صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ قَوْلِهِ: {أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} : باب: آیت «أسرى بعبده ليلا من المسجد الحرام» کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَمَّا كَذَّبَنِي قُرَيْشٌ قُمْتُ فِي الْحِجْرِ ، فَجَلَّى اللَّهُ لِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ ، فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ . زَادَ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ . حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ : لَمَّا كَذَّبَنِي قُرَيْشٌ حِينَ أُسْرِيَ بِي إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ نَحْوَهُ ، قَاصِفًا : رِيحٌ تَقْصِفُ كُلَّ شَيْءٍ .´ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے یونس بن یزید نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا کہا کہ` میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب قریش نے مجھ کو واقعہ معراج کے سلسلہ میں جھٹلایا تو میں ( کعبہ کے ) مقام حجر میں کھڑا ہوا تھا اور میرے سامنے پورا بیت المقدس کر دیا گیا تھا ۔ میں اسے دیکھ دیکھ کر اس کی ایک ایک علامت بیان کرنے لگا ۔ یعقوب بن ابراہیم نے اپنی روایت میں یہ زیادہ کیا کہ ہم سے ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے چچا ابن شہاب سے بیان کیا کہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) جب مجھے قریش نے بیت المقدس کے معراج کے سلسلہ میں جھٹلایا ، پھر پہلی حدیث کی طرح بیان کیا ۔ «قاصفا» وہ آندھی جو ہر چیز کو تباہ کر دے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ایک روایت میں ہے کہ قریش کے کچھ لوگ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے پاس پہنچے اور ان سے کہا: تمھارے رسول اللہ ﷺ تو یہ کہتے ہیں کہ وہ رات کو بیت المقدس گئے اور وہاں سے اس رات واپس آئے حالانکہ وہاں قافلہ ایک مہینے میں جاتا اور ایک مہینے میں واپس آتا ہے یہ سن کر حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا واقعی انھوں نے یہ فرمایا ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں آپ نے فرمایا: اگر رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا ہے تو میں اس کی تصدیق کرتا ہوں۔
(فتح الباری: 498/9)
اس روزے سے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنه کو صدیق کا خطاب ملا۔
«. . . يَقُولُ:" لَمَّا كَذَّبَنِي قُرَيْشٌ قُمْتُ فِي الْحِجْرِ فَجَلَا اللَّهُ لِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ. . .»
”. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب قریش نے (معراج کے واقعہ کے سلسلے میں) مجھ کو جھٹلایا تو میں حطیم میں کھڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے میرے لیے بیت المقدس کو روشن کر دیا اور میں نے اسے دیکھ کر قریش سے اس کے پتے اور نشان بیان کرنا شروع کر دیئے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ: 3886]
[109- البخاري فى: 63 كتاب مناقب الانصار: 41 باب حديث الاسراء۔۔۔ 3886، مسلم 170، ترمذي 3133]
لغوی توضیح:
«الحِجر» مراد حطیم ہے، یعنی بیت اللہ کے عراقی اور شامی کونے کے درمیان وہ جگہ جس کے گرد دائرے کی شکل میں ایک چھوٹی سی دیوار بنائی گئی ہے۔ جس کا مقصد ہے کہ لوگ اس کے باہر سے طواف کریں کیونکہ وہ جگہ بھی بیت اللہ کا حصہ ہے۔ دراصل ایامِ جاہلیت میں کفار مکہ کی حلال کمائی کم پڑ جانے کی وجہ سے اس جگہ کو بغیر تعمیر کیے ہی چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس جگہ کو «حِجْرِ اِسْمَاعِيْل» بھی کہا جاتا ہے۔
«فَجَلَا» کھول دیا، ظاہر کر دیا۔
فھم الحدیث:
دراصل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قریش کے سامنے واقعہ معراج بیان کیا تو انہوں نے اس کی شدید مخالفت کی اور چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ کے دوران بیت المقدس کا بھی ذکر فرمایا تھا اس لیے قریش نے آپ سے بیت المقدس کی صفات کے بارے میں سوال کر لیا، تب اللہ تعالیٰ نے آپ کے سامنے بیت المقدس ظاہر فرما دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے سامنے بیت المقدس کی نشانیاں اور صفات بیان کرنا شروع کر دیں۔
آپ کا معراج مکہ سے بیت المقدس تک تو قطعی ہے۔
جو قرآن پاک سے ثابت ہے اس کا منکر قرآن کامنکر ہے اور قرآن کا منکر کافر ہے اور بیت المقدس سے آسمانوں تک صحیح حدیث سے ثابت ہے اس کا منکر گمراہ اور بدعتی ہے۔
حافظ نے کہا اکثر علماء سلف اور اہل حدیث کا یہ قول ہے کہ یہ معراج جسم اور روح دونوں کے ساتھ بیداری میں ہوا۔
یہی امر حق ہے۔
بیہقی کی روایت میں یوں ہے کہ آپ نے جب معراج کا قصہ بیان کیا تو کفار قریش نے انکار کیا اورابو بکر ؓ کے پاس آئے انہوں نے آپ کی تصدیق کردی اس دن سے ان کالقب صدیق ؓ ہوگیا۔
بزار نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بیت المقدس کی مسجد لائی گئی اور عقیل کے گھر کے پاس رکھ دی گئی۔
میں ا س کو دیکھتا جاتا اور اس کی صفت بیان کرتا جاتا تھا۔
بعض نے کہا کہ اسراءاور معراج دونوں الگ الگ راتوں میں ہوئے ہیں کیونکہ حضرت امام بخاری ؒ نے ہر دوکو الگ الگ بابوں میں بیان کیا ہے مگر خود حضرت امام بخاری ؒ نے کتاب الصلوۃ میں یہ باب باندھا ہے کہ لیلۃ الاسراء میں نماز کس طرح فرض ہوئی۔
معلوم ہواکہ اسراءاور معراج ایک ہی رات میں ہوئے ہیں۔
1۔
امام بخاری ؒ نے اسراء اور معراج کے لیے الگ الگ عنوان قائم کیے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اسراء اور معراج الگ الگ راتوں میں ہوئے ہیں مگر یہ موقف محل نظر ہے کیونکہ امام بخاری ؒ نے کتاب الصلاۃ میں ایک عنوان ان الفاظ میں قائم کیا ہے: (باب كيف فرضت الصلاة في الإسراء)
’’اسراء کی رات نماز کس طرح فرض ہوئی؟‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسراء اور معراج ایک ہی رات میں ہوئی ہیں کیونکہ نمازوں کی فرضیت معراج کے موقع پر ہوئی تھی۔
(فتح الباري: 247/7)
2۔
اکثر علمائے سلف اور محدثین کا موقف ہے کہ اسراء اور معراج جسم اور روح دونوں کے ساتھ بیداری کی حالت میں ہوئے۔
3۔
جب رسول اللہ ﷺ نے معراج کا واقعہ بیان کیا تو کفار قریش نے انکار کیا اور سیدنا ابو بکر ؓ نے اس کی تصدیق کی۔
اس دن سے حضرت ابو بکر ؓ کا لقب "صدیق"ہوگیا۔
4۔
مسجد حرام سے مسجد اقصی کی طرف جانے میں یہ حکمت ہے کہ آپ دونوں قبلوں کی زیادت کر لیں اور وہاں جا کر انبیائے کرام ؑ کی امامت کرائیں۔
یا اس لیے وہاں تشریف لے گئے کہ بیت المقدس مقام محشر ہے، آپ وہاں گئے تاکہ مختلف فضائل سے شرف یاب ہوں۔
واللہ أعلم۔
آج کے دور میں دنیا کی کوئی سی عمارت، دنیا کے کسی بھی ملک میں ٹی وی کے ذریعہ دکھائی جا سکتی ہے، تو قدرت الہٰی کے سامنے کونسی چیز نا ممکن ہو سکتی ہے۔
(اس حدیث کا تعلق پچھلے باب سے ہے)
اگر اللہ نے آپ کو حطیم میں کھڑے بیت المقدس دکھا دیا تو اس میں کوئی انہونی بات نہیں۔