صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ} : باب: آیت کی تفسیر یعنی ”اللہ ایمان والوں کو اس کی پکی بات کی برکت سے مضبوط رکھتا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی“۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُسْلِمُ إِذَا سُئِلَ فِي الْقَبْرِ ، يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ : يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27 " .´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے علقمہ بن مرثد نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ میں نے سعد بن عبیدہ سے سنا اور انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان سے جب قبر میں سوال ہو گا تو وہ گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ” اللہ ایمان والوں کی اس پکی بات ( کی برکت ) سے مضبوط رکھتا ہے ، دنیوی زندگی میں ( بھی ) اور آخرت میں ( بھی ) “ کا یہی مطلب ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
یااللہ! تو مجھ ناچیز کو اور میرے تمام ہمدردان کرام کو قبر کے سوالات میں ثابت قدمی عطا فرمایؤ۔
امید ہے کہ اس جگہ کا مطالعہ کرنے والے ضرور مجھ گنہگار کی نجات اخروی وقبر کی ثابت قدمی کے لئے دعا کریں گے۔
سند میں مذکور حضرت براء بن عازب ابو عمارہ انصاری حارثی ہیں۔
بعد میں کوفہ میں آبسے تھے۔
24ھ میں انہوں نے رے نامی مقام کو فتح کیا۔
جنگ جمل وغیرہ میں حضرت علی ؓ کے ساتھ رہے۔
حضرت مصعب بن زبیر کے زمانہ میں کوفہ میں انتقال فرمایا۔
رضي اللہ عنهم أجمعین۔
1۔
مومن کلمہ طیبہ کی برکت سے مرتے دم تک ایمان پر قائم رہتا ہے اور قبرمیں بھی اللہ کی تائید سے اسی کلمے پر قائم رہے گا اور لا اله الااللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دے گا، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ مذکورہ آیت عذاب قبر کے متعلق نازل ہوئی۔
(صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1369)
2۔
بہر حال جب کلمہ توحید کسی مومن کے دل میں رچ بس جاتا ہے اور اس کی جڑ پیوست ہو جاتی ہے اور وہ اپنی پوری زندگی اس کلمے کے تقاضوں کے مطابق ڈھال لیتا ہے تو اس سے اعمال صالحہ صادر ہوتے ہیں پھر ان کا فائدہ صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ آس پاس کا معاشرہ بھی ان سے فائدہ اٹھاتا ہے پھر یہی اعمال صالحہ آسمان کی بلندیوں تک جا پہنچتے ہیں۔
(1)
ایک روایت میں ہے کہ مسلمان سے جب قبر میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ کلمہ شہادت پڑھتا ہے، اس آیت کریمہ کا یہی مطلب ہے۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4699)
ایک طویل روایت میں ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عذاب قبر سے پناہ طلب کیا کرو، کیونکہ جب اس میں میت کو دفن کیا جاتا ہے تو اس میں روح کا اعادہ کیا جاتا ہے، پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں جو اسے بٹھا کر سوال کرتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ مومن جواب دیتا ہے: میرا رب اللہ ہے۔
وہ دریافت کرتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ وہ بتاتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔
پھر وہ سوال کرتے ہیں کہ جو آدمی تمہاری طرف مبعوث ہوا اس کے متعلق تیرا خیال ہے؟ وہ بتاتا ہے کہ وہ اللہ کے رسول اور فرستادہ ہیں۔
پھر کہتے ہیں کہ تجھے یہ معلومات کہاں سے حاصل ہوئیں؟ تو وہ جواب دیتا ہے کہ میں نے اللہ کی کتاب قرآن عظیم کو پڑھا تو میں نے اس پر یقین کیا اور اسے سچا خیال کیا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ وہ قول ثابت کے ذریعے سے انہیں ثابت قدم رکھتا ہے، اس کا یہی مطلب ہے۔
اس کے بعد جب کافر کو بٹھا کر سوال کیے جاتے ہیں تو وہ جواب میں کہتا ہے: ہائے افسوس! مجھے کوئی علم نہیں ہے۔
(سنن أبي داود، السنة، حدیث: 4753، و فتح الباري: 297/3، 298) (2)
کرمانی نے کہا کہ اس آیت کریمہ میں عذاب قبر کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
شاید مومن کے قبر میں احوال کو عذاب کہا گیا ہے اور تخویف و انذار کے لیے کافر کے فتنے کو مومن کے فتنے پر غلبہ دیا ہے یا فرشتوں کا قبر میں آنا ہی مومن کو ہیبت میں ڈالتا ہے مومن کے لیے یہی عذاب قبر ہے۔
(فتح الباري: 293/3)
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ” اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں، قول ثابت (محکم بات) کے ذریعہ دنیا و آخرت دونوں میں ثابت قدم رکھتا ہے “ (ابراہیم: ۲۷)، کی تفسیر میں فرمایا: ” ثابت رکھنے سے مراد قبر میں اس وقت ثابت رکھنا ہے جب قبر میں پوچھا جائے گا: «من ربك؟» تمہارا رب، معبود کون ہے؟ «وما دينك؟» تمہارا دین کیا ہے؟ «ومن نبيك؟» تمہارا نبی کون ہے؟ “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3120]
وضاحت:
1؎:
اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں، قول ثابت (محکم بات) کے ذریعہ دنیاوآخرت دونوں میں ثابت قدم رکھتا ہے (ابراہیم: 27)
2؎:
مومن بندہ کہے گا: میرارب (معبود) اللہ ہے، میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مسلمان سے جب قبر میں سوال ہوتا ہے اور وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔“ تو یہی مراد ہے اللہ کے قول «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت» ” اللہ ایمان والوں کو پکی بات کے ساتھ مضبوط کرتا ہے “ (سورۃ ابراہیم: ۲۷) سے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4750]
قبر کے سوال وجواب کا مسئلہ قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیت میں بیان ہوا ہے اور متعدد صحیح احادیث میں وارد ہے، اس لئے اس کا انکار کفر ہے۔
«. . . عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُسْلِمُ إِذَا سُئِلَ فِي الْقَبْرِ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَذَلِكَ قَوْلُهُ (يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَة) وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: (يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِت) نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ يُقَالُ لَهُ: مَنْ رَبك؟ فَيَقُول: رَبِّي الله ونبيي مُحَمَّد . . .»
”. . . سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس وقت مردے سے قبر میں دریافت کیا جاتا ہے (کہ تیرا رب کون ہے اور نبی کون ہیں؟) تو وہ گواہی دیتا ہے کہ میرا رب ایک اکیلا معبود ہے اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور یقیناًً محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔“ یہی اس آیت کریمہ کا مطلب ہے کہ ایمانداروں کو اللہ تعالیٰ پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔۔۔۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روایت میں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آیت کریمہ «يثبت الله» الخ عذاب قبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ میت سے قبر میں پوچھا جاتا ہے کہ تیرا رب کون ہے؟ مومن جواب دیتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور میرے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 125]
فقہ الحدیث:
➊ عذاب قبر برحق ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے: ماہنامہ الحدیث:41 ص 15
➋ قبر میں تین سوالات کئے جاتے ہیں۔ تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ اور آپ (محمد صلی اللہ علیہ و سلم) کے بارے میں تو کیا کہتا تھا؟
➌ حدیث قرآن کی شرح و بیان ہے۔
اس حدیث میں روز قیامت کی شدت کا تذکرہ ہے کہ اس دن ہر چیز حتٰی کہ زمین بھی بدل دی جائے گی۔ نیز اس حدیث میں پل صراط کا ثبوت بھی ہے، اور یہ وہ مقام ہے جہاں سے ہر کسی کو گزر کر جانا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا» [19-مريم:71]۔ احادیث قرآن کریم کی تفسیر ہیں، ان کے بغیر قرآن کو سمجھنا ناممکن ہے۔