صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ قَوْلِهِ: {أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} : باب: آیت «أسرى بعبده ليلا من المسجد الحرام» کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِإِيلِيَاءَ بِقَدَحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ وَلَبَنٍ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا ، فَأَخَذَ اللَّبَنَ ، قَالَ جِبْرِيلُ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ ، لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ " .´ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا ، کہا ہم کو یونس بن یزید نے خبر دی ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا ، کہا ہم سے عنبسہ بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یونس بن یزید نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے کہ ابن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` معراج کی رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیت المقدس میں دو پیالے پیش کئے گئے ایک شراب کا اور دوسرا دودھ کا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو دیکھا پھر دودھ کا پیالہ اٹھا لیا ۔ اس پر جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ تمام حمد اس اللہ کے لیے ہے جس نے آپ کو فطرت ( اسلام ) کی ہدایت کی ۔ اگر آپ شراب کا پیالہ اٹھا لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
حضرت انس ؓ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میرے پاس تین پیالے لائے گئے ایک میں دودھ دوسرے میں شہداور تیسرے میں شراب تھی۔
میں نے دودھ والا پیالہ لیا اور اسے نوش کر لیا۔
مجھے کہا گیا کہ تونے اور تیری امت نے فطرت کا انتخاب کیا ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الأشربة، حدیث: 5610)
حقیقت یہ ہے کہ واقعہ معراج کے وقت آپ کو تین پیالے پیش کیے گئے تھے لیکن ہر روای نے اپنی معلومات کے مطابق اس واقعے کو بیان کیا ہے پھر یہ مشروبات رسول اللہ ﷺ کو دو مرتبہ پیش کیے گئے۔
ایک مرتبہ تو معراج سے پہلے بیت المقدس میں دوسری مرتبہ سدرہ المنتہیٰ کے پاس جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں اس کی صراحت ہے۔
(صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3887)
2۔
حدیث میں شراب کے بجائے دودھ کو اختیار کی وجہ تو بیان کی گئی ہے کہ اس سے گمراہی کا سدباب مقصود تھا لیکن شہد کے مقابلے میں دودھ کا انتخاب کیوں ہوا اس کی غالباً وجہ یہ تھی کہ دودھ شہد کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے اور اس سے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں اور گوشت بھی پیدا ہوتا ہے۔
حافظ ابن حجرؒ نے یہ بھی لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو پیاس لگی تھی جیسا کہ بعض روایات میں آتا ہے اور پیاس بجھانے کے لیے تو شہد کے بجائے دودھ ہی فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
واللہ اعلم۔
(فتح الباری: 10/93)
(1)
دودھ اور شراب کے دو پیالے پیش کرنے کے بعد آپ کو اختیار دیا گیا تھا کہ آپ ان میں سے جو چاہیں اپنے لیے پسند کر لیں تو آپ نے دودھ کا پیالہ پسند کیا۔
حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ سے کہا: اگر آپ شراب کا پیالہ پسند کرتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔
(2)
دودھ کا پیالہ منتخب کرنے سے مراد دین فطرت کو اختیار کرنا تھا۔
واللہ أعلم
اس کی حرمت کی یہی وجہ ہے کہ اسے پی کر عقل زائل ہو جاتی ہے اوراسے پينے والا جرائم اور برے کام کر بیٹھتا ہے۔
اسی لیے اسے قلیل یا کثیر ہر طرح حرام کر دیا گیا۔
(1)
شراب اگرچہ نجس اور حرام ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب پیش کی گئی تو اس وقت حرام نہ تھی بلکہ اس کی تحریم کا واقعہ مدینہ طیبہ کا ہے اور معراج کا واقعہ مکہ مکرمہ میں پیش آیا۔
(2)
شراب کا انتخاب کرنے میں امت گمراہ ہو جاتی، یعنی وہ شراب نوشی میں بدمست رہتے۔
بعض اہل علم کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی اگرچہ وہ جنت کی پاک شراب تھی۔
ممکن ہے کہ شراب کے حرام ہونے سے پہلے بھی حضرت جبرائیل علیہ السلام کو اس سے طبعی نفرت ہو۔
واللہ أعلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ «اسراء» (معراج) کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شراب اور دودھ کے دو پیالے لائے گئے، آپ نے انہیں دیکھا تو دودھ لے لیا، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اللہ کا شکر ہے جس نے آپ کو فطری چیز کی ہدایت دی، اگر آپ شراب لے لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5660]
(2) ”جس رات“ یہ مکی زندگی کے آخری دور کی بات ہے۔ گویا معراج کے وقت ہی آپ کو اشارہ فرما دیا گیا کہ شراب حرام ہوگی اگرچہ حرمت کا حکم اپنے مقررہ وقت پر اتر ا، یعنی 3 ہجری میں۔
(3) ”دودھ پکڑ لیا“ گویا آپ پہلے سے شراب جیسی قبیح چیز سے نفرت فرماتے تھے اور کوئی عاقل اورسنجیدہ شخص عقل کو مغلوب کرنے والی چیز کو بخوبی پسند نہیں کر سکتا۔ بعض روایا ت میں ہے کہ آپ نے اس وقت حضرت جبریل علیہ السلام سے بھی آنکھوں آنکھوں میں مشورہ فرمایا۔ انھوں نے بھی دودھ ہی کی طرف اشارہ کیا۔
(4) ”اللہ کا شکر ہے“ کیو نکہ شراب قبول کرنے کی صورت میں شراب حلال رہتی اور حرمت کا حکم نہ آتا۔ گویا یہ پیشکش اور آپ کی قبولیت دراصل اظہار تھا اس بات کا کہ اسلام دین فطرت ہے اور اس میں کوئی حکم خلاف فطرت نہیں آ سکتا۔جو شخص اصل فطرت انسانیہ پر قائم ہے، وہ مسلمان ہے۔ دین اسلام، فطرت انسانیہ ہی کی تفصیل ہے۔
(5) ”فطری چیز“ کیونکہ دودھ انسان کی بہترین خوراک ہے۔ ابتدا میں بچے کو سوائے دودھ کے کوئی خوراک مفید ہی نہیں اور بعد میں دودھ واحد مشروب ہے جو کھانے اور پینے دونوں کی جگہ کفایت کر سکتا ہے اور بہت سی بیماریوں سے بچاؤ کرتا ہے۔
(6) ”گمراہ ہو جاتی“ اور یہ کو ئی بعید بات نہیں۔ شراب پینے والی سب قومیں گمراہ ہوئیں اور رہی ہیں۔ مغلوب العقل شخص کیسے صحیح فیصلہ کر سکتا ہے؟ ایسے لوگوں سے حکومتیں چھن جاتی ہے اور وہ در بدر کی ٹھوکر یں کھاتے پھرتے ہیں۔ اگر پوری قوم ہی شرابی ہو تو نتائج اس سےبھی زیادہ ہولناک ہوتے ہیں اور قوم من حیث المجموع گمراہ وتباہ ہو جاتی ہے۔