صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ قَوْلِهِ: {فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاَّتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدْتُنَّ يُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ قُلْنَ حَاشَى لِلَّهِ} : باب: آیت کی تفسیر ”پھر جب قاصد ان کے پاس پہنچا تو یوسف علیہ السلام نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ چھری سے زخمی کر لیے تھے۔ بیشک میرا رب ان عورتوں کے فریب سے خوب واقف ہے (بادشاہ نے) کہا (اے عورتو!) تمہارا کیا واقعہ ہے جب تم نے یوسف علیہ السلام سے اپنا مطلب نکالنے کی خواہش کی تھی، وہ بولیں حاشاللہ! ہم نے یوسف علیہ السلام میں کوئی عیب نہیں دیکھا“۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا ، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ ، لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ ، وَنَحْنُ أَحَقُّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ ، إِذْ قَالَ لَهُ : أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي سورة البقرة آية 260 .´ہم سے سعید بن تلید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا ، ان سے بکر بن مضر نے ، ان سے عمرو بن حارث نے ، ان سے یونس بن یزید نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ لوط علیہ السلام پر اپنی رحمت نازل فرمائے کہ انہوں نے ایک زبردست سہارے کی پناہ لینے کے لیے کہا تھا اور اگر میں قید خانے میں اتنے دنوں تک رہ چکا ہوتا جتنے دن یوسف علیہ السلام رہے تھے تو بلانے والے کی بات رد نہ کرتا اور ہم کو تو ابراہیم علیہ السلام کے بہ نسبت شک ہونا زیادہ سزاوار ہے ۔ جب اللہ پاک نے ان سے فرمایا «أولم تؤمن قال بلى ولكن ليطمئن قلبي» کہ کیا تجھ کو یقین نہیں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں یقین تو ہے پر میں چاہتا ہوں کہ اور اطمینان ہو جائے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں سیدنا یوسف ؑ کے صبرو تحمل کی تعریف فرمائی ہے کہ انھوں نے جبل میں لمبی مدت رہنے کے باجود بھی جلد بازی سے کام نہیں لیا۔
بلکہ صبرو عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ چاہا کہ میرے ناجائز اور ظلم وستم پر مبنی جبل میں رہنے کی خوب وضاحت ہو جائے۔
نبی ﷺ نے (لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ)
کہہ کر اپنی عبودیت کاملہ اور انکسار کا اظہار فرمایاہے۔
2۔
بہر حال حضرت یوسف ؑ نے جب دیکھا کہ بادشاہ مصر اب مائل بہ کرم ہے تو انھوں نے اس طرح محض بادشاہ مصر کی عنایت سے آزاد ہونا پسند نہیں فرمایا بلکہ اپنے کردار کی رفعت اور پاک دامنی کے اثبات کو ترجیح دی تاکہ دنیا کے سامنے آپ کے کردار کا حسن اور اس کی بلندی واضح ہو جائے کیونکہ داعی الی اللہ کے لیے عفت و پاک بازی اور بلندی کردار بہت ضروری ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں اسی کردار کو سراہا ہے۔
3۔
اس کردار سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مکرو فریب کا اثر محدود اور عارضی ہوتا ہے بالآخر جیت حق اور اہل حق کی ہوتی ہے اگرچہ عارضی طور پر اہل حق کو ابتلاء وآزمائش سے گزرنا پڑتاہے۔
واللہ المستعان۔
﴿قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ﴾ (یوسف: 33)
آیت سے بھی ان کے مقام رفعت و عظیم مرتبت کا اظہار ہوتا ہے۔
صلی اللہ علیه وسلم أجمعین۔
آمین۔
اللہ کے پیاروں کی یہی شان ہوتی ہے۔
1۔
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے سیدنایوسف ؑ کی تعریف فرمائی ہے کہ انھوں نے اپنی براءت کا صاف شاہی اعلان ہوئے بغیر جیل خانہ چھوڑنا پسند نہیں فرمایا۔
حضرت یوسف ؑ نے اللہ سے دعا کی تھی۔
’’اے میرےپروردگار! جس چیز کی طرف مجھے مصر کی عورتیں بلا رہی ہیں اس سے تو مجھے قید ہی پسند ہے‘‘ (یوسف: 12۔
33)
2۔
حضرت یوسف ؑ نے جب خواب کی تعمیر اور اس سے بچنے کی تدبیر بتائی عزیز مصر عش عش کر اٹھا۔
کہنے لگا۔
ایسے شخص کو میرے پاس لایا جائے تاکہ میں اس کی زیارت سے فیض یاب ہو سکوں لیکن یوسف ؑ نے قیدسے باہرآنے سے انکار کر دیا، مقصد یہ تھا کہ جب تک اس جرم کی تحقیق نہ کی جائے اور پوری طرح میری بریت واضح نہ ہو جائے میں قید سے باہر آنے کو تیار نہیں ہوں کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ کسی ناواقف کے دل میں یہ شائبہ تک نہ رہے کہ شاید اس معاملے میں یوسف کا بھی کچھ قصور تھا۔
3۔
رسول اللہ ﷺ نے انکسار اور تواضع کے طور پر ایسا فرمایا۔
بصورت دیگر آپ تو عزم و استقلال کے پہاڑ تھے۔
۔
۔
صلی اللہ علیه وسلم۔
یعنی اللہ پاک لوط ؑ کی مغفرت فرمائے۔
ان کا سہارا تو بہت ہی مضبوط تھا یعنی اللہ پاک ان کا سہارا تھا‘ گویا آنحضرت ﷺ نے ارشاد باری تعالیٰ لو ان لی بکم قوۃ الایۃ کی طرف اشارہ فرمایاہے۔
کہا جاتا ہے کہ قوم لوط میں کوئی بھی نسبی آدمی لوط سے متعلق نہیں تھا اس لئے کہ اس بستی والے سدوم سے تھے جو شام سے ہے اور ابراہیم ؑ اور لوط ؑ کی اصل نسل عراق والوں سے تھی جب حضرت ابراہیم ؑ نے شام کی طرف ہجرت کی تو حضرت لوط علیہ السلام نے بھی ان کے ساتھ ہجرت کی۔
پھر اللہ نے حضرت لوط ؑ کو سدوم والوں کی طرف مبعوث فرمایا۔
اسی لئے انہوں نے یہ جملہ کہا کہ اگر میرے بھی مددگار ‘ اقارب و اعزہ اور خاندان والے ہوتے تو میں ان سے تمہارے مقابلے پر مدد حاصل کرتا تاکہ وہ میرے مہمانوں سے تم کو دفع کرتے۔
اسی لئے بعض روایات میں مروی ہے کہ بلاشک حضرت لوط اپنی مدد کے لئے ایک اپناخاندان رکھتے تھے لیکن انہوں نے ان کی پناہ نہیں لی بلکہ اللہ پاک کی طرف پناہ حاصل کی۔
قوم لوط اور ان کی بدکرداریوں کا تذکرہ قرآن مجید میں کئی جگہ ہوا ہے۔
بد اخلاقی اور بے ایمانی میں یہ قوم بڑھ گئی تھی۔
اللہ پاک نے ان کی بستیوں کو نیست ونابود کردیا۔
کہا جاتا ہے کہ جہاں آج بحیرئہ مردار واقع ہے اسی جگہ اس قوم کی بستیاں تھیں۔
واللہ أعلم۔
1۔
رسول اللہ ﷺ کا اشارہ اس آیت کریمہ کی طرف تھا۔
’’لوط نے کہا: کاش! میں تمھارا مقابلہ اپنی قوت بازو سے کر سکتا یا کسی مضبوط سہارے کی طرف پناہ لے سکتا‘‘ (ھود: 80/11)
جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے انھیں علاقہ سدوم کی طرف دعوت و تبلیغ کے لیے روانہ کیا۔
وہاں آپ غریب الدیار تھے کیونکہ یہ بستی شام علاقے میں تھی اور آپ عراق کے رہائشی تھے نیز وہاں ان کے خاندان کاکوئی فرد نہ تھا صرف ایک بیوی وہ بھی در پردہ قوم کے ساتھ تھی اور حضرت لوط ؑ سے انتہائی بے وفا تھی۔
جب قوم لوط ؑ کے مہمانوں کے ساتھ بدتمیزی کرنے پر اتر آئی تو انھوں نے کہا: کاش!میرے پاس ذاتی قوت ہوتی یا میرا یہاں کوئی خاندان یا قبیلہ ہوتا جو آج میری عزت کا دفاع کرتا۔
اس کے بعد جتنے بھی نبی مبعوث ہوئے ہیں وہ بڑے جتھے اور قبیلے والےتھے۔
غالباً قوم شعیب نے خاندانی اثر و رسوخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔
’’اگر تمھاری برادری نہ ہوتی تو ہم تمھیں سنگسار کر دیتے۔
‘‘ (ھود: 91/11)
2۔
امام نووی ؒ فرماتے ہیں: ’’جب حضرت لوط ؑ اپنے مہمانوں کا حال دیکھ کر گھبرائے تو اس وقت فرمایا وہ کسی مضبوط سہارے کی پناہ لینا چاہتے ہیں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ انھوں نے در پردہ اللہ کی پناہ ہی حاصل کی ہو لیکن معذرت خواہی کے طور پر مہمانوں کے سامنے یہ کلام ظاہر کیا ہو۔
اس کے بعد فرشتے بھی خاموش نہ رہ سکے اور کہنے لگے۔
آپ اتنے پریشان نہ ہوں ہم لڑکے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔
یہ لوگ ہمیں چھیڑنا تو درکنار تمھارا بھی کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔
جب رات کا کچھ حصہ گزر جائے تو آپ اپنے گھر والوں کو لے کر اس بستی سے نکل جائیں اور تم میں سے کوئی بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے البتہ تمھاری بیوی پر وہی کچھ گزر نا ہے جو ان پر گزرے گا ان پر عذاب کے لیے صبح کا وقت مقرر ہو چکا ہے چنانچہ پھر انھیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔
‘‘
کو اسباب باطنہ (اللہ پر اعتماد و توکل)
پر ترجیح دی اور ان پر بھروسہ کیا، اس لیے آپ نے فرمایا، اللہ لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے، ان کو معاف کرے۔