیث حاشیہ: جو اپنی بادشاہت پر نازاں تھے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6519 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6519 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6519. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالٰی زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا:اب میں ہوں بادشاہ، آج زمین کے بادشاہوں کہاں گئے؟۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6519]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ حدیث درج ذیل آیت کی تفسیر ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔
‘‘ (الزمر: 67)
اس آیت کریمہ کی مزید تفسیر درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے: ’’سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہودیوں کا ایک عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے محمد! ہم اپنی کتابوں میں یہ لکھا ہوا پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر، زمین کو ایک انگلی پر، درختوں کو ایک انگلی پر، پانی اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور باقی تمام مخلوق کو ایک انگلی پر اٹھا لے گا، پھر فرمائے گا: آج میں ہی بادشاہ ہوں۔
یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ کی کچلیاں ظاہر ہو گئیں۔
آپ نے اس عالم کی تصدیق کرتے ہوئے مذکورہ بالا آیت کریمہ تلاوت فرمائی۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4811) (2)
اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی اور پوری کائنات پر اس کے کلی تصرف کا یہ حال ہے کہ اس کے ہاتھ میں کائنات کی ہر چیز بے بس و لاچار ہے اور وہ قیامت کے دن اعلان کرے گا: ’’آج حکومت کس کی ہے؟ (پھر خود ہی فرمائے گا)
اللہ اکیلے کی جو ہر چیز کو دبا کر رکھے ہوئے ہے۔
‘‘ (المؤمن: 16)
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ حدیث درج ذیل آیت کی تفسیر ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔
‘‘ (الزمر: 67)
اس آیت کریمہ کی مزید تفسیر درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے: ’’سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہودیوں کا ایک عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے محمد! ہم اپنی کتابوں میں یہ لکھا ہوا پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر، زمین کو ایک انگلی پر، درختوں کو ایک انگلی پر، پانی اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور باقی تمام مخلوق کو ایک انگلی پر اٹھا لے گا، پھر فرمائے گا: آج میں ہی بادشاہ ہوں۔
یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ کی کچلیاں ظاہر ہو گئیں۔
آپ نے اس عالم کی تصدیق کرتے ہوئے مذکورہ بالا آیت کریمہ تلاوت فرمائی۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4811) (2)
اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی اور پوری کائنات پر اس کے کلی تصرف کا یہ حال ہے کہ اس کے ہاتھ میں کائنات کی ہر چیز بے بس و لاچار ہے اور وہ قیامت کے دن اعلان کرے گا: ’’آج حکومت کس کی ہے؟ (پھر خود ہی فرمائے گا)
اللہ اکیلے کی جو ہر چیز کو دبا کر رکھے ہوئے ہے۔
‘‘ (المؤمن: 16)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6519 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7382 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7382. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نےفرمایا: ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مٹھی میں لے گا اور تمام آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں۔ آج دنیا کے بادشاہ کہاں ہیں؟“ شعیب زبیدی ابن مسافر اور اسحاق بن یحییٰ نے امام زہری سے، انہوں نے ابو سلمہ سے یہ روایت بیان کی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7382]
حدیث حاشیہ:
1۔
اللہ تعالیٰ کی عظمت وکبریائی اور پوری کائنات پر کلی تصرف کا یہ عالم ہوگا کہ قیامت کے دن کائنات کی ہر چیز اس کے ہاتھ میں بالکل بے بس ہوگی۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں اورتمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لیٹے ہوئے ہوں گے۔
‘‘ (الزمر: 39/67)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس ہولناک منظر کی مزید وضاحت منقول ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا اور فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں۔
کہاں ہیں جبار؟ اور کہاں ہیں متکبرین؟ پھر بائیں ہاتھ میں زمینوں کو لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا، میں بادشاہ ہوں۔
جبار کہاں ہیں؟ متکبرین کہاں ہیں؟‘‘ (صحیح مسلم، صفات المنافقین، حدیث: 7051(2788)
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’جس دن سب لوگ کھلے میدان میں ہوں گے اور ان کی کوئی بھی چیز اللہ سے چھپی نہ رہے گی،(کہا جائے گا:)
آج حکومت کس کی ہے؟ (پھر اللہ تعالیٰ خود ہی فرمائے گا:)
اللہ اکیلے ہی کی جو بہت دبدبے والا ہے۔
‘‘ (المومن: 16/40)
قیامت کے دن ایک وقت ایسا آئے گا، جب ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوگی، سب قیامت کی ہولناکیوں سے دہشت زدہ ہوں گے۔
کسی کو کلام کرنے کی جراءت وفرصت نہ ہوگی۔
ہرطرف سناٹا چھایا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ دنیا کے بادشاہوں کو مخاطب کرکے پوچھے گا آج دنیا کے بادشاہ کہاں ہیں؟ جابر اور متکبر حکمران کہاں ہیں؟ آج کس کی بادشاہی ہے؟ کسی طرف سے کوئی جواب نہیں آئے گا، پھر خود ہی اس کا جواب دے گا کہ آج بادشاہی صرف ایک اللہ کی ہے جو ہرچیز کو دبا کر رکھے ہوئے ہے۔
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس کی منظر کشی کررہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر طاری کیفیت کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پرجوش بیان کے وقت منبر نچلے حصے سے (لے کر اوپر کے حصے تک)
حرکت کر رہا تھا حتی کہ میں نے کہا: کیا وہ (منبر)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گرپڑے گا؟ (صحیح مسلم، صفات المنافقین، حدیث: 7052(2788)
3۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا اس عنوان اور پیش کی گئی حدیث سے یہ مقصود ہے کہ "الملک" اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ہے اگرچہ اس کا اطلاق مخلوق کے لیے بھی ہوتا ہے لیکن اس میں کسی بھی پہلو سے تشبیہ کا شائبہ نہیں کہ اس کا انکار یا تاویل کی جائے۔
اللہ تعالیٰ مالک الملک، اس کی بادشاہت مکمل اور مطلق، نیز اس میں کوئی بھی شریک نہیں اور نہ وہ اس کے لیے کسی کا محتاج ہی ہے جبکہ بندوں کی بادشاہت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے، بندے اسے قائم رکھنے کے لیے دوسروں کے محتا ج ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’آپ کہہ دیں: اے اللہ!اے مالک بادشاہی کے! جسے تو چاہے حکومت عطا کرتا ہے اور جس سے چاہے حکومت چھین لیتا ہے۔
تو ہی جسے چاہے عزت دیتا اور جسے چاہے ذلیل کرتا ہے۔
ہر قسم کی بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔
یقیناً تو ہی ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
‘‘ (آل عمران: 28)
4۔
حدیث اور عنوان میں مطابقت اس طرح ہے کہ لوگوں میں ایسے بادشاہ اور جابر حکمران موجود ہیں جن کے لیے ان کی رعایا عاجزی کے ساتھ آداب واحترام بجا لاتی ہے۔
بعض اوقات لوگ ایسے آداب بجا لاتے ہیں جو صرف اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق ہوتے ہیں۔
یہ سب ملوک وسلاطین اللہ تعالیٰ کے ماتحت اور اس کے دباؤ میں ہیں۔
وہ ان میں جیسے چاہے تصرف کرتا ہے۔
یہ تصرف قیامت کے دن نمایاں حیثیت اختیار کرے گا جبکہ اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کو اپنے ہاتھ میں لپیٹ کرشانِ بے نیازی سے کہے گا: آج میں بادشاہ ہوں، دنیا کے بادشاہ کہاں ہیں؟ اس وقت ان بادشاہوں کا راز فاش ہوگا جب ذلت ورسوائی نے انھیں چاروں طرف سے گھیر رکھا ہوگا۔
(شرح کتاب التوحید للغنیمان: 114/1)
1۔
اللہ تعالیٰ کی عظمت وکبریائی اور پوری کائنات پر کلی تصرف کا یہ عالم ہوگا کہ قیامت کے دن کائنات کی ہر چیز اس کے ہاتھ میں بالکل بے بس ہوگی۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں اورتمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لیٹے ہوئے ہوں گے۔
‘‘ (الزمر: 39/67)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس ہولناک منظر کی مزید وضاحت منقول ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا اور فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں۔
کہاں ہیں جبار؟ اور کہاں ہیں متکبرین؟ پھر بائیں ہاتھ میں زمینوں کو لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا، میں بادشاہ ہوں۔
جبار کہاں ہیں؟ متکبرین کہاں ہیں؟‘‘ (صحیح مسلم، صفات المنافقین، حدیث: 7051(2788)
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’جس دن سب لوگ کھلے میدان میں ہوں گے اور ان کی کوئی بھی چیز اللہ سے چھپی نہ رہے گی،(کہا جائے گا:)
آج حکومت کس کی ہے؟ (پھر اللہ تعالیٰ خود ہی فرمائے گا:)
اللہ اکیلے ہی کی جو بہت دبدبے والا ہے۔
‘‘ (المومن: 16/40)
قیامت کے دن ایک وقت ایسا آئے گا، جب ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوگی، سب قیامت کی ہولناکیوں سے دہشت زدہ ہوں گے۔
کسی کو کلام کرنے کی جراءت وفرصت نہ ہوگی۔
ہرطرف سناٹا چھایا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ دنیا کے بادشاہوں کو مخاطب کرکے پوچھے گا آج دنیا کے بادشاہ کہاں ہیں؟ جابر اور متکبر حکمران کہاں ہیں؟ آج کس کی بادشاہی ہے؟ کسی طرف سے کوئی جواب نہیں آئے گا، پھر خود ہی اس کا جواب دے گا کہ آج بادشاہی صرف ایک اللہ کی ہے جو ہرچیز کو دبا کر رکھے ہوئے ہے۔
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس کی منظر کشی کررہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر طاری کیفیت کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پرجوش بیان کے وقت منبر نچلے حصے سے (لے کر اوپر کے حصے تک)
حرکت کر رہا تھا حتی کہ میں نے کہا: کیا وہ (منبر)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گرپڑے گا؟ (صحیح مسلم، صفات المنافقین، حدیث: 7052(2788)
3۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا اس عنوان اور پیش کی گئی حدیث سے یہ مقصود ہے کہ "الملک" اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ہے اگرچہ اس کا اطلاق مخلوق کے لیے بھی ہوتا ہے لیکن اس میں کسی بھی پہلو سے تشبیہ کا شائبہ نہیں کہ اس کا انکار یا تاویل کی جائے۔
اللہ تعالیٰ مالک الملک، اس کی بادشاہت مکمل اور مطلق، نیز اس میں کوئی بھی شریک نہیں اور نہ وہ اس کے لیے کسی کا محتاج ہی ہے جبکہ بندوں کی بادشاہت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے، بندے اسے قائم رکھنے کے لیے دوسروں کے محتا ج ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’آپ کہہ دیں: اے اللہ!اے مالک بادشاہی کے! جسے تو چاہے حکومت عطا کرتا ہے اور جس سے چاہے حکومت چھین لیتا ہے۔
تو ہی جسے چاہے عزت دیتا اور جسے چاہے ذلیل کرتا ہے۔
ہر قسم کی بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔
یقیناً تو ہی ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
‘‘ (آل عمران: 28)
4۔
حدیث اور عنوان میں مطابقت اس طرح ہے کہ لوگوں میں ایسے بادشاہ اور جابر حکمران موجود ہیں جن کے لیے ان کی رعایا عاجزی کے ساتھ آداب واحترام بجا لاتی ہے۔
بعض اوقات لوگ ایسے آداب بجا لاتے ہیں جو صرف اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق ہوتے ہیں۔
یہ سب ملوک وسلاطین اللہ تعالیٰ کے ماتحت اور اس کے دباؤ میں ہیں۔
وہ ان میں جیسے چاہے تصرف کرتا ہے۔
یہ تصرف قیامت کے دن نمایاں حیثیت اختیار کرے گا جبکہ اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کو اپنے ہاتھ میں لپیٹ کرشانِ بے نیازی سے کہے گا: آج میں بادشاہ ہوں، دنیا کے بادشاہ کہاں ہیں؟ اس وقت ان بادشاہوں کا راز فاش ہوگا جب ذلت ورسوائی نے انھیں چاروں طرف سے گھیر رکھا ہوگا۔
(شرح کتاب التوحید للغنیمان: 114/1)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7382 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 192 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔`
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا، اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: اصل بادشاہ میں ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 192]
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا، اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: اصل بادشاہ میں ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 192]
اردو حاشہ: (1)
اس سے اللہ تعالی کے ہاتھ کا ثبوت ملتا ہے، تاہم اللہ کی ان صفات کے بارے میں اپنے ذہن سے کوئی تصور تراش لینا درست نہیں، جتنی بات بتائی گئی اس پر ایمان لانا اور اللہ کی صفات کو مخلوق سے تشبیہ نہ دینا ضروری ہے۔
(2)
موجودہ آسمان قیامت کے دن ختم ہو جائیں گے۔
قرآن مجید میں اس کے لیے لپیٹنے کا لفظ آیا ہے: ﴿وَالسَّمـٰوٰتُ مَطوِيّٰـتٌ بِيَمينِهِ﴾ (الزمر: 67)
اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں، لپٹے ہوئے ہوں گے۔
اور پھٹ جانے کا ذکر بھی ہے: (إِذَا السَّماءُ انشَقَّت) (الانشقاق: 1)
جب آسمان پھٹ جائے گا۔
(3)
دنیا کا اقتدار اور بادشاہی ایک امتحان اور آزمائش ہے، اصل بادشاہی اللہ ہی کی ہے۔
ارشاد ہے: ﴿قُلِ اللَّهُمَّ مـلِكَ المُلكِ تُؤتِى المُلكَ مَن تَشاءُ وَتَنزِعُ المُلكَ مِمَّن تَشاءُ﴾ (آل عمران: 26)
’’کہہ دیجئے، اے اللہ! اے بادشاہی کے مالک! تو جسے چاہتا ہے بادشاہی دے دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے بادشاہی چھین لیتا ہے۔‘‘
قیامت کو یہ حقیقت بالکل واضح ہو کر سامنے آ جائے گی۔
اس سے اللہ تعالی کے ہاتھ کا ثبوت ملتا ہے، تاہم اللہ کی ان صفات کے بارے میں اپنے ذہن سے کوئی تصور تراش لینا درست نہیں، جتنی بات بتائی گئی اس پر ایمان لانا اور اللہ کی صفات کو مخلوق سے تشبیہ نہ دینا ضروری ہے۔
(2)
موجودہ آسمان قیامت کے دن ختم ہو جائیں گے۔
قرآن مجید میں اس کے لیے لپیٹنے کا لفظ آیا ہے: ﴿وَالسَّمـٰوٰتُ مَطوِيّٰـتٌ بِيَمينِهِ﴾ (الزمر: 67)
اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں، لپٹے ہوئے ہوں گے۔
اور پھٹ جانے کا ذکر بھی ہے: (إِذَا السَّماءُ انشَقَّت) (الانشقاق: 1)
جب آسمان پھٹ جائے گا۔
(3)
دنیا کا اقتدار اور بادشاہی ایک امتحان اور آزمائش ہے، اصل بادشاہی اللہ ہی کی ہے۔
ارشاد ہے: ﴿قُلِ اللَّهُمَّ مـلِكَ المُلكِ تُؤتِى المُلكَ مَن تَشاءُ وَتَنزِعُ المُلكَ مِمَّن تَشاءُ﴾ (آل عمران: 26)
’’کہہ دیجئے، اے اللہ! اے بادشاہی کے مالک! تو جسے چاہتا ہے بادشاہی دے دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے بادشاہی چھین لیتا ہے۔‘‘
قیامت کو یہ حقیقت بالکل واضح ہو کر سامنے آ جائے گی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 192 سے ماخوذ ہے۔