صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ قَوْلِهِ: {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ} : باب: آیت کی تفسیر ”یہ دو فریق ہیں، جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑا کیا“۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو هَاشِمٍ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّهُ كَانَ يُقْسِمُ قَسَمًا إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ : هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ سورة الحج آية 19 ، نَزَلَتْ فِي حَمْزَةَ وَصَاحِبَيْهِ ، وَعُتْبَةَ وَصَاحِبَيْهِ يَوْمَ بَرَزُوا فِي يَوْمِ بَدْرٍ ". رَوَاهُ سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، وَقَالَ عُثْمَانُ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، قَوْلَهُ .´ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابوہاشم نے خبر دی ، انہیں ابومجلز نے ، انہیں قیس بن عباد نے اور انہیں ابوذر رضی اللہ عنہ نے وہ قسم کھا کر بیان کرتے تھے کہ` یہ آیت «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ” یہ دو فریق ہیں ، جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑا کیا ۔ “ حمزہ اور آپ کے دونوں ساتھیوں ( علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ مسلمانوں کی طرف سے ) اور ( مشرکین کی طرف سے ) عتبہ اور اس کے دونوں ساتھیوں ( شیبہ اور ولید بن عتبہ ) کے بارے میں نازل ہوئی تھی ، جب انہوں نے بدر کی لڑائی میں میدان میں آ کر مقابلہ کی دعوت دی تھی ۔ اس روایت کو سفیان نے ابوہاشم سے اور عثمان نے جریر سے ، انہوں نے منصور سے ، انہوں نے ابوہاشم سے اور انہوں نے ابومجلز سے اسی طرح نقل کیا ہے ۔