صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ قَوْلِهِ: {وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ} : باب: آیت کی تفسیر ”اور تحقیق ہم نے آپ کو (وہ) سات (آیتیں) دی ہیں (جو) باربار (پڑھی جاتی ہیں) اور وہ قرآن عظیم ہے“۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى ، قَالَ : مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُصَلِّي ، فَدَعَانِي فَلَمْ آتِهِ حَتَّى صَلَّيْتُ ، ثُمَّ أَتَيْتُ ، فَقَالَ : " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنِي ؟ " فَقُلْتُ : كُنْتُ أُصَلِّي ، فَقَالَ : " أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ سورة الأنفال آية 24 ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ ، قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ " ، فَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَذَكَّرْتُهُ ، فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ ، الَّذِي أُوتِيتُهُ " .´مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے ، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا ۔ میں نماز سے فارغ ہونے کے بعد خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ فوراً ہی کیوں نہ آئے ؟ عرض کیا کہ نماز پڑھ رہا تھا ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اللہ نے تم لوگوں کو حکم نہیں دیا ہے کہ اے ایمان والو ! جب اللہ اور اس کے رسول تمہیں بلائیں تو لبیک کہو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیوں نہ آج میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن کی سب سے عظیم سورت بتاؤں ۔ پھر آپ ( بتانے سے پہلے ) مسجد سے باہر تشریف لے جانے کے لیے اٹھے تو میں نے بات یاد دلائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورۃ فاتحہ «الحمد لله رب العالمين» یہی سبع مثانی ہے اور یہی قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
64ھ میں بعمر 64 سال وفات پائی (رضي اللہ عنه)
آخری عشرہ ماہ جمادی الثانی 1394 ھ میں اس پارے کی تسوید کا کام شروع کر رہا ہوں۔
تکمیل اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔
سورۃ فاتحہ کے بارے میں حضرت حافظ صاحب فرماتے ہیں۔
اختصت الفاتحة بأنھا مبداءالقرآن وحاویة لجمیع علومه لاحتواءھا علی الثناء علی اللہ والإقرار لعبادته والإخلاص له و سوال الھدایة منه والإشارة إلی الاعتراف بالعجز عن القیام بنعمه و إلی شان المعاد و بیان عاقبة الجاحدین (فتح الباری)
یعنی سورۃ فاتحہ کی یہ خصوصیات ہیں کہ یہ علوم قرآن مجید کا خزانہ ہے جو قرآن پاک کے سارے علوم کو حاوی ہے یہ ثناء علی اللہ پر مشتمل ہے اس پر عبادت اور اخلاص کے لئے بندوں کی طرف سے اظہار اقرار ہے اور اللہ سے ہدایت مانگنے اور اپنی عاجزی کا اقرار کرنے اور اس کی نعمتوں کے قیام وغیرہ کے ایمان افروز بیانات ہیں جو بندوں کی زبان سے اس سورہ شریفہ کے ذریعہ ظاہر ہوتے ہیں۔
ساتھ ہی اس سورت میں شان معاد کا بھی اظہار ہے اور جو لوگ اسلام و قرآن کے منکرین ہیں ان کے انجام بد پر بھی نشان دہی کی گئی ہے۔
پہلے اس سورت کے متعلق ایک مفصل مقالہ دیا گیا ہے جس سے قارئین نے اس سورہ کے بارے میں بہت سی معاملات حاصل کرلی ہوں گی۔
1۔
اس طرح کا ایک واقعہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی پیش آیا جبکہ وہ مسجد نبوی میں نماز پڑھ رہے تھے۔
انھیں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا تھا۔
(جامع الترمذي، فضائل القرآن، حدیث: 2875)
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورت کو قرآن کریم کی عظیم تر سورت قرار دیا ہے کیونکہ اس کے پڑھنے سے بہت ثواب ملتا ہے اگرچہ دوسری سورتیں مقدار کے اعتبار سے لمبی ہیں۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے علامہ قرطبی کے حوالے سے لکھا ہے۔
فاتحہ کی خصوصیت ہے کہ وہ قرآن کریم کا مقدمہ ہے جو قرآنی علوم پر مشتمل ہے کیونکہ اس میں اللہ کی حمد و ثنا اور بندوں کی طرف سے عبادت و اخلاص کا اظہار ہے۔
اللہ تعالیٰ سے طالب ہدایت اور اپنی عاجزی کا اظہار ہے، نیز اس میں اس کی نعمتوں کے ایمان افروز بیانات آخرت کے حالات اور منکرین کا انجام بیان ہوا ہے۔
(فتح الباري: 69/9)
اس حدیث کے متعلق دیگر فوائد کتاب التفسیر میں بیان ہو چکے ہیں۔
ابوسعید بن معلّیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ” کیا میں مسجد سے نکلنے سے پہلے تمہیں وہ سورت نہ سکھاؤں جو قرآن مجید میں سب سے عظیم سورت ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد سے باہر نکلنے لگے تو میں نے آپ کو یاد دلایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ سورت «الحمد لله رب العالمين» ہے جو سبع مثانی ہے، اور قرآن عظیم ہے، جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3785]
فوائد و مسائل:
(1)
اس حدیث میں قرآن مجید کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے: ﴿وَلَقَد آتَيناكَ سَبعًا مِنَ المَثاني وَالقُرآنَ العَظيمَ﴾ (الحجر، 15: 87)
’’یقیناً ہم نے آپ کو بار بار دہرائی جانے والی سات آیات اور قرآن عظیم عطا فرمایا ہے۔
”
(2)
سورہ فاتحہ کو ’’سبع مثانی‘‘ اس لیے فرمایا گیا ہے کہ یہ ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے۔
(3)
سورہ فاتحہ کو ’’قرآن عظیم‘‘ کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ یہ قرآن مجید کے تمام مضامین کا خلاصہ ہے، یعنی اس میں عقیدہ توحید، عملی توحید، یعنی صرف اللہ کی عبادت اور صرف اس سے مدد مانگنا، اس کی صفات، عقیدہ آخرت، وعدہ، وعید، گزشتہ انبیاء اور ان کی امتوں کےنیک اور نا فرمان افراد کے واقعات سے عبرت اور اس کسے ہدایت کی درخواست جیسے اہم مضامین موجود ہیں۔
(4)
اہم مسئلہ سمجھانے سے پہلے اس سمجھنے کا شوق پیدا کر دیا جائے تو وہ اچھی طرح سمجھ میں آتا ہے اور یاد رہتا ہے۔