صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ قَوْلِهِ: {إِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ مُبِينٌ} : باب: آیت کی تفسیر ”ہاں مگر کوئی بات چوری چھپے سن بھاگے تو اس کے پیچھے ایک جلتا ہوا انگارہ لگ جاتا ہے“۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَضَى اللَّهُ الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ، ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا ، لِقَوْلِهِ : كَالسِّلْسِلَةِ عَلَى صَفْوَانٍ " ، قَالَ عَلِيٌّ : وَقَالَ غَيْرُهُ : صَفْوَانٍ يَنْفُذُهُمْ ذَلِكَ ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ ، قَالُوا : مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ قَالُوا : لِلَّذِي قَالَ الْحَقَّ ، وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ ، فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ ، وَمُسْتَرِقُو السَّمْعِ هَكَذَا وَاحِدٌ فَوْقَ آخَرَ ، وَوَصَفَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِ يَدِهِ الْيُمْنَى نَصَبَهَا بَعْضَهَا فَوْقَ بَعْضٍ ، فَرُبَّمَا أَدْرَكَ الشِّهَابُ الْمُسْتَمِعَ قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ بِهَا إِلَى صَاحِبِهِ فَيُحْرِقَهُ ، وَرُبَّمَا لَمْ يُدْرِكْهُ حَتَّى يَرْمِيَ بِهَا إِلَى الَّذِي يَلِيهِ إِلَى الَّذِي هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ حَتَّى يُلْقُوهَا إِلَى الْأَرْضِ ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ : حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى الْأَرْضِ ، فَتُلْقَى عَلَى فَمْ السَّاحِرِ فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ ، فَيُصَدَّقُ ، فَيَقُولُونَ : أَلَمْ يُخْبِرْنَا يَوْمَ كَذَا ، وَكَذَا يَكُونُ كَذَا ، وَكَذَا ، فَوَجَدْنَاهُ حَقًّا لِلْكَلِمَةِ الَّتِي سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ .´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی فیصلہ فرماتا ہے تو ملائکہ عاجزی سے اپنے پر مارنے لگتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد میں ہے کہ جیسے کسی صاف چکنے پتھر پر زنجیر کے ( مارنے سے آواز پیدا ہوتی ہے ) اور علی بن عبداللہ المدینی نے بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ کے سوا اور راویوں نے «صفوان» کے بعد «ينفذهم ذلك» ( جس سے ان پر دہشت طاری ہوتی ہے ) کے الفاظ کہے ہیں ۔ پھر اللہ پاک اپنا حکم فرشتوں تک پہنچا دیتا ہے ، جب ان کے دلوں پر سے ڈر جاتا رہتا ہے تو دوسرے دور والے فرشتے نزدیک والے فرشتوں سے پوچھتے ہیں پروردگار نے کیا حکم صادر فرمایا ۔ نزدیک والے فرشتے کہتے ہیں بجا ارشاد فرمایا اور وہ اونچا ہے بڑا ۔ فرشتوں کی یہ باتیں چوری سے بات اڑانے والے شیطان پا لیتے ہیں ۔ یہ بات اڑانے والے شیطان اوپر تلے رہتے ہیں ( ایک پر ایک ) سفیان نے اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیاں کھول کر ایک پر ایک کر کے بتلایا کہ اس طرح شیطان اوپر تلے رہ کر وہاں جاتے ہیں ۔ پھر بھی کبھی ایسا ہوتا ہے ۔ فرشتے خبر پا کر آگ کا شعلہ پھینکتے ہیں وہ بات سننے والے کو اس سے پہلے جلا ڈالتا ہے کہ وہ اپنے پیچھے والے کو وہ بات پہنچا دے ۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ شعلہ اس تک نہیں پہنچتا اور وہ اپنے نیچے والے شیطان کو وہ بات پہنچا دیتا ہے ، وہ اس سے نیچے والے کو اس طرح وہ بات زمین تک پہنچا دیتے ہیں ۔ یہاں تک کہ زمین تک آ پہنچتی ہے ۔ ( کبھی سفیان نے یوں کہا ) پھر وہ بات نجومی کے منہ پر ڈالی جاتی ہے ۔ وہ ایک بات میں سو باتیں جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر لوگوں سے بیان کرتا ہے ۔ کوئی کوئی بات اس کی سچ نکلتی ہے تو لوگ کہنے لگتے ہیں دیکھو اس نجومی نے فلاں دن ہم کو یہ خبر دی تھی کہ آئندہ ایسا ایسا ہو گا اور ویسا ہی ہوا ۔ اس کی بات سچ نکلی ۔ یہ وہ بات ہوتی ہے جو آسمان سے چرائی گئی تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
زنجیر جیسی آواز کے متعلق ابن مردویہ کی روایت میں حضرت انس ؓ سے اس کی صراحت ہے کہ جب اللہ پاک وحی بھیجنے کے لئے کلام کرتا ہے تو آسمان والے فرشتے ایسی آواز سنتے ہیں جیسے زنجیر پتھر پر چلے۔
جب فرشتوں کے دلوں سے خوف ہٹ جاتا ہے تو آپس میں اس ارشاد کا تذکرہ کرتے ہیں۔
طبرانی کی روایت میں یوں ہے جب اللہ وحی بھیجنے کے لئے کلام کرتا ہے تو آسمان لرزجاتا ہے اور آسمان والے اس کا کلام سنتے ہی بے ہوش ہوجاتے ہیں اور سجدے میں گر پڑتے ہیں۔
سب سے پہلے جبرائیل سر اٹھاتے ہیں۔
پروردگار جو چاہتا ہے وہ ان سے ارشاد فرماتا ہے۔
وہ حق تعالیٰ کا کلام سن کر اپنے مقام پر چلتے ہیں۔
جہاں جاتے ہیں فرشتے ان سے پوچھتے ہیں حق تعالیٰ نے کیا فرمایا وہ کہتے ہیں کہ ﴿الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ﴾ (سبا: 23)
ان حدیثوں سے پچھلے متکلمین کے تمام خیالات باطلہ رد ہوجاتے ہیں کہ اللہ کا کلام قدیم ہے اور وہ نفس ہے اور اس کے کلام میں آواز نہیں ہے۔
معلوم نہیں یہ ڈھونگ ان لوگوں نے کہاں سے نکالا ہے۔
شریعت سے تو صاف ثابت ہے کہ اللہ پاک جب چاہتا ہے کلام کرتا ہے اس کی آواز آسمان والے فرشتے سنتے ہیں اور اس کی عظمت سے لرز کر سجدے میں گر جاتے ہیں۔
سند میں حضرت علی بن عبد اللہ بن جعفر حافظ الحدیث ہیں۔
ان کے استاد ابن المہدی نے فر مایا کہ ابن المدینی رسول کریم ﷺ کی حدیث کو سب سے زیادہ جانتے ہیں۔
امام نسائی نے فرمایا کہ ابن المدینی کی پیدائش ہی اس خدمت کے لئے ہوئی تھی۔
ماہ ذی قعدہ 234ھ بعمر 73سال انتقال فرمایا۔
اسی طرح دوسرے بزرگ حضرت سفیان بن عیینہ حجة في الحدیث، زاہد، متورع تھے۔
107ھ میں کوفہ میں ان کی ولادت ہوئی 198ھ میں مکہ میں ان کا انتقال ہوا۔
رحمهم اللہ أجمعین۔
1۔
ادھر ادھر کا جوایک فقرہ سن لیا جاتا ہے تو اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ اس کی قطعاً بندش کردی جائے۔
وہ چاہتا تو اس سے بھی روک سکتا تھا مگر یہ بات اس کی حکمت بالغہ کے مطابق نہ تھی آخر اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے طویل مہلت دی ہے اور گمراہ کرنے والے اسباب وسائل پر دسترس دی ہے۔
حالانکہ اللہ کو معلوم ہے کہ یہ شیاطین گمراہ کرنے اور بھٹکانے سے باز نہیں آئیں گے اس میں کچھ نہ کچھ حکمت تسلیم کرنا پڑےگی اس طرح ایک آدھی بات سننے میں بھی کوئی حکمت ضرور ہو گی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ شیاطین ہزروں کی تعداد میں ان شہابوں سے ہلاک ہوتے رہتے ہیں لیکن پھر بھی اپنی کوشش کو جاری رکھے ہوتے ہیں جیسا کہ کوہ ہمالیہ کی چوٹی سر کرنے والے اپنی جان سے ہاتھ دھوتے رہتے ہیں لیکن یہ انجام دیکھ کر دوسرے اس کام کو ترک نہیں کرتے۔
واللہ اعلم۔
اس کی مزید تفصیل سورہ سبا آیت23: کی تفسیر میں آئے گی۔
1۔
اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے سے مراد کسی چیز کے متعلق فرشتوں کو حکم دینا ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت نواس بن سعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی گزشتہ احادیث میں وضاحت ہے۔
اور فرشتوں کا اظہار عاجزی کے پیش نظر اپنے پَروں کا مارنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے اورحکم کو سنتے ہیں، نیز حروف وآواز پر مشتمل کلام ہی کو سنا جا سکتا ہے۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بھی اس امر کو ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام بھی حروف وآواز پر مشتمل ہے اور وہ سنا جا سکتا ہے لیکن وہ مخلوق کے کلام سے مشابہت نہیں رکھتا۔
اللہ تعالیٰ بھی حقیقی کلام کا اظہار کرتا ہے جسے فرشتے سنتے ہیں اور اظہار عاجزی کے لیے اپنے پَر مارتے ہیں جن سے ایسی آواز نکلتی ہے جیسا کہ سخت چٹان پر لوہے کی زنجیر کھینچنے سے آواز پیدا ہوتی ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث کے اختتام پر کچھ اسناد ذکر کی ہیں۔
ان سے انھوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت عکرمہ سے تدلیس کے شبہ کو دور کیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ مذکورہ حدیث متصل سند سے مروی ہے اور اس میں تدلیس کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔
واللہ أعلم۔
مسلمانوں میں بھی ایسے کمزور خیال کے عوام موجود ہیں حالانکہ یہ اسلامی تعلیم کے سخت خلاف ہے۔
1۔
اس حدیث کا سبب ورود ان الفاظ میں بیان ہوا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک ستارہ ٹوٹا جس کی وجہ سے ماحول روشن ہوگیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے پوچھا: ’’دور جاہلیت میں جب ستارہ ٹوٹتا تھا تو تم کیا خیال کرتے تھے؟‘‘ انھوں نے عرض کی: ویسے تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں لیکن ہمارے خیال کے مطابق جس رات کوئی بڑا آدمی پیدا ہوتا یا مر جاتا تو یہ کیفیت پیدا ہوتی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایسا نہیں ہے کہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے ستارہ ٹوٹتا ہو، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمانوں میں کرتا ہے۔
۔
۔
‘‘ (صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5819(2229)
2۔
بہرحال آیت کے سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت شفاعت کے سلسلے میں ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اسکے ہاں سفارش اسے فائدہ دے سکتی ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ خود اجازت دے۔
‘‘ (سبا 34: 23)
سفارش اللہ کی بارگاہ میں اتنی عالی مرتبہ اور بڑی چیز ہے کہ وہاں اللہ کی اجازت کے بغیر مقرب فرشتوں کو دم مارنے کی ہمت ہوتی ہے اور نہ کسی اوربڑی شخصیت ہی کو۔
وہاں تو یہ عالم ہے کہ فرشتے اللہ کا حکم سن کر بے ہوش ہو جاتے ہیں۔
واللہ اعلم۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب اللہ آسمان پر کسی معاملے کا حکم و فیصلہ صادر فرماتا ہے تو فرشتے عجز و انکساری کے ساتھ (حکم برداری کے جذبہ سے) اپنے پر ہلاتے ہیں۔ ان کے پر ہلانے سے پھڑپھڑانے کی ایسی آواز پیدا ہوتی ہے تو ان زنجیر پتھر پر گھسٹ رہی ہے، پھر جب ان کے دلوں کی گھبراہٹ جاتی رہتی ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں: تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں: حق بات کہی ہے۔ وہی بلند و بالا ہے “، آپ نے فرمایا: ” شیاطین (زمین سے آسمان تک) یکے بعد دیگرے (اللہ کے احکام اور فیصلوں کو اچک کر ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3223]
وضاحت:
1؎:
یہ ارشاد باری تعالیٰ ﴿وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَن قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ﴾ (سبأ: 23) کی طرف اشارہ ہے۔
اس سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی حدیث ۱؎ روایت کی اس کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے قول «حتى إذا فزع عن قلوبهم» ” یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے “ (سورۃ سبا: ۲۳) ۲؎ سے یہی مراد ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3989]
لفظ (فزع) ف کے ضمہ زا مشدد کے کسرہ کےساتھ ہے۔
جبکہ ایک قراءت میں مروی ہے۔
(یعنی ر غیر منقوط اور غ منقوط کےساتھ۔
) ابن عامر اور یعقوب کی قراءت میں (زمنقوط کےساتھ) (عربی میں لکھا ہے) بصیغہ ماضی آیا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی فیصلہ صادر فرماتا ہے تو فرشتے اس کے فرمان کی تابعداری میں بطور عاجزی اپنے بازو بچھا دیتے ہیں، جس کی آواز کی کیفیت چکنے پتھر پر زنجیر مارنے کی سی ہوتی ہے، پس جب ان کے دلوں سے خوف دور کر دیا جاتا ہے تو وہ باہم ایک دوسرے سے کہتے ہیں: تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ جواب دیتے ہیں: اس نے حق فرمایا، اور وہ بلند ذات والا اور بڑائی والا ہے “، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” چوری سے باتیں سننے والے (شیاطین) جو اوپر تلے رہتے ہیں اس کو سنتے ہیں، اوپر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 194]
اللہ تعالیٰ کا کلام آواز و الفاظ سے ہوتا ہے جسے فرشتے سنتے ہیں۔
(2)
فرشتے اللہ کی عظمت و کبرائی کا شعور رکھتے ہیں، اس لیے وہ اللہ کا کلام سن کر فروتنی کا اظہار کرتے ہیں۔
لیکن انسان کو اللہ تعالیٰ کے احکام سن کر زیادہ لرزاں و ترساں رہنا چاہیے کیونکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے زیادہ مرتبہ ومقام عطا کیا ہے۔
(3)
اوپر والے جِن نیچے والوں جنوں کو وہ بات بتاتے ہیں جو انہوں نے اپنے اوپر موجود فرشتوں سے سنی ہوتی ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کلام اوپر سے نازل ہوتا ہے۔
اس سے اللہ تعالٰی کا علو اور اوپر ہونا ثابت ہوتا ہے۔
اللہ تعالٰی کا اپنی ذات کے ساتھ ہر جگہ موجود ہونے کا تصور درست نہیں، البتہ اپنے علم کے اعتبار سے وہ ہر جگہ ہے، یعنی ہر چیز سے وہ باخبر ہے۔
(4)
جنوں کو بھگانے کے لیے شعلے مارے جاتے ہیں، یہ شعلے جنوں کو تباہ بھی کر سکتے ہیں۔
(5)
کاہنوں اور نجومیوں کا تعلق شیاطین سے ہوتا ہے اس لیے علم نجوم، جوتش وغیرہ سب شیطانی علوم ہیں۔
مسلمانوں کو ان پر یقین نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ ایسی چیزوں کے مطالعہ سے پرہیز کرنا چاہیے۔
(6)
کاہنوں اور نجومیوں کی باتیں اکثر غلط اور جھوٹ ہوتی ہیں، کبھی کوئی بات صحیح نکل آتی ہے اور وہ بھی وہ بات ہے جو کسی شیطان نے کسی فرشتے سے سن کر نجومی کو بتا دی ہوتی ہے، اس لیے ان پر اعتماد کرنا درست نہیں، بلکہ سخت گناہ ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی نجومی (یا رَمَّال)
کے پاس گیا اور اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا، اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی۔ (صحيح مسلم، السلام، باب تحريم الكهانة واتيان الكهان، حديث: 2230)
اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کا کلام کرنا ثابت ہوتا ہے، اس پر ہمارا ایمان ہے، اس کی کیفیت کو ہم نہیں جانتے، نیز اس حدیث میں فرشتوں کا آپس میں بات کرنا بھی ثابت ہوتا ہے۔
نیز شیطانوں کی اسلام سے دشمنی کی انتہا ثابت ہوتی ہے، کہ ظالم شیطان اللہ تعالیٰ کی باتیں معلوم کرنے کی خاطر کتنی کوشش کرتے ہیں۔
نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ کاہن و جادوگر شیطان کی پیروی کرتے ہیں، اور یہ شیطان کے آلۂ کار بنے ہوئے ہیں، ان کی گمراہیاں امت مسلمہ پر بالکل واضح ہو چکی ہیں، افسوس کہ لوگ پھر بھی ان شیطانوں کے ساتھ غلط مقاصد کی غرض سے چمٹے ہوئے ہیں۔