حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، عَنْ الْعَوَّامِ ، قَالَ : " سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنْ سَجْدَةٍ فِي ص ؟ فَقَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ أَيْنَ سَجَدْتَ ؟ فَقَالَ : أَوَ مَا تَقْرَأُ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ سورة الأنعام آية 90 ، فَكَانَ دَاوُدُ مِمَّنْ أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِ ، فَسَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَسَجَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .´مجھ سے محمد بن عبداللہ ذہلی نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن عبید طنافسی نے ، ان سے عوام بن حوشب نے بیان کیا کہ میں نے مجاہد سے سورۃ ص میں سجدہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ` میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تھا کہ اس سورت میں آیت سجدہ کے لیے دلیل کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کیا تم ( سورت انعام ) میں یہ نہیں پڑھتے «ومن ذريته داود وسليمان» کہ ” اور ان کی نسل سے داؤد اور سلیمان ہیں ، یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے یہ ہدایت دی تھی ، سو آپ بھی ان کی ہدایت کی اتباع کریں ۔ “ داؤد علیہ السلام بھی ان میں سے تھے جن کی اتباع کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم تھا ( چونکہ داؤد علیہ السلام کے سجدہ کا اس میں ذکر ہے اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس موقع پر سجدہ کیا ) ۔ «عجاب» کا معنی عجیب ۔ «القط» کہتے ہیں کاغذ کے ٹکڑے ( پرچے ) کو یہاں نیکیوں کا پرچہ مراد ہے ( یا حساب کا پرچہ ) ۔ اور مجاہد رحمہ اللہ نے کہا «في عزة» کا معنی یہ ہے کہ وہ شرارت و سرکشی کرنے والے ہیں ۔ «الملة الآخرة» سے مراد قریش کا دین ہے ۔ «اختلاق» سے مراد جھوٹ ۔ «الأسباب» آسمان کے راستے ، دروازے مراد ہیں ۔ «جند ما هنالك مهزوم» الایۃ سے قریش کے لوگ مراد ہیں ۔ «أولئك الأحزاب» سے اگلی امتیں مراد ہیں ۔ جن پر اللہ کا عذاب اترا ۔ «فواق» کا معنی پھرنا ، لوٹنا ۔ «عجل لنا قطنا» میں «قط» سے عذاب مراد ہے ۔ «اتخذناهم سخريا» ہم نے ان کو ٹھٹھے میں گھیر لیا تھا ۔ «أتراب» جوڑ والے ۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «أيد» کا معنی عبادت کی قوت ۔ «الأبصار» اللہ کے کاموں کو غور سے دیکھنے والے ۔ «حب الخير عن ذكر ربي» میں «عن من» کے معنی میں ہے ۔ «طفق مسحا» گھوڑوں کے پاؤں اور ایال پر محبت سے ہاتھ پھیرنا شروع کیا ۔ یا بقول بعض تلوار سے ان کو کاٹنے لگے ۔ «الأصفاد» کے معنی زنجیریں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
اس سورت میں حضرت داؤد علیہ السلام کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور وہ سمجھ گئے کہ ہم نے انھیں آزمایا ہے، پھر تو وہ اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے گرپڑے اوررجوع کیا۔
‘‘ (ص: 24)
عاجزی کرتے ہوئے گر پڑنے سے مراد ان کا سجدہ کرنا ہے۔
جب انھوں نے اس مقام پر سجدہ کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کی اتباع میں سجدہ کیا، لہذا ہمیں بھی سجدہ کرنا چاہیے۔
2۔
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: سورہ ص کا سجدہ کچھ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں، البتہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سجدہ کرتے دیکھا ہے۔
(صحیح البخاري، سجود القرآن، حدیث: 1069)
1۔
چونکہ سورہ ص میں حضرت داؤد ؑ اور ان کا سجدہ کرنے کا بیان ہے، اس مناسبت سے اس حدیث کو یہاں بیان کیا گیا ہے۔
2۔
عزائم سجود کا مطلب یہ ہے کہ مؤکدات سجود سے نہیں، یعنی سورہ ص کا سجدہ ضروری نہیں بلکہ سجدہ شکر ہے۔
حضرت ابوسعیدخدری ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر سورہ ص تلاوت فرمائی، جب مقام سجدہ پر پہنچے تو اترے اور سجدہ کیا، پھر کسی اور دن اسے تلاوت فرمایا تو جب آیت سجدہ پر پہنچے تو لوگ سجدے کے لیے تیار ہوئے، آپ نے فرمایا: ’’یہ تو ایک نبی کی توبہ کے نتیجے میں تھا لیکن میں نے تمھیں دیکھاہے کہ تم سجدے کے لیے تیار ہو، آپ اترے اور سجدہ کیا۔
‘‘ (سنن أبي داود، السجود، حدیث: 1410)
3۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سورہ ص کا سجدہ مؤکدات سجود سے نہیں۔
واللہ أعلم۔
اللہ تعالی نے حضرت داؤد ؑ کی توبہ قبول کر لی تھی۔
والمراد بالعزائم ما وردت العزیمة علی فعله کصیغة الأمر الخ۔
(فتح الباري)
یعنی عزائم سے مراد وہ جن کے لیے صیغہ امر کے ساتھ تاکید وارد ہوئی ہو۔
سورۃ ص کا سجدہ ایسا نہیں ہے، ہاں بطور شکر سنت ضرور ہے۔
عزائم سجود سے مراد وہ سجودِ تلاوت ہیں جنہیں بجا لانے کی تاکید کی گئی ہے۔
حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ حم سجدہ، النجم، اقراء، الم تنزیل کے سجود عزائم سے ہیں۔
(السنن الکبرٰی للبیھقي: 315/2، و المصنف لابن أبي شیبة: 378/1، رقم: 4349)
سورۂ ص کے سجدے کے متعلق حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ سجدہ عزائم سجود میں سے نہیں۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جن انبیاء کی پیروی کرنے کا حکم ہے ان میں حضرت داود ؑ ہیں، چونکہ انہوں نے سجدہ کیا تھا، اس لیے سورۂ ص میں سجدہ کرنا چاہیے۔
(صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، حدیث: 3421)
سنن نسائی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سجدۂ ص کے متعلق فرمایا: ’’حضرت داود ؑ کا یہ سجدہ بطور توبہ تھا اور ہم ان کی پیروی میں بطور شکر سجدہ کرتے ہیں۔
'' (سنن النسائي، الافتتاح، حدیث: 958)
ابوداود میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورۂ ص کو منبر پر تلاوت فرمایا، جب مقام سجدہ پر پہنچے تو نیچے اتر کر سجدہ کیا، لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ ادا کیا، پھر کسی اور دن اسے تلاوت فرمایا، لوگ حسب سابق سجدے کے لیے تیار ہوئے تو آپ نے فرمایا: ’’یہ سجدہ تو ایک نبی کی توبہ کی بنا پر تھا لیکن میں نے دیکھا ہے کہ تم سجدے کے لیے تیار ہو چکے ہو۔
‘‘ اس لیے آپ منبر سے نیچے اترے اور سجدہ کیا۔
(سنن أبي داود، سجودالقرآن، حدیث: 1410)
لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ ادا کیا۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں سجدہ تو ہے لیکن اس کے متعلق تاکید نہیں ہے۔
(فتح الباري: 714/2)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ ص میں سجدہ کرتے دیکھا۔ ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: یہ واجب سجدوں میں سے نہیں ہے۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 577]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ «ص» میں سجدہ کیا، اور فرمایا: " داود علیہ السلام نے یہ سجدہ توبہ کے لیے کیا تھا، اور ہم یہ سجدہ (توبہ کی قبولیت پر) شکر ادا کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔" [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 958]
➋ سورۂ صٓ کا سجدہ امام شافعی رحمہ اللہ تسلیم نہیں کرتے کیونکہ وہاں آیت میں سجدے کا لفظ ہی نہیں، بس یہ الفاظ ہیں: «﴿خَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ﴾» [ص: 24: 38]
جبکہ دیگر اہل علم اس سجدے کے قائل ہیں کیونکہ یہاں معنی تو سجدے ہی کا ہے اگرچہ لفظ «رَاكِعًا» کے ہیں۔ امام مالک بھی امام شافعی کے ہم نوا ہیں۔
➌ حضرت داود علیہ السلام سے کوئی (اجتہادی) غلطی ہو گئی تھی جس کی تفصیل قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں نہیں ہے، لہٰذا ہمیں بھی اس کی کرید نہیں کرنی چاہیے۔ جب انہیں غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے بطور توبہ سجدہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی تو اس کے شکرانے کے طور پر ہم سجدہ کرتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سورۃ «ص» کا سجدہ ان میں سے نہیں ہے جن کا ذکر ضروری ہے، البتہ میں نے یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 271»
«أخرجه البخاري، سجود القرآن، باب سجدة ص، حديث:1069.»
تشریح: 1. اس سے معلوم ہوا کہ سورۂ صٓ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا ہے‘ البتہ آپ نے اس کا حکم نہیں فرمایا اور اس کی تاکید نہیں کی۔
2. اس سے معلوم ہوا کہ بعض اعمال اگرچہ مسنون ہیں مگر ان کے بارے میں تاکید نہیں۔
وہ بھی سنت خیرالانام کے زمرے میں آتے ہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سورۃ ص میں سجدہ تلاوت واجب نہیں ہے، اگر کوئی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، اگر کوئی سجدہ نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ عزائم سجود سے مراد وہ جود تلاوت میں جنھیں بجالانے کی تاکید کی گئی ہے۔