حدیث نمبر: 4764
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : " سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى : فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93 ، قَالَ : لَا تَوْبَةَ لَهُ ، وَعَنْ قَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ : لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ سورة الفرقان آية 68 ، قَالَ : كَانَتْ هَذِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے آدم نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے منصور نے بیان کیا ، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ` میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «فجزاؤه جهنم‏» کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کی توبہ قبول نہیں ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد « لا يدعون مع الله إلها آخر‏» کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ یہ ان لوگوں کے متعلق ہے جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں قتل کیا ہو ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4764
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
4764. حضرت سعید بن جبیر ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت ’’(جو کوئی کسی مومن کو قصدا قتل کر ڈالے) اس کی سزا جہنم ہے۔‘‘ کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: اس قاتل کی کوئی توبہ نہیں اور دوسری آیت: ’’اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے ہیں۔۔‘‘ کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ دور جاہلیت کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4764]
حدیث حاشیہ: یعنی جن لوگوں نے زمانہ جاہلیت میں قتل کیا ہو اور پھر اسلام لائے ہوں تو ان کا حکم اس آیت میں بتایا گیا ہے لیکن اگر کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو ناحق قتل کردے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک اس کی سزا جہنم ہے۔
اس گناہ سے اس کی توبہ قبول نہیں ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہی فتویٰ ہے کہ عمداً کسی مسلمان کا نا حق قاتل ابدی دوزخی ہے۔
مگر جمہور امت کا فتویٰ ہے کہ ایسا گنہگار اس مقتول کے وارثوں کو خون بہا دے کر توبہ کرے تو وہ قابل معافی ہوجاتا ہے۔
شاید حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ زجر وتوبیخ کے طور پر ہو۔
بہر حال جمہور کا فتویٰ رحمت الٰہی کے زیادہ قریب ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4764 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4764. حضرت سعید بن جبیر ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت ’’(جو کوئی کسی مومن کو قصدا قتل کر ڈالے) اس کی سزا جہنم ہے۔‘‘ کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: اس قاتل کی کوئی توبہ نہیں اور دوسری آیت: ’’اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے ہیں۔۔‘‘ کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ دور جاہلیت کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4764]
حدیث حاشیہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خیال تھا کہ سورہ فرقان میں جس توبہ کا ذکرہے: ﴿إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ اس کا تعلق ان مسلمانوں سے نہیں جو کسی مومن کا جان بوجھ کر خون بہا دیں بلکہ یہ آیت صرف کفار ومشرکین کے ایمان لانے کے متعلق ہے۔
یہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذاتی فتویٰ ہے لیکن دیگر اہل علم نے ایسے قاتل کے متعلق توبہ واستغفار کی گنجائش بتائی ہے جس کے دلائل ہم صحیح بخاری، حدیث: 4590 کے فوائد میں بیان کرآئے ہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4764 سے ماخوذ ہے۔